اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا عزم و ارادہ
حکومت اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کےحقوق کےتحفظ کو یقینی بنانےکےلیے ہرممکن اقدامات کرنےکاعزم وارادہ رکھتی ہے۔
ہندو خاندانوں کے جو افراد بھارت جا رہے ہیں ان کا مطمع نظر وہاں موجود اپنے مقدس مقامات کی یاترا ہے۔ فوٹو فیضان داود
پاکستان میں گزشتہ روز اقلیتوں کا دن منایا گیا جو اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا عزم و ارادہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن ہمارے قومی کیلنڈر میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس روز ہم قائد اعظم اور قائد عوام کے تصورات کے مطابق تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور انھیں قومی دھارے میں لانے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ آئیے ہم شہباز بھٹی اور ایسے دیگر بے شمار لوگوں کو یاد رکھیں جنہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کی دلیرانہ وکالت کی اور اپنی زندگیاں مذہبی تحمل کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مؤقف کے لیے قربان کر دیں' آئیے ہم اس امر کا اظہار کریں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
یہ دن ایک ایسے موقع پر منایا گیا جب سندھ کے بعض ہندو خاندانوں کے مبینہ طور پر نامساعد حالات کی وجہ سے بھارت منتقل ہونے کی خبریں تسلسل کے ساتھ گردش کر رہی ہیں تاہم میڈیا کی ہی بعض رپورٹوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ہندو خاندانوں کے جو افراد بھارت جا رہے ہیں ان کا مطمع نظر وہاں موجود اپنے مقدس مقامات کی یاترا ہے۔
اگر یہ رپورٹیں درست ہیں اور پاکستان میں بسنے والے ہندو بھارت منتقل نہیں ہو رہے ہیں تب بھی ضروری ہے کہ یہاں بسنے والی اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کیا جائے اور ان کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے کیونکہ یہ سبھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کو یہاں مکمل آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ صدر مملکت نے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا جو عزم و ارادہ ظاہر کیا ہے وہ اس پر قائم رہیں گے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کریں گے۔
صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ آئیے ہم شہباز بھٹی اور ایسے دیگر بے شمار لوگوں کو یاد رکھیں جنہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کی دلیرانہ وکالت کی اور اپنی زندگیاں مذہبی تحمل کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مؤقف کے لیے قربان کر دیں' آئیے ہم اس امر کا اظہار کریں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
یہ دن ایک ایسے موقع پر منایا گیا جب سندھ کے بعض ہندو خاندانوں کے مبینہ طور پر نامساعد حالات کی وجہ سے بھارت منتقل ہونے کی خبریں تسلسل کے ساتھ گردش کر رہی ہیں تاہم میڈیا کی ہی بعض رپورٹوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ہندو خاندانوں کے جو افراد بھارت جا رہے ہیں ان کا مطمع نظر وہاں موجود اپنے مقدس مقامات کی یاترا ہے۔
اگر یہ رپورٹیں درست ہیں اور پاکستان میں بسنے والے ہندو بھارت منتقل نہیں ہو رہے ہیں تب بھی ضروری ہے کہ یہاں بسنے والی اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کیا جائے اور ان کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے کیونکہ یہ سبھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کو یہاں مکمل آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ صدر مملکت نے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا جو عزم و ارادہ ظاہر کیا ہے وہ اس پر قائم رہیں گے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کریں گے۔