امن وامان کیلیے 3کیٹگری میں کام ہو رہاہے گورنر سندھ
نمبرون پردہشت گردی کو رکھا گیا ہے،کوشش ہے کسی بے گناہ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو
حالات کے باوجود سرمایہ کار کراچی کا رخ کررہے ہیں،اسٹاف کالج کوئٹہ کے وفد سے گفتگو فوٹو: فائل
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہاہے کہ کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلیے 3کیٹگری کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔
نمبرون پر دہشت گردی کو رکھا گیا ہے دوسرے نمبر پرٹارگٹ کلنگ جبکہ تیسرے نمبر پراغوا برائے تاوان ہے اس ضمن میں جاری کارروائی میں بہت اہم کامیابی حاصل ہوئی ہیں اہم ملزمان گرفتارکرکے ان کے قبضے سے اسلحہ اوربارود برآمد ہوا ۔ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم جماعتوں سمیت جرائم پیشہ گروہوں سے ہے البتہ کارروائی کے دوران اس بات کو مد نظررکھا گیا کہ کسی بے گناہ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔
، سنگین جرائم میں ملوث گرفتارملزمان کوعدالتوں میں پیش بھی کیا گیا ہے۔گورنر سندھ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اسٹاف کورس کے شرکا سے بات چیت کررہے تھے جنھوں نے گورنر ہائوس میں ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہاکہ شہر کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے اسنیپ چیکنگ کیبھی خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ دیگرصوبوں سے صوبہ سندھ میں جرائم کی شرح کم ہے اورسندھ میں ایسی صورتحال بھی نہیں کہ کمیونٹیزآپس میں لڑ رہی ہوں، یہاں پرذاتی اور زمینی جھگڑے کو بھی سیاسی رنگ دیا جاتا ہے۔
شہر میں مختلف ایشوز ہیں صرف پولیس پر ہی انحصار نہیں جاسکتا ہے سیاسی اور انتظامی طور پر بھی معاملات کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں میگا پروجیکٹس نہیں بنائے گئے 2006 ء میں پہلی بار ترقیاتی کام ہوئے ہیں ۔لیاری ایکسپریس وے تقریباً مکمل ہے، سرکلر ریلوے پرکام جون ، جولائی تک شروع ہوگا ،ماس ٹرانزٹ ، فراہمی آب ک-4 Kاورنکاسی آب کا S-IV مستقبل کے عظیم تر منصوبے ہیں جن کی منظوری وفاقی حکومت دے چکی ہے۔
نمبرون پر دہشت گردی کو رکھا گیا ہے دوسرے نمبر پرٹارگٹ کلنگ جبکہ تیسرے نمبر پراغوا برائے تاوان ہے اس ضمن میں جاری کارروائی میں بہت اہم کامیابی حاصل ہوئی ہیں اہم ملزمان گرفتارکرکے ان کے قبضے سے اسلحہ اوربارود برآمد ہوا ۔ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم جماعتوں سمیت جرائم پیشہ گروہوں سے ہے البتہ کارروائی کے دوران اس بات کو مد نظررکھا گیا کہ کسی بے گناہ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو۔
، سنگین جرائم میں ملوث گرفتارملزمان کوعدالتوں میں پیش بھی کیا گیا ہے۔گورنر سندھ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اسٹاف کورس کے شرکا سے بات چیت کررہے تھے جنھوں نے گورنر ہائوس میں ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہاکہ شہر کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے اسنیپ چیکنگ کیبھی خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ دیگرصوبوں سے صوبہ سندھ میں جرائم کی شرح کم ہے اورسندھ میں ایسی صورتحال بھی نہیں کہ کمیونٹیزآپس میں لڑ رہی ہوں، یہاں پرذاتی اور زمینی جھگڑے کو بھی سیاسی رنگ دیا جاتا ہے۔
شہر میں مختلف ایشوز ہیں صرف پولیس پر ہی انحصار نہیں جاسکتا ہے سیاسی اور انتظامی طور پر بھی معاملات کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں میگا پروجیکٹس نہیں بنائے گئے 2006 ء میں پہلی بار ترقیاتی کام ہوئے ہیں ۔لیاری ایکسپریس وے تقریباً مکمل ہے، سرکلر ریلوے پرکام جون ، جولائی تک شروع ہوگا ،ماس ٹرانزٹ ، فراہمی آب ک-4 Kاورنکاسی آب کا S-IV مستقبل کے عظیم تر منصوبے ہیں جن کی منظوری وفاقی حکومت دے چکی ہے۔