ایشین گیمز کی تیاریاں فیڈریشنز کا اجلاس بدھ کو طلب

رواں برس انڈونیشیا میں شیڈول ایونٹ سے قبل پاکستان اسپورٹس بورڈ حرکت میں آگیا۔

،کیمپس کیلیے ایتھلیٹس کے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ فوٹو: فائل

رواں برس انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں شیڈول ایشین گیمز کی تیاریوں کیلیے پاکستان اسپورٹس بورڈ حرکت میں آگیا، ایشیائی ایونٹ کی تیاریوں اورحکمت عملی تیار کرنے کیلیے بدھ6 جون کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کیلیے اسپورٹس فیڈریشنز کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل اعظم ڈار کے مطابق اجلاس میں ایشین گیمز میں میڈلز کے حصول، کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے اسپورٹس فیڈریشنز کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی جبکہ ایشین گیمز کی تیاریوں کیلیے لگائے جانیوالے تربیتی کیمپس کیلیے ایتھلیٹس کے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اعظم ڈار نے بتایا کہ اجلاس میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سمیت ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، بیس بال، باکسنگ، سائیکلنگ، ایکسٹیرین، گالف، ہینڈ بال، جوڈو، جوجسٹو، کراٹے، کبڈی، روئنگ، رگبی، سیلنگ، شوٹنگ، اسکواش، سوئمنگ، ٹیبل ٹینس، تائیکونڈو، ٹینس، والی بال، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، ووشو فیڈریشنز کے عہدیداران کو مدعو کیا گیا ہے جبکہ آرچری، باسکٹ بال اور جمناسٹک فیڈریشنز کا الحاق پی ایس بی کیساتھ نہ ہونے کے باعث فیڈریشنز کو مدعو نہیں کیا گیا۔

اعظم ڈار نے بتایا کہ پاکستان اولمپک ایسو سی ایشن نے 8 اگست سے انڈونیشیا میں منعقد ہونیوالی ایشین گیمز میں27 کھیلوں میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے پی او اے کی جانب سے گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے تربیتی کیمپس نہ لگائے جانے کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2017 سے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تائیکوانڈو، ایتھلیٹکس، سائیکلنگ، ویٹ لفٹنگ، بیس بال، کبڈی، بیڈمنٹن، باکسنگ، والی بال، آرچری کی کھیلوں کے تربیتی کیمپس پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں لگائے گئے ہیں۔


یاد رہے کہ سیکریٹری پی او اے نے اپنے ایک انٹرویو میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایشین گیمز کے انعقاد میں صرف 2 ماہ باقی رہ جانے کے باوجود ابھی تک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے تربیتی کیمپوں کا انعقاد نہ ہونے سے کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے، بغیر تربیت کے کھلاڑیوں کو اتنے بڑے اور اہم ایونٹ کے لیے میدان میں اتارنا کھلاڑیوں اور ملک دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی او اے مسلسل کئی ماہ سے پی ایس بی حکام سے ایشین گیمز کے لیے تربیتی کیمپ لگانے کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے کہ کھلاڑیوں کو تربیت کے لیے طویل سے طویل کیمپ دیے جائیں تاکہ اولمپکس کے بعد اس سب سے بڑے ایونٹ کے لیے بھرپور تیاریاں کی جاسکیں مگر ہماری بات پر توجہ نہیں دی گئی اور اب 2 ماہ کا وقت باقی رہ جانے کے بعد اب بھی کھلاڑی تربیتی کیمپوں سے محروم ہیں۔

خالد محمود کے مطابق نہ صرف انھوں نے ذاتی طور پر پی ایس بی حکام کو خط لکھ کر اور ان سے مل کران سے کیمپوں کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے بلکہ صدر پی او اے جنرل (ر) عارف حسن نے بھی اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو خط لکھ کراورفون پر رابطہ کرکے کیمپوں کے انعقاد کا مطالبہ کرچکے ہیں لیکن شاید پی ایس بی حکام کے پاس دیگر مصروفیات زیادہ ہیں اسی لیے وہ اسپورٹس کے حوالے سے معاملات پر کم اور دیگر پسندیدہ معاملات پر توجہ زیادہ دے رہے ہیں۔ادھر ایشین گیمز کی تیاریوںکیلیے قومی اسکواش ٹیم کے ٹرائلز اسلام آباد میں جاری ہیں۔

پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سیکریٹری ونگ کمانڈر طاہر سلطان کے مطابق ایشین گیمز کیلیے منتخب کیے گئے کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستان اسکواش سرکٹ ون میں مایوس کن کارکردگی دکھانے کے بعد اسکواش فیڈریشن نے مینز ٹیم کے ٹرائلز دوبارہ لینے کا فیصلہ کیا اور ٹرائلز میں فرحان محبوب، فرحان زمان، احسن ایاز، عاصم خان ، اسرار احمد، طیب اسلم، عماد فرید کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بہترین ٹیم کو ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کیلیے بھجوایا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ فیڈریشن پر امید ہے کہ اسکواش پلیئر ایشین گیمز میں پاکستان کو میڈل دلائے گئے جبکہ فیڈریشن کھلاڑیوں کی فٹنس پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور ٹرائلز سیشن مکمل ہونے کے بعد 4 رکنی مینز ٹیم کے ناموں کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔ طاہر سلطان کا کہنا تھاکہ ابھرتی ہوئی 16سالہ پلیئر آمنہ فیاض کو ایشین گیمز کے ویمنز اسکواش ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں مدینہ ظفر، فائزہ ظفر شامل ہیں۔
Load Next Story