گوادر فری اکنامک زون کے پہلے فیز میں تمام رقبہ بک ہوگیا

10کمپنیوں کوانویسٹمنٹ کی اجازت،4پاکستانی ہیں،چیئرمین چائنااوورسیزپورٹ ہولڈنگ

گوادراسمارٹ سٹی ماسٹر پلان اگست تک مکمل ہوجائیگا،فیڈریشن ہائوس کراچی کا دورہ ۔ فوٹو: فائل

MAIDUGURI, NIGERIA:
گوادر فری اکنامک زون کے پہلے فیز میں تمام رقبہ بک ہوگیا ہے، پہلے زون میں 10سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے اجازت نامے دیے جاچکے ہیںجن میں سے 4پاکستانی کمپنیاں شامل ہیں، پہلے زون کی تعمیر پر 300ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، گوادر کی آبادی کو پورٹ پر نصب ڈی سلینیشن پلانٹ سے میٹھے پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے، گوادر کا اسمارٹ سٹی ماسٹر پلان بھی اگست تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔


چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) کے چیئرمین چانگ بائوژونگ نے گزشتہ روز فیڈریشن ہائوس کراچی کا دورہ کیا اور ایف پی سی سی آئی کے اراکین کو گوادر کی بندرگاہ اور فری اکنامک زون میں ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا، اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر مظہر علی ناصر، تاجر ر ہنما ایس ایم منیر، نائب صدر طارق ملک ، سی او پی ایچ سی کے ہیڈ آف مارکیٹنگ سید شہزاد سلطان بھی موجود تھے۔ چیئرمین سی او پی ایچ سی نے بتایا کہ گوادر کے فری اکنامک زون کے پہلے فیز میں تمام رقبہ بک ہوچکا ہے، 4 سرمایہ کاروں نے ویئر ہائوسنگ کی سہولت سمیت کی تعمیر کے ساتھ کام کا آغاز کردیا ہے، سال کے اختتام تک فیز ون کے تمام سرمایہ کار کام کا آغاز کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے گوادر کی بندرگاہ پر کمیونی کیشن کی موثر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کلیئرنگ کے مینوئل طریقے ون کسٹم کی سہولت عارضی طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور پیر کو کسٹمز کا عملہ بھی تعینات کردیا گیا ہے، گوادر پورٹ سے شروع کی جانے والی کنٹینر لائن کی سروس کے تحت ہر بدھ کو مال بردار بحری جہاز گوادر آتا ہے جو محدود مقدار میں کارگو چین اور مڈل ایسٹ کی بندرگاہوں تک لے جارہا ہے جس میں سی فوڈ بھی شامل ہے۔
Load Next Story