یوم آزادی‘ عید پر فول پروف سیکیورٹی کی ضرورت

انتہا پسنداودہشت گردعیدین‘عاشورہ محرم اوریوم آزادی جیسےخاص مواقع پراپنےمذموم مقاصد کی تکمیل کا عمل تیز کردیتے ہیں.

امریکی سفارتخانے کی طرف سے وزارت داخلہ کو پاکستان میں موجود امریکی سفارتی مشن اور وئیرہائوسز کی ایک فہرست بھی فراہم، فوٹو فائل

ایک خبر کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے وزارت داخلہ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر دہشت گرد پاکستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکی سفارتی مشن یا امریکی امدادی اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں' اس خطرے کے پیش نظر حکومت امریکی سفارتخانے، سفارتی مشن اور ویئرہائوسز کی حفاظت کے لیے فول پروف انتظامات کرے۔

ذرایع نے ایکسپریس انویسٹی گیشن سیل کو بتایا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی طرف سے وزارت داخلہ کو پاکستان میں موجود امریکی سفارتی مشن اور وئیرہائوسز کی ایک فہرست بھی فراہم کی گئی ہے جو ممکنہ دہشت گردی میں دہشت گردوں کے بڑے ٹارگٹ بن سکتے ہیں۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے وزارت داخلہ کے نام یہ خط ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے جس کو سنجیدگی سے لینے اور امریکی سفارت خانے اور امریکیوں کے استعمال میں رہنے والی دیگر عمارات کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کی ضرورت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ محض امریکی نہیں بلکہ پاکستان میں مقیم تمام غیرملکیوں کی حفاظت کا مناسب انتظام ہونا چاہیے کیونکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ انتہا پسند اور دہشت گرد عیدین' عاشورہ محرم اور یوم آزادی جیسے خاص مواقع پر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا عمل تیز کر دیتے ہیں اور دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں۔

جمعہ کو حضرت علی ؓ کے یوم شہادت کے موقع پر ماتمی جلوس نکالے گئے' اس موقع پر بھی دہشت گردی کے شدید خدشات تھے جن کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے لہٰذا اللہ کا شُکر ہے کہ کوئی غیرمعمولی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اب ممکن ہے دہشت گرد اس ناکامی کا غصہ یوم آزادی پر اتارنے کی کوشش کریں۔ اس بار یوم آزادی اور عیدالفطر چند روز کے وقفے سے آ رہے ہیں لہٰذا تخریب کاری کے واقعات ہونے کا اندیشہ گزشتہ برسوں کی نسبت زیادہ ہے۔


حالات کا تقاضا ہے کہ زیادہ سے زیادہ محتاط رہا جائے کیونکہ معاملات ٹھیک محسوس نہیں ہوتے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت داخلہ کو خط لکھنے سے قبل امریکی سفارتخانے کی طرف سے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی جس میں پاکستان میں موجود امریکی شہریوں اور امریکی مشن اور دفاتر میں کام کرنے والے افراد سے کہا گیا کہ وہ ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر پبلک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

پاک امریکا تعلقات میں حال ہی میں بہتری آئی ہے اور کسی قسم کا دہشت گردی کا کوئی واقعہ' جس میں امریکیوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہو' ان تعلقات کو ایک بار پھر خراب کر سکتا ہے' علاوہ ازیں ایسے کسی واقعے کے بعد امریکا ایک بار پھر پاکستان میں آپریشن کا مطالبہ کر سکتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تمام ممکن اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ دہشت گردوں کو بہتر سیکیورٹی کی وجہ سے کوئی مخصوص ٹارگٹ نہ ملے تو وہ پبلک مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں' یاد رہے کہ انتہا پسندوں نے' جو قبل ازیں رمضان المبارک کے دوران اپنے اپنے آپریشن معطل کر دیا کرتے تھے' اس بار اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں چنانچہ یہ ممکن ہے کہ وہ یوم آزادی اور عید کے روز بھی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی کوشش کریں۔

 
Load Next Story