ایمنسٹی اسکیم سے مستفید گاڑیاں رجسٹرنہ کی جاسکیں

وفاق سے اختلافات،صوبائی حکومتیں رجسٹریشن کیلیے جرمانے پرزوردے رہی ہیں،ذرائع

وفاق سے اختلافات،صوبائی حکومتیں رجسٹریشن کیلیے جرمانے پرزوردے رہی ہیں،ذرائع. فوٹو: فائل

ایف بی آرکی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کے تحت نان ڈیوٹی پیڈاوراسمگل شدہ گاڑیاں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات کے باعث تاحال رجسٹریشن کی منتظر ہیں۔

جس کی وجہ سے ان گاڑیوں پر کی جانے والی اربوں روپے مالیت کی سرمایہ کاری بھی پھنس کر رہ گئی ہے، سابقہ حکومت کی جانب سے اگر صوبائی حکومتوں کی مشاورت کے ساتھ گاڑیوں کی ایمنسٹی اسکیم مرتب کی جاتی تو ریگولرائزڈ ہونے والی تمام گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل میں تاخیر نہ ہوتی تاہم ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے وفاقی حکومت اور ایف بی آر کو بجٹ اہداف کے حصول میں آسانی ہوئی ہے۔

محکمہ کسٹمز کے باخبرذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں ایمنسٹی اسکیم کے تحت ریگولرائز ہونے والی گاڑیوں کی بھاری جرمانے کے ساتھ رجسٹریشن کرنے پرزور دے رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی ایمنسٹی اسکیم کے تحت ملک بھر کے کسٹمز کلکٹریٹس میں مجموعی طورپر50850نان ڈیوٹی پیڈ اور اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دی گئی ہے ۔


جس کے عوض ایف بی آر کو کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر16ارب3کروڑ50لاکھ روپے مالیت کا خطیر ریونیو حاصل ہوا جس میں محکمہ کسٹمز کے اپریزمنٹ کلکٹریٹ کراچی کی جانب سے 6 اپریل2013 تک 5921نان ڈیوٹی پیڈ اور اسمگل شدہ گاڑیوںک و قانونی حیثیت دی گئی، صرف اپریزمنٹ کلکٹریٹ کراچی نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت گاڑیوں کی ریگولرائزیشن کرتے ہوئے قومی خزانے میں ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں 2 ارب 41 کروڑ 34 لاکھ 1 ہزار 564 روپے جمع کرائے۔



کسٹمزحکام نے بتایاکہ اس سے قبل متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیم ریونیو کے حجم کے اعتبار سے زیادہ کامیاب نہیں تھی اور سابقہ ایمنسٹی اسکیم سے ریونیو کی مد میں صرف 1ارب 50 کروڑ روپے مالیت کی وصولیاں ہوئی تھیں۔ ذرائع نے بتایاکہ حالیہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت کوئٹہ کسٹمز کلکٹریٹ کی جانب سے 17950،خیبرپختونخوا کے مختلف کسٹمز کلکٹریٹس نے 17330،گوادرکلکٹریٹ نے 2885،حیدرآبادکسٹمز کلکٹریٹ نے 1563،اسلام آبادکسٹمز کلکٹریٹ نے 1081،فیصل آبادکسٹمز کلکٹریٹ نے 1247،سیالکوٹ کسٹمز کلکٹریٹ نے 1055،ملتان کسٹمز کلکٹریٹ نے 1109 گاڑیوں کو ریگولرائزڈ کیا جبکہ راولپنڈی اور لاہور کسٹمز کلکٹریٹ نے 636 نان ڈیوٹی پیڈاوراسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر کی مذکورہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت ہزاروں اسمگل شدہ گاڑیوں کے ریگولرائزیشن کے بعد انسداد اسمگلنگ کی وہ ایجنسیاں تحقیقات کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں جو پاکستان میں طویل دورانیے سے سڑکوں پر دندنانے والی ان اسمگل شدہ اور نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کو بازیاب کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد اسمگلنگ سمیت دیگر ذمے دار ایجنسیوں کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت ریگولرائزڈ ہونے والی گاڑیوں کی تحقیقات کے بجائے افغانستان سے طورخم اور چمن کی سرحدوں سے گاڑیوں کی مزید اسمگلنگ پر قابو پانے کی موثر حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔
Load Next Story