نئی مانیٹری پالیسی اور ملکی معیشت
ملک میںنجی سرمایہ کاری کازوال پذیررجحان بدستورجاری ہےجبکہ ادائیگی کےتوازن کی طاقت کازیادہ ت انحصارغیرملکی رقوم پر ہے.
افراط زر کی شرح مسلسل پانچویں سال بھی دو ہندسوں میں برقرار ہے، گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور۔ فوٹو پی پی آئی
KARACHI:
گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود 12 فیصد سے گھٹا کر 10.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملکی معیشت اس وقت بلند شرح افراط زر اور کم شرح نمو کی غیرمتوازن صورت حال میں گھری نظر آتی ہے جس کی بڑی وجہ توانائی کا بحران اور کمزور مالیاتی بنیادی اجزاء ہیں' ملک میں نجی سرمایہ کاری کا زوال پذیر رجحان بدستور جاری ہے جب کہ ادائیگی کے توازن کی طاقت کا زیادہ تر انحصار غیرملکی رقوم پر ہے' اندرونی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ اور بین الاقوامی غیریقینی معاشی حالات معاشی اعتماد کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہیں' افراط زر کی شرح مسلسل پانچویں سال بھی دو ہندسوں میں برقرار ہے' ان حالات میں رواں مالی سال کے دوران افراط زر کی شرح کا ہدف 9.5 فیصد کی مقررہ حد میں نہیں رہے گا بلکہ اسٹیٹ بینک سمجھتا ہے کہ یہ شرح 10 سے 11 فیصد رہے گی البتہ اس کا بڑا انحصار اسٹیٹ بینک کی طرف سے قرضوں کی حد پر عمل کرنے' بیرونی امداد اور بجلی کی بندش میں کمی پر ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ مجموعی سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اگلے دو ماہ کے لیے پیش کی گئی نئی مانیٹری پالیسی جس مالی صورتحال کی غماز ہے اسے کسی طور اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس سے ایک طرف بے تحاشا افراط زر کا پتہ ملتا ہے تو دوسری جانب یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ملکی معیشت تاحال بحران کا شکار ہے جس پر خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ شرح سود کم کرنے سے کچھ فرق تو پڑے گا لیکن یقیناً اس سے پوری معیشت کی صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔ ملک کو مالی لحاظ سے مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے ٹھوس اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کی جائے۔ ہمارے معاشی مسائل کے بڑھنے کی بنیادی وجہ اپنے وسائل سے بڑھ کر اخراجات کرنا ہے' اس مقصد کے لیے حکومت ملکی و غیرملکی قرضوں و امدادی رقوم پر انحصار کرتی ہے جو ظاہر ہے کوئی قابل تعریف بات نہیں۔
رہی سہی کسر ملک میں طویل عرصے سے جاری توانائی کے بحران نے پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے تقریباً سبھی شعبے معطل اور مفلوج ہو چکے ہیں چنانچہ جاری معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بجلی کی قلت پر قابو پانا ضروری ہے۔ حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے ۔ خود وزیر اعظم نے تسلیم کیا ہے کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ جمعہ کو اسٹیل ملز کے دورے کے دوران ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انھوں نے اسٹیل ملز کی نج کاری نہ ہونے دینے اور اس کے لیے 14ارب 80 کروڑ روپے کے بیل آئوٹ پیکیج کا اعلان کیا وہاں یہ بھی بتایا کہ ملک کے معاشی حالات اس وقت بھی انتہائی خراب ہیں۔
انھوں نے کہا ''ہم سر ڈھانپنے کی کوشش کرتے ہیں تو پائوں ننگے ہو جاتے ہیں اور اگر پائوں ڈھانپنے کی کوشش کریں تو سر ننگا ہو جاتا ہے''۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک میں ایک طرف خراب معاشی صورتحال ہے اور عوام اسکول اور صحت کے اداروں اور روزگار کا مطالبہ کر رہے ہیں' اگر بیل آئوٹ پیکیجز نہ دینے پڑتے تو یہی رقوم تعلیم ' صحت اور سوشل سیکٹر پر خرچ کر سکتے تھے جس سے ملک میں ترقی کی نئی لہر پیدا ہوتی۔ سربراہ حکومت نے دل خواہ ترقی نہ کر سکنے کی جو وجوہ بیان کی ہیں ان کے درست ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں تاہم ان سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اب جب کہ عنان حکومت ان کے ہاتھوں میں ہے تو وہ پاکستان کو مسائل کے کوہ گراں کے نیچے سے نکالنے کے لیے کیا منصوبہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے زیادہ قرض لینا اسٹیٹ بینک قانون کی خلاف ورزی ہے چنانچہ اگر حکومت یہ قرضے لینے ترک کر دے' جو قرضے لیے گئے ہیں وہ واپس کر دیئے جائیں اور غیر ضروری طور پر نوٹ چھاپنا ختم کر دے تو آنے والے ہفتوں میں صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ کیا حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرنے کے بارے میں سوچے گی؟ وزیر اعظم نے شکوہ کیا ہے کہ سر ڈھانپیں تو پائوں ننگے ہو جاتے ہیں اور پائوں ڈھانپیں تو سر ننگا ہو جاتا ہے لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ حکومت اتنے پائوں پھیلائے جتنی چادر ہو' پھر ظاہر ہے یہ مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومتی غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے سادگی اختیار کی جائے اور ممکنہ حد تک وزارتوں کی تعداد کم رکھی جائے تاکہ ان پر اٹھنے والے اخراجات بچا کر دوسری مدوں میں استعمال کیے جا سکیں۔
یہ بالکل واضح ہے کہ حکومت نے اگر اسی طرح بینکوں سے قرضے حاصل کرنا جاری رکھا تو اس سے بینکنگ سیکٹر مسائل کا شکار ہو جائے گا۔ ہم نے آزادی کے بعد کے چونسٹھ برس ملکی و غیرملکی قرضوں کی مدد سے گزار دیئے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی اور ظاہر ہے کہ ان قرضوں کی مدد سے ہم نے ترقی کی ہے اسے حقیقی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ حقیقی ترقی کی جانب قدم بڑھائے جائیں جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے وسائل پر گزارہ کرنا سیکھیں اور ان وسائل کو بڑھانے کے لیے دور رس' دیرپا اور طویل المیعاد پالیسیاں وضع کریں۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ قابل غور ہیں' حکومت کو ان پر توجہ دینا چاہیے بصورت دیگر مزید مسائل پیدا ہوں گے جن سے چھٹکارا حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انور نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود 12 فیصد سے گھٹا کر 10.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملکی معیشت اس وقت بلند شرح افراط زر اور کم شرح نمو کی غیرمتوازن صورت حال میں گھری نظر آتی ہے جس کی بڑی وجہ توانائی کا بحران اور کمزور مالیاتی بنیادی اجزاء ہیں' ملک میں نجی سرمایہ کاری کا زوال پذیر رجحان بدستور جاری ہے جب کہ ادائیگی کے توازن کی طاقت کا زیادہ تر انحصار غیرملکی رقوم پر ہے' اندرونی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ اور بین الاقوامی غیریقینی معاشی حالات معاشی اعتماد کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہیں' افراط زر کی شرح مسلسل پانچویں سال بھی دو ہندسوں میں برقرار ہے' ان حالات میں رواں مالی سال کے دوران افراط زر کی شرح کا ہدف 9.5 فیصد کی مقررہ حد میں نہیں رہے گا بلکہ اسٹیٹ بینک سمجھتا ہے کہ یہ شرح 10 سے 11 فیصد رہے گی البتہ اس کا بڑا انحصار اسٹیٹ بینک کی طرف سے قرضوں کی حد پر عمل کرنے' بیرونی امداد اور بجلی کی بندش میں کمی پر ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ مجموعی سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اگلے دو ماہ کے لیے پیش کی گئی نئی مانیٹری پالیسی جس مالی صورتحال کی غماز ہے اسے کسی طور اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس سے ایک طرف بے تحاشا افراط زر کا پتہ ملتا ہے تو دوسری جانب یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ملکی معیشت تاحال بحران کا شکار ہے جس پر خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ شرح سود کم کرنے سے کچھ فرق تو پڑے گا لیکن یقیناً اس سے پوری معیشت کی صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔ ملک کو مالی لحاظ سے مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے ٹھوس اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کی جائے۔ ہمارے معاشی مسائل کے بڑھنے کی بنیادی وجہ اپنے وسائل سے بڑھ کر اخراجات کرنا ہے' اس مقصد کے لیے حکومت ملکی و غیرملکی قرضوں و امدادی رقوم پر انحصار کرتی ہے جو ظاہر ہے کوئی قابل تعریف بات نہیں۔
رہی سہی کسر ملک میں طویل عرصے سے جاری توانائی کے بحران نے پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے تقریباً سبھی شعبے معطل اور مفلوج ہو چکے ہیں چنانچہ جاری معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بجلی کی قلت پر قابو پانا ضروری ہے۔ حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے ۔ خود وزیر اعظم نے تسلیم کیا ہے کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ جمعہ کو اسٹیل ملز کے دورے کے دوران ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انھوں نے اسٹیل ملز کی نج کاری نہ ہونے دینے اور اس کے لیے 14ارب 80 کروڑ روپے کے بیل آئوٹ پیکیج کا اعلان کیا وہاں یہ بھی بتایا کہ ملک کے معاشی حالات اس وقت بھی انتہائی خراب ہیں۔
انھوں نے کہا ''ہم سر ڈھانپنے کی کوشش کرتے ہیں تو پائوں ننگے ہو جاتے ہیں اور اگر پائوں ڈھانپنے کی کوشش کریں تو سر ننگا ہو جاتا ہے''۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک میں ایک طرف خراب معاشی صورتحال ہے اور عوام اسکول اور صحت کے اداروں اور روزگار کا مطالبہ کر رہے ہیں' اگر بیل آئوٹ پیکیجز نہ دینے پڑتے تو یہی رقوم تعلیم ' صحت اور سوشل سیکٹر پر خرچ کر سکتے تھے جس سے ملک میں ترقی کی نئی لہر پیدا ہوتی۔ سربراہ حکومت نے دل خواہ ترقی نہ کر سکنے کی جو وجوہ بیان کی ہیں ان کے درست ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں تاہم ان سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اب جب کہ عنان حکومت ان کے ہاتھوں میں ہے تو وہ پاکستان کو مسائل کے کوہ گراں کے نیچے سے نکالنے کے لیے کیا منصوبہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے زیادہ قرض لینا اسٹیٹ بینک قانون کی خلاف ورزی ہے چنانچہ اگر حکومت یہ قرضے لینے ترک کر دے' جو قرضے لیے گئے ہیں وہ واپس کر دیئے جائیں اور غیر ضروری طور پر نوٹ چھاپنا ختم کر دے تو آنے والے ہفتوں میں صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ کیا حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرنے کے بارے میں سوچے گی؟ وزیر اعظم نے شکوہ کیا ہے کہ سر ڈھانپیں تو پائوں ننگے ہو جاتے ہیں اور پائوں ڈھانپیں تو سر ننگا ہو جاتا ہے لیکن کیا ہی بہتر ہو کہ حکومت اتنے پائوں پھیلائے جتنی چادر ہو' پھر ظاہر ہے یہ مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومتی غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے سادگی اختیار کی جائے اور ممکنہ حد تک وزارتوں کی تعداد کم رکھی جائے تاکہ ان پر اٹھنے والے اخراجات بچا کر دوسری مدوں میں استعمال کیے جا سکیں۔
یہ بالکل واضح ہے کہ حکومت نے اگر اسی طرح بینکوں سے قرضے حاصل کرنا جاری رکھا تو اس سے بینکنگ سیکٹر مسائل کا شکار ہو جائے گا۔ ہم نے آزادی کے بعد کے چونسٹھ برس ملکی و غیرملکی قرضوں کی مدد سے گزار دیئے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی اور ظاہر ہے کہ ان قرضوں کی مدد سے ہم نے ترقی کی ہے اسے حقیقی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ حقیقی ترقی کی جانب قدم بڑھائے جائیں جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے وسائل پر گزارہ کرنا سیکھیں اور ان وسائل کو بڑھانے کے لیے دور رس' دیرپا اور طویل المیعاد پالیسیاں وضع کریں۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ قابل غور ہیں' حکومت کو ان پر توجہ دینا چاہیے بصورت دیگر مزید مسائل پیدا ہوں گے جن سے چھٹکارا حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔