بینظیر قتل کیس میں بھی مشرف گرفتار سابق صدر کے معاملے میں انصاف کرینگے سپریم کورٹ

جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کا فیصلہ آج ہو گا، ایک دن حاضری سے معافی کی درخواست منظور

مشرف کے وکیل کا چیف جسٹس پر جانبداری اور تعصب کا الزام، 31جولائی 2009کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا ،دوران سماعت ججز اور قصوری میں جھڑپ فوٹو فائل

SWAT:
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس خواجہ امتیاز احمد اور جسٹس عبدالسمیع خان پر مشتمل ڈویژن نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی بینظیر بھٹو شہادت کیس میں عبوری ضمانت خارج کر دی۔

جس کے ساتھ ہی ملزم پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو قتل کیس میں بھی باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا، اس کیس میں ان کے جسمانی ریمانڈ یا جوڈیشل ریمانڈ کا فیصلہ آج جمعرات کو کیا جائے گا، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملزم پرویز مشرف کو ہائی کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا، ان کے وکلاء سلمان صفدر، سید منور عابد، افشاں عادل ایڈووکیٹس کی طرف سے عدالت میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حاضری سے مستشنیٰ قرار دینے، ضمانت میں توسیع دینے کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ عدالت نے ایک دن کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی جبکہ عبوری ضمانت میں توسیع کی استدعا مسترد کر دی۔

جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے ملزم پرویز مشرف کی وکیل افشاں عادل سے کہا کہ عدالت اس کیس کا فیصلہ کرے گی، توسیع نہیں دی جا سکتی، ضمانت کی درخواست پر بحث کی جائے، عدالت میرٹ پر فیصلہ سنائے گی۔ افشاں عادل کا موقف تھا کہ سینئر وکیل موجود نہیں ہیں اس لیے التواء دیا جائے۔ جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے کہا کہ آپ کے موکل (پرویز مشرف) پہلے ہی ایک کیس میں گرفتار ہوچکے ہیں اب آپ کو اس کیس میں عبوری ضمانت کا کوئی فائدہ نہیں، آپ ضمانت کی درخواست واپس لے لیں، یہ نہ سوچیں یہ پرویز مشرف کا کیس ہے، عام کیسوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ کوئی ملزم کسی دوسرے کیس میں گرفتار ہوجائے تو دوسرے کیس کی ضمانت کی درخواست غیر موثر ہوجاتی ہے۔

ثنا نیوز کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ وہ پرویز مشرف کو ایک عام ملزم کے طور پر دیکھے گی۔ نامہ نگار خصوصی کے مطابق سینئر سرکاری پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی نے کہا کہ عدالت نے یہ ضمانت 17 اپریل کو منظور کی تھی مگر آج تک ملزم نے ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے اس وجہ سے بھی یہ ضمانت غیر موثر ہوچکی ہے۔ بی بی سی کے مطابق سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ دنیا کی عدالتی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک اشتہاری مجرم کو ضمانت قبل از گرفتاری دی گئی ہو۔

ثنا نیوز کے مطابق چوہدری ذوالفقار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پرویز مشرف کی گرفتاری کے لئے درخواست کی ضرورت نہیں وہ پہلے ہی گرفتار ہیں، غیر معمولی ریلیف اس شخص کو دیا جاتا ہے جو معصوم ہو جبکہ پرویز مشرف کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے پرویز مشرف کی بے نظیر قتل کیس میں مدد ثابت ہوتی ہے۔ نامہ نگار خصوصی کے مطابق ملزم پرویز مشرف کی وکیل افشاں عادل نے کہا کہ پرویز مشرف کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے بھی غلط فیصلہ دیا ہے، پرویز مشرف قانون پسند آدمی ہیں ۔



 

سید منور عابد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف ججز نظر بندی، بینظیر بھٹو قتل، بگٹی کیس من گھڑت اور جھوٹے ہیں، کسی بھی کیس میں کوئی گواہ موجود نہیں، فرضی کہانیاں بنائی گئی ہیں ہم تمام کیسوں میں ان کا بھرپور دفاع کریں گے۔سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کیلیے دائر درخواستوں کی سماعت آج (جمعرات) تک ملتوی کر دی جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت پرویز مشرف کے معاملے میں انصاف کرے گی، جو بھی ہو گاآئین اور قانون کے مطابق ہی ہو گا، انصاف سے کون خوش ہوتا ہے اور کون ناراض اس سے عدالت کو کوئی غرض نہیں جبکہ پرویز مشرف کے وکیل نے ایک دفعہ پھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر جانبداری اور تعصب کا الزام عائد کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ بغاوت کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ کی درخواست کا فیصلہ سپریم کورٹ کے سنیئر ترین جج کو کرنا چاہئے۔


31جولائی 2009کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اس 14رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدی نے کی تھی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے موقف اپنایا کہ اس کیس میں واقعات 9 مارچ 2007سے شروع ہوتے ہیں جب چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کو معزول کرنے کا معاملہ ہوا تھا، اسی وجہ سے چیف جسٹس اس معاملے میں غیر جانبدار نہیں ہوسکتے۔

انھوں نے عدالتی فیصلوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہاکہ جس جج سے متعلق کسی بھی قسم کے تعصب کا اشارہ ملتا ہو اسے وہ مقدمہ نہیں سننا چاہئے، اسی وجہ سے 31جولائی 2009 کے فیصلے پر بھی حرف آئے گا کیونکہ وہ فیصلہ چیف جسٹس نے خود تحریر کیا تھا اور وہ بینچ میں شامل تھے اور اس میں پرویزمشرف کے خلاف حکم دیا گیا ہے، اس فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے، چیف جسٹس ان کے موکل کے خلاف ذاتی عناد رکھتے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم نے صرف آئین و قانون کے مطابق چلنا ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ سابق صدر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس میں جو الزامات لگائے ان کی آج تک تردید نہیں کی گئی۔

ہم نے لارجر بنچ تشکیل دینے کی درخواست دی ہے۔ جسٹس جواد نے کہاکہ بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔ وکیل کا کہنا تھاکہ ایسا سپریم کورٹ کے قواعد کے تحت ہے، آئین اس حوالے سے خاموش ہے۔ جسٹس جواد نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی کیلیے ایسا کیا گیا ہے۔ وکیل نے کہاکہ ان کے خیال میں بہت سے عدالتی فیصلوں میں تعصب کا خیال رکھتے ہوئے بنچ سے ججوں کے الگ ہونے کی مثالیں موجود ہیں، حوالے پیش نہ کرنے پر عدالت نے ابراہیم ستی ایڈوکیٹ کو تمام حوالہ جات طلب پیش کرنے کی ہدایت کی۔ جسٹس جواد نے ابراہیم ستی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ خیالات سے نہیں کیس کا حوالہ دے کر دلائل دیں۔ ثنا نیوز کے مطابق ابراہیم ستی نے دلائل میں کہا کہ پرویز مشرف والدہ کی تیمارداری کے لئے باہر جانا چاہتے ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آپ کے موکل کی ہر قانونی مدد کرینگے، یہ عدالت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ انصاف فراہم کرے اور پرویز مشرف کو کسی بھی قسم کے تعصب کا شکار نہ ہونے دے، آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا چاہے اس فیصلہ سے کوئی خوش ہوتا ہے، ڈرتا ہے یا تسکین پاتا ہے یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عدالت انصاف کرے گی کیس میں انصاف کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا عدالت صرف آئین اور قانون کے مطابق چلے گی۔ جسٹس جواد نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ اپنے موکل کی مدد کریں ورنہ عدالت مدد کرے گی تو اس سے پرویز مشرف کو انصاف کے حصول میں مشکل پیش آئے گی۔ ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر الزام ہے کہ انہوں نے ججز کو کام نہیں کرنے دیا ۔

1999 ء سے 2000 ء تک ججز کو نہیں چھیڑا گیا کسی مداخلت کے بغیر ججز اپنا کام کرتے رہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ تعصب والے جج کو بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ جسٹس خلجی نے ابراہیم ستی سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ موجودہ بنچ میں کوئی ایسا جج تو نہیں جس کو ان کے موکل سے تصب ہو۔ دوران سماعت ابراہیم ستی صدر آصف زرداری کو آصف بھٹو کہہ گئے جس پر جسٹس جواد خواجہ نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے تصیحیح کرائی کہ وہ آصف زرداری ہیں بھٹو نہیں۔ ابرہیم ستی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف زیرحراست ہیں، ان کی کسی ریکارڈ تک رسائی نہیں اور نہ ہی ریکارڈ کی مصدقہ نقول مل رہی ہیں اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ اپنے موکل کی مدد نہیں کر سکتے تو عدالت مدد کرے گی۔

آئین کے تحت پرویز مشرف کو انصاف دینا عدالت کا فرض ہے، عدالت آئین سامنے رکھ کر فیصلہ کرے گی چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔ ابراہیم ستی نے کہا کہ سن دو ہزار تک مشرف نے کسی جج کو بھی نہیں چھیڑا، ان کے حلف کے بعد بھی ججز نے اپنا کام جاری رکھا، جسٹس افتخار محمد چودھری نے 2000 میں پی سی او حلف لیا، نو مارچ 2007 کو چیف جسٹس پرویز مشرف کیخلاف ہوگئے، چیف جسٹس نے بھی بیان حلفی میں پرویز مشرف پر ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے، 13 ججز نے ریفرنس سنا اور فیصلہ دیا کہ ریفرنس کا جواز نہیں بنتا اور یہ ذاتی نوعیت کا ہے، ان مشکلات کے نتیجہ میں تین نومبر کا اقدام ہوا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم آپ کی بات سمجھ گئے ہیں کہ عدالت 31 جولائی 2009 کے فیصلے پر انحصار نہ کرے۔

ابراہیم ستی نے تعصب اور شفاف ٹرائیل کے حوالے سے دلائل مکمل کر لئے۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کی سماعت کے دوران ججز اور احمد رضا قصوری کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ مشرف کیس ایک سابق صدر اور سابق آرمی چیف کا کیس ہے اس بناء پر زیادہ اہمیت کا حامل نہیں، ہمارے لئے تو اڑھائی مرلے کے شفعہ کا کیس بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے اس پر احمد رضا قصوری برہم ہوگئے اور کہا کہ یہ اڑھائی مرلے کا کیس نہیں ساری دنیا دیگر واقعات کو چھوڑ کر اس معاملے کی جانب دیکھ رہی ہے، انتخابات کی خبریں ثانوی حیثیت اختیار کرچکی ہیں آپ اس کیس کو اڑھائی مرلے کا کیس کہہ کر اس کی اہمیت کو کم نہیں کرسکتے۔

آپ نے جس طرح ریمارکس دئیے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کیس کی سماعت میں عدالت کو کوئی دلچسپی نہیں اس پر ججز نے انہیں خاموش کرادیا اور کہا کہ جب آپ کی باری آئے تو آپ دلائل دیں۔ کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔ ثنا نیوز کے مطابق سماعت ملتوی ہوئی تو وکیل احمد رضا قصوری عدالت میں کھڑے ہوگئے اور زور زور سے بولنا شروع کردیا۔ احمد رضاقصوری نے کہاکہ اس کیس کو ساری دنیا دیکھ رہی ہے، عدالت اس مقدمے کی اہمیت کو کم کر رہی ہے ، ایسا نہ کیا جائے، اس سے لگتا ہے کہ جج سنجیدگی سے مقدمہ نہیں سن رہے۔ جسٹس جواد نے کہاکہ نوابزادہ صاحب، آپ نوابزادہ ہونگے لیکن عدالت کے سامنے سب برابر ہیں۔
Load Next Story