سائٹ سے کالعدم تحریک طالبان کے 4کارندے گرفتار اسلحہ اور بارود برآمد
چاروں کا تعلق نعیم بخاری گروپ سے ہے، سی آئی ڈی کی دوسری کارروائی میں ٹارگٹ کلر سمیت4ملزمان گرفتار ہوئے
ایس ایس پی چوہدری اسلم گرفتارکالعدم تحریک طالبان کے ارکان سے برآمد اسلحہ اور بارودی مواد دکھا رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
ایس ایس پی سی آئی ڈی انسداد انتہا پسندی سیل چوہدری اسلم نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں بفرزون پیپلز چورنگی کے قریب متحدہ قومی موومنٹ کے الیکشن کیمپ کے ساتھ کیے جانے والے بم دھماکے میں کالعدم تحریک طالبان ملوث ہے اور اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا،سی آئی ڈی کی کی دو ٹیموں نے خفیہ اطلاع پر سائٹ غنی چورنگی اور ایم اے جناح روڈ پر چھاپے مار کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے4 کارندوں اور اجرتی قاتلوں سمیت8ملزمان کو گرفتار کر کے ایک من سے زائد دھماکا خیز مواد ، اسلحہ اور گولیاں برآمد کرلیں ان خیالات کا اظہار انھوں نے گارڈن میں واقع سی آئی ڈی کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔
چوہدری اسلم نے بتایا کہ شہر میں بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، ڈکیتی و رہزنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور ان پر قابو پانے کے لیے سی آئی ڈی انسداد انتہا پسندی سیل میں متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں اور ایک خفیہ اطلاع پر سی آئی ڈی پولیس نے سائٹ کے علاقے غنی چورنگی کے قریب کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (نعیم بخاری گروپ) سے تعلق رکھنے والے4ملزمان عمران جمشید، سلیم اﷲ عرف علی نجم ، عرفان عرف اسد اور عادل عرف عثمان کو گرفتار کرلیا جبکہ دوسری کارروائی میں سی آئی ڈی پولیس نے ایم اے جناح روڈ جامع کلاتھ کے قریب4ملزمان طارق عرف عابد ، آصف عرف میلا ، عبدالواحد اور محمد دانش کو گرفتار کرلیا۔
انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم طارق عرف عابد ٹارگٹ کلر ہے اور اس کا ایک سیاسی جماعت سے تعلق ہے جبکہ دیگر 3 ملزمان اجرتی قاتل ہیں ، سی آئی ڈی پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 50 کلو دھماکا خیز مواد ، 9 دستی بم اور 9 ٹی ٹی پستول اور بھاری تعداد میں گولیاں برآمد کرلیں ، انھوں نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (نعیم بخاری گروپ) سے تعلق رکھنے والے 4 ملزمان نے جہادی تربیت حاصل کی ہے۔
جس میں مختلف اقسام کے بم بنانے کے علاوہ دہشت گردی کے لیے اہم مقامات کی ریکی کرنے کے بھی ماہر ہیں ، انھوں نے بتایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے عادل عرف عثمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سابق صدر پرویز مشرف کی کراچی آمد کے موقع پر حملہ کرنے کی منصوبہ کی تھی۔
جبکہ گرفتار ملزمان نے پولیس افسر انسپکٹر انور جعفری سمیت اہم شخصیات کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس حوالے سے وہ ریکی بھی مکمل کر چکے تھے ، چوہدری اسلم نے بتایا کہ گرفتار ملزمان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اغوا برائے تاوان ، ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتیں کرتے تھے۔
تاہم کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا،سی آئی ڈی کی کی دو ٹیموں نے خفیہ اطلاع پر سائٹ غنی چورنگی اور ایم اے جناح روڈ پر چھاپے مار کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے4 کارندوں اور اجرتی قاتلوں سمیت8ملزمان کو گرفتار کر کے ایک من سے زائد دھماکا خیز مواد ، اسلحہ اور گولیاں برآمد کرلیں ان خیالات کا اظہار انھوں نے گارڈن میں واقع سی آئی ڈی کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔
چوہدری اسلم نے بتایا کہ شہر میں بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، ڈکیتی و رہزنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور ان پر قابو پانے کے لیے سی آئی ڈی انسداد انتہا پسندی سیل میں متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں اور ایک خفیہ اطلاع پر سی آئی ڈی پولیس نے سائٹ کے علاقے غنی چورنگی کے قریب کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (نعیم بخاری گروپ) سے تعلق رکھنے والے4ملزمان عمران جمشید، سلیم اﷲ عرف علی نجم ، عرفان عرف اسد اور عادل عرف عثمان کو گرفتار کرلیا جبکہ دوسری کارروائی میں سی آئی ڈی پولیس نے ایم اے جناح روڈ جامع کلاتھ کے قریب4ملزمان طارق عرف عابد ، آصف عرف میلا ، عبدالواحد اور محمد دانش کو گرفتار کرلیا۔
انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم طارق عرف عابد ٹارگٹ کلر ہے اور اس کا ایک سیاسی جماعت سے تعلق ہے جبکہ دیگر 3 ملزمان اجرتی قاتل ہیں ، سی آئی ڈی پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 50 کلو دھماکا خیز مواد ، 9 دستی بم اور 9 ٹی ٹی پستول اور بھاری تعداد میں گولیاں برآمد کرلیں ، انھوں نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (نعیم بخاری گروپ) سے تعلق رکھنے والے 4 ملزمان نے جہادی تربیت حاصل کی ہے۔
جس میں مختلف اقسام کے بم بنانے کے علاوہ دہشت گردی کے لیے اہم مقامات کی ریکی کرنے کے بھی ماہر ہیں ، انھوں نے بتایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے عادل عرف عثمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سابق صدر پرویز مشرف کی کراچی آمد کے موقع پر حملہ کرنے کی منصوبہ کی تھی۔
جبکہ گرفتار ملزمان نے پولیس افسر انسپکٹر انور جعفری سمیت اہم شخصیات کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس حوالے سے وہ ریکی بھی مکمل کر چکے تھے ، چوہدری اسلم نے بتایا کہ گرفتار ملزمان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اغوا برائے تاوان ، ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتیں کرتے تھے۔