سابق مشیروزیراعظم غلام مرتضیٰ ستی کو الیکشن لڑنیکی اجازت

ہائیکورٹ نے چوہدری وجاہت کو انتخابات میں حصہ لینے کے مشروط حکم میں کل تک توسیع کردی

بینک ڈیفالٹرز کی نااہلی کی درخواست میں ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب کو فریق بنانیکی ہدایت فوٹو: فائل

KARACHI:
لاہور ہائیکورٹ کے3رکنی فل بینچ نے سابق مشیروزیراعظم غلام مرتضی ستی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔

غلام مرتضی ستی نے بتایا کہ الیکشن ٹریبونل نے سرکاری عہدہ چھوڑنے کی دوسال کی مدت پوری نہ ہونے پرنااہل قرار دیا حالانکہ بطورمشیر انھوں نے مراعات اورتنخواہ نہیں لیں۔ عدالت نے چوہدری وجاہت حسین کو مشروط طور پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کے حکم میں کل تک توسیع کردی، چوہدری وجاہت حسین کے وکلا نے بتایا کہ بینکوں سے قرضے کے تمام معاملات کلیئر ہو چکے ہیں، مخالف امیدوار کی جانب سے بتایاگیا چوہدری وجاہت نے240 ملین کے قرضے غیرقانونی طور پر معاف کروائے۔




فاضل بینچ نے اسٹیٹ بینک سے ریکارڈ طلب کر لیا، دریں اثنا تحریک انصاف کے رہنما نصراللہ مغل کی نااہلی کیلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی، آصف رضابیگ نے موقف اختیار کیا کہ این اے 127سے امیدوار نصراللہ مغل نے ایک کروڑ روپے رشوت نہ دینے پرپی پی154سے انکا پارٹی ٹکٹ کسی اورامیدوارکو دیدیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن نے بنک ڈیفالٹرز،جعلی ڈگری ہولڈرز اور کرپٹ امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی پٹیشن میں ترمیمی درخواست دائر کر نے کی اجازت دیدی، درخواست گزار کے وکیل حنیف طاہر نے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلیے ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب سے مکمل تفصیلات حاصل نہیں کی گئیں۔

عدالت نے پٹیشن میں متعلقہ اداروں کو فریق بنانے کی ہدایت کردی، دریں اثنا قومی اورصوبائی اسمبلی کے حلقوں سے ایک سے زیادہ امیدواروں کی جانب سے الیکشن لڑنے کے اقدام کولاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیا، درخواست گزار ریاض بھٹی نے موقف اختیارکیاکہ یہ اقدام آرٹیکل223کی خلاف ورزی ہے۔
Load Next Story