شفاف انتخابات کی یقین دہانی
نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے یقین دلایا کہ ملک میں شفاف اور بر وقت انتخابات ہونگے۔
نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے یقین دلایا کہ ملک میں شفاف اور بر وقت انتخابات ہونگے۔ فوٹو: فائل
ملک میںجمہوریت نے ایک غیرمعمولی سنگ میل عبور کرلیا۔جمعہ کو نگراں وزیراعظم جسٹس(ر) ناصرالملک نے اپنے عہدہ کا حلف اٹھا لیا، ایوان صدر اسلام آباد میں تقریب حلف برداری ہوئی جس میں صدر ممنون حسین نے نگراں وزیراعظم کی حیثیت میں ان سے حلف لیا، تقریب حلف برداری میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی کابینہ کے ارکان سمیت قومی اسمبلی کے ارکان، سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان ، صوبائی گورنرز، ججوں اور مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے میڈیا نمائندوں سے مختصر بات چیت کی اور یقین دلایا کہ ملک میں شفاف اور بر وقت انتخابات ہونگے جس کے لیے الیکشن کمیشن کی مدد کی جائیگی۔ نگراں وزیراعظم کی اولین ترجیح اپنی کابینہ کی تشکیل ہوگی۔ تقریب حلف برداری سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو تینوں مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ادھر قومی اسمبلی 31مئی کی رات 12بجے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی، وزارت پارلیمانی امور نے 14ویں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ بھی سبکدوش ہو گئی، علاوہ ازیں پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں بھی گزشتہ روز اپنی مدت پوری کرتے ہوئے تحلیل جبکہ دونوں صوبائی حکومتیں بھی ختم ہو گئیں۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات ناکام ہوگئے اور اب پارلیمانی کمیٹی نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ کرے گی ' نئے عام انتخابات کے لیے نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے معاملے پر سندھ نے پیش رفت کی ہے جہاں سابق چیف سیکریٹری فضل الرحمن سندھ کو نگراں وزیراعلیٰ بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے ، پنجاب اور بلوچستان میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، تحریک انصاف نے پنجاب کے لیے ناصر درانی اور حسن عسکری کے نام دیدیے ہیں ، یاد رہے ناصر کھوسہ اور ناصر درانی نے پیشگی معذرت کرلی ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملکی مسائل بالخصوص سول عسکری تعلقات کے حوالے سے قومی مکالمہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں ہر ادارے کا کردار متعین ہے، عدلیہ اور نیب کے اقدامات کے باعث سرکاری افسر کوئی کام نہیں کر سکتا، ملکی مسائل پر ٹروتھ اینڈ ری کانسیلیشن کمیشن بنایا جائے جو ملک کی تاریخ کے بارے میں چھان بین کرے، انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہو گی، 2013ء کے مقابلے میں ملکی معیشت بہت بہتر ہے، جو معیشت ہم اگلی حکومت کو دے کر جائیں گے وہ اس سے بہت بہتر ہوگی جو ہمیں ملی تھی۔
پانچ سالہ دور میں جمہوریت پر بہت سے حملے ہوئے، اسمبلی توڑنے کی پیش گوئیاں ہوئیں، مغربی راہداری بلوچستان تک رسائی کا ذریعہ ہو گی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا آج جب یہ اسمبلی اپنی مدت پوری کر رہی ہے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ایوان کو احسن انداز میں چلایا اور غیرجانبداری کے نئے معیارات قائم کیے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم کی ٹروتھ کمیشن قائم کرنیکی تجویز کی تائید کردی۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا ٹروتھ کمیشن کا قیام جمہوریت کے استحکام کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ انھوں نے کہا گزشتہ برسوں میں ہمیں اگلے دن کا یقین نہیں ہوتا تھا کہ اسمبلی ہوگی یا نہیں، آج خوشی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کررہی ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے اور فتح بھی ایسی جس میں آزاد عدلیہ ایک نئے عہد کی بشارت دے چکی ہے، اسی عدالت عظمیٰ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کالعدم قرار دی ہے، دیگر بے شمار ہائی پروفائل کیسز زیر سماعت ہیں ابھی سیاست میں سبقت اور احتساب میں بریک تھرو کا فیصلہ کن معرکہ باقی ہے اور قوم کو یقین ہے کہ وہ اس میں بھی سرخرو رہے گی۔
یہ حقیقت ہے کہ ن لیگ کو جو عرصہ اقتدار ملا وہ ''من بے بس و طوفاں ہوشربا'' کے مصداق تھا ، مگر جمہوریت ناقابل شکست رہی ، درجنوں مسائل اور بحرانوں نے یکے بعد دیگرے داخلی وخارجی محاذوں پر سراٹھایا، دھرنوں ،احتجاجوں اور ملکی داخلی سیاسی صورتحال خاصی اعصاب شکن رہی، تاہم یہ کریڈٹ ان ہی سیاست دانوں کو جاتا ہے جنکے درمیان جوتیوں میں دال بھی بٹتی رہی ، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی گئی۔
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہونے کے نیم شائستہ و بے رحمانہ سماجی ماحول ، میڈیا ٹاکس ، مہنگائی ، بہیمانہ جرائم، سیاسی و عسکری تعلقات کے نشیب وفراز ، پاک امریکا و بھارت تعلقات ، کنٹرول لائن پر کشیدگی اور بلوچستان کی صورتحال نے قوم کو شدید ذہنی دباؤ کا شکاربنادیاہے لیکن کثیر جہتی پینڈورا باکس کھلنے کے باوجود وطن عزیز نے میموگیٹ،پاناما گیٹ، نیوز لیکس اور عدالتی فعالیت سمیت داخلی و خارجی مسائل کے تجربات سے استقامت کا عطر کشید کیا اور جمہوری عمل کو کوئی آنچ نہ آنے دی۔
جمہوریت کا یہی حسن اسے آمرانہ دور سے ممیز کرتا ہے جہاں اختلاف رائے، اظہار کی آزادی عوام میں جمہوری کمٹمنٹ کو دوآتشہ کردیتی ہے۔ چنانچہ آج کا ووٹر ماضی کے ووٹر سے مختلف ہے ، اسے عہد حاضر کے سیاسی ، سماجی اور معاشی تجربات کا شعور ہے، وہ آیندہ الیکشن میں سیاسی جماعتوں سے متعلق اپنے ان ہی تلخ و شیریں تجربات کا تاریخ ساز اظہار پولنگ بوتھ پر جاکر کریگا۔
بلاشبہ جمہوریت کو کمک عسکری قیادت کی طرف سے بھی بھرپور ملی، خدشات ظاہر کیے گئے کہ جمہوریت بس چند ہفتوں کی مہمان ہے، بن بلائے خلفشار نے آندھیوں کی صورت اختیار کی مگر جمہوریت کو نامساعد حالات میں بھی اپنی سخت جانی ثابت کرنا پڑی، یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔
ادھر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے قصور میں شہباز شریف اسپورٹس کمپلیکس کے افتتاح کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں لوڈشیڈنگ بحران پر قابو پایا گیا، 2012ء میں 20، 20گھنٹے بجلی جاتی تھی اور واپس نہیں آتی تھی لیکن ہم نے کئی سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کر کے 5ہزار میگا واٹ بجلی کے کارخانے صرف پنجاب میں لگائے، اب یہ بجلی پورے پاکستان کو جا رہی ہے ۔ تاہم نگراں حکومت کو ابھی بھی کئی مسائل کا سامنا ہوگا جن میں لوڈ شیڈنگ بھی شامل ہے، مہنگائی، پٹرولیم قیمتیں، بیروزگاری، سماج دشمن عناصر کی قانون شکنی ، الم ناک جرائم اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کی روک تھام نئے نگراں سیٹ اپ کے لیے ٹیسٹ کیس اور اعصاب شکن چیلنج ہونگے۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے درست کہا ہے کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سنہری دن ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں دوسری بار پارلیمنٹ نے مدت پوری کی ہے جبکہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہداﷲ خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے گذشتہ پانچ برس کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے جن میں گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے شروع کیے گئے منصوبے سرفہرست ہیں۔ بلاشبہ نگراں وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے سامنے ہرکولین ٹاسک کے پہاڑ کھڑے ہیں مگر جسٹس ناصرالملک پر بنیادی ذمے داری شفاف اور بروقت انتخابات کے انعقاد کی ہے۔
نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے میڈیا نمائندوں سے مختصر بات چیت کی اور یقین دلایا کہ ملک میں شفاف اور بر وقت انتخابات ہونگے جس کے لیے الیکشن کمیشن کی مدد کی جائیگی۔ نگراں وزیراعظم کی اولین ترجیح اپنی کابینہ کی تشکیل ہوگی۔ تقریب حلف برداری سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو تینوں مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
ادھر قومی اسمبلی 31مئی کی رات 12بجے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد تحلیل ہو گئی، وزارت پارلیمانی امور نے 14ویں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ بھی سبکدوش ہو گئی، علاوہ ازیں پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں بھی گزشتہ روز اپنی مدت پوری کرتے ہوئے تحلیل جبکہ دونوں صوبائی حکومتیں بھی ختم ہو گئیں۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات ناکام ہوگئے اور اب پارلیمانی کمیٹی نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ کرے گی ' نئے عام انتخابات کے لیے نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے معاملے پر سندھ نے پیش رفت کی ہے جہاں سابق چیف سیکریٹری فضل الرحمن سندھ کو نگراں وزیراعلیٰ بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے ، پنجاب اور بلوچستان میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، تحریک انصاف نے پنجاب کے لیے ناصر درانی اور حسن عسکری کے نام دیدیے ہیں ، یاد رہے ناصر کھوسہ اور ناصر درانی نے پیشگی معذرت کرلی ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملکی مسائل بالخصوص سول عسکری تعلقات کے حوالے سے قومی مکالمہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں ہر ادارے کا کردار متعین ہے، عدلیہ اور نیب کے اقدامات کے باعث سرکاری افسر کوئی کام نہیں کر سکتا، ملکی مسائل پر ٹروتھ اینڈ ری کانسیلیشن کمیشن بنایا جائے جو ملک کی تاریخ کے بارے میں چھان بین کرے، انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں ہو گی، 2013ء کے مقابلے میں ملکی معیشت بہت بہتر ہے، جو معیشت ہم اگلی حکومت کو دے کر جائیں گے وہ اس سے بہت بہتر ہوگی جو ہمیں ملی تھی۔
پانچ سالہ دور میں جمہوریت پر بہت سے حملے ہوئے، اسمبلی توڑنے کی پیش گوئیاں ہوئیں، مغربی راہداری بلوچستان تک رسائی کا ذریعہ ہو گی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا آج جب یہ اسمبلی اپنی مدت پوری کر رہی ہے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ایوان کو احسن انداز میں چلایا اور غیرجانبداری کے نئے معیارات قائم کیے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم کی ٹروتھ کمیشن قائم کرنیکی تجویز کی تائید کردی۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا ٹروتھ کمیشن کا قیام جمہوریت کے استحکام کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ انھوں نے کہا گزشتہ برسوں میں ہمیں اگلے دن کا یقین نہیں ہوتا تھا کہ اسمبلی ہوگی یا نہیں، آج خوشی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کررہی ہے، یہ جمہوریت کی فتح ہے اور فتح بھی ایسی جس میں آزاد عدلیہ ایک نئے عہد کی بشارت دے چکی ہے، اسی عدالت عظمیٰ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کالعدم قرار دی ہے، دیگر بے شمار ہائی پروفائل کیسز زیر سماعت ہیں ابھی سیاست میں سبقت اور احتساب میں بریک تھرو کا فیصلہ کن معرکہ باقی ہے اور قوم کو یقین ہے کہ وہ اس میں بھی سرخرو رہے گی۔
یہ حقیقت ہے کہ ن لیگ کو جو عرصہ اقتدار ملا وہ ''من بے بس و طوفاں ہوشربا'' کے مصداق تھا ، مگر جمہوریت ناقابل شکست رہی ، درجنوں مسائل اور بحرانوں نے یکے بعد دیگرے داخلی وخارجی محاذوں پر سراٹھایا، دھرنوں ،احتجاجوں اور ملکی داخلی سیاسی صورتحال خاصی اعصاب شکن رہی، تاہم یہ کریڈٹ ان ہی سیاست دانوں کو جاتا ہے جنکے درمیان جوتیوں میں دال بھی بٹتی رہی ، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی گئی۔
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہونے کے نیم شائستہ و بے رحمانہ سماجی ماحول ، میڈیا ٹاکس ، مہنگائی ، بہیمانہ جرائم، سیاسی و عسکری تعلقات کے نشیب وفراز ، پاک امریکا و بھارت تعلقات ، کنٹرول لائن پر کشیدگی اور بلوچستان کی صورتحال نے قوم کو شدید ذہنی دباؤ کا شکاربنادیاہے لیکن کثیر جہتی پینڈورا باکس کھلنے کے باوجود وطن عزیز نے میموگیٹ،پاناما گیٹ، نیوز لیکس اور عدالتی فعالیت سمیت داخلی و خارجی مسائل کے تجربات سے استقامت کا عطر کشید کیا اور جمہوری عمل کو کوئی آنچ نہ آنے دی۔
جمہوریت کا یہی حسن اسے آمرانہ دور سے ممیز کرتا ہے جہاں اختلاف رائے، اظہار کی آزادی عوام میں جمہوری کمٹمنٹ کو دوآتشہ کردیتی ہے۔ چنانچہ آج کا ووٹر ماضی کے ووٹر سے مختلف ہے ، اسے عہد حاضر کے سیاسی ، سماجی اور معاشی تجربات کا شعور ہے، وہ آیندہ الیکشن میں سیاسی جماعتوں سے متعلق اپنے ان ہی تلخ و شیریں تجربات کا تاریخ ساز اظہار پولنگ بوتھ پر جاکر کریگا۔
بلاشبہ جمہوریت کو کمک عسکری قیادت کی طرف سے بھی بھرپور ملی، خدشات ظاہر کیے گئے کہ جمہوریت بس چند ہفتوں کی مہمان ہے، بن بلائے خلفشار نے آندھیوں کی صورت اختیار کی مگر جمہوریت کو نامساعد حالات میں بھی اپنی سخت جانی ثابت کرنا پڑی، یہ بہت بڑی پیش رفت ہے۔
ادھر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے قصور میں شہباز شریف اسپورٹس کمپلیکس کے افتتاح کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں لوڈشیڈنگ بحران پر قابو پایا گیا، 2012ء میں 20، 20گھنٹے بجلی جاتی تھی اور واپس نہیں آتی تھی لیکن ہم نے کئی سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کر کے 5ہزار میگا واٹ بجلی کے کارخانے صرف پنجاب میں لگائے، اب یہ بجلی پورے پاکستان کو جا رہی ہے ۔ تاہم نگراں حکومت کو ابھی بھی کئی مسائل کا سامنا ہوگا جن میں لوڈ شیڈنگ بھی شامل ہے، مہنگائی، پٹرولیم قیمتیں، بیروزگاری، سماج دشمن عناصر کی قانون شکنی ، الم ناک جرائم اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کی روک تھام نئے نگراں سیٹ اپ کے لیے ٹیسٹ کیس اور اعصاب شکن چیلنج ہونگے۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے درست کہا ہے کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سنہری دن ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں دوسری بار پارلیمنٹ نے مدت پوری کی ہے جبکہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہداﷲ خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے گذشتہ پانچ برس کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے جن میں گرین پاکستان پروگرام کے تحت جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے شروع کیے گئے منصوبے سرفہرست ہیں۔ بلاشبہ نگراں وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے سامنے ہرکولین ٹاسک کے پہاڑ کھڑے ہیں مگر جسٹس ناصرالملک پر بنیادی ذمے داری شفاف اور بروقت انتخابات کے انعقاد کی ہے۔