آبی قلت کپاس کے زیر کاشت رقبے میں تشویشناک حد تک کمی

سندھ میں کپاس کی بوائی ہدف سے52 فیصد کم،0.62ملین کے مقابل صرف 0.296 ملین ہیکٹرز رقبے پرکاشت کی جاسکی

سندھ میں کپاس کی بوائی ہدف سے52 فیصد کم،0.62ملین کے مقابل صرف 0.296 ملین ہیکٹرز رقبے پرکاشت کی جاسکی۔ فوٹو : فائل

موسمی تبدیلیوں کے اثرات فصلوں کو متاثر کرنے لگے، پانی کی قلت کے باعث کپاس کی بوائی کا ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

کاٹن جنرز فورم کے مطابق سندھ میں کپاس کی بوائی ہدف سے تشویش ناک حد تک یعنی 52 فیصد کم ہوئی، پنجاب میں کپاس کی بوائی اپنے ہدف سے 13 فیصد کم ہوئی جبکہ ملک بھر میں ملک بھر میں کپاس کی بوائی اپنے ہدف سے 20 فیصد رہی جس سے رواں سیزن میں کپاس کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔


کپاس کی بوائی کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یکم جون 2018تک سندھ اور پنجاب میں 2.95 ملین ہیکٹرز رقبے پر کپاس کاشت کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا جس میں سے 2.31 ملین ہیکٹرز پنجاب جبکہ سندھ میں 0.62 ہیکٹرزرقبے پر کاشت کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تاہم 2018-19کے سیزن کے لیے یکم جون تک پنجاب میں 2.018 ملین ہیکٹرز جبکہ سندھ میں 0.296ملین ہیکٹرز رقبے پر کپاس کاشت کی گئی اور مجموعی طور پر 2.314ملین ہیکٹرز رقبے پر بوائی کی گئی۔

گزشتہ سیزن کے اسی عرصے کے دوران 2.413ملین ہیکٹرز رقبے پر کپاس کاشت کی گئی تھی، سندھ میں 0.467 ملین جبکہ پنجاب میں 1.946 ملین ہیکٹرز رقبے پر کپاس کاشت کی گئی تھی، رواں سیزن 2018-19 کے دوران جون کے آغاز تک کپاس کے ہدف کا 80 فیصد رقبے کاشت کیا گیا، پنجاب نے کپاس کی کاشت کے ہدف کا 87.40 فیصد جبکہ سندھ نے 48 فیصد ہدف حاصل کیا۔

گزشتہ سیزن کے مقابلے میں اب تک پنجاب میں کپاس کی بوائی 3.7 فیصد زیادہ جبکہ سندھ میں 36.6 فیصد تک کم ہے، مجموعی طور پر گزشتہ سیزن کے مقابلے میں کپاس کی بوائی میں 4فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جس سے کپاس کی پیداوار بھی کم رہنے کا خدشہ ہے۔
Load Next Story