کسٹم انٹیلی جنس نے23 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری پکڑلی

ڈی ٹی آرای کے تحت صنعت کے نام پرپلاسٹک دانہ درآمدکرکے کراچی میں بیچا جارہاتھا.

گودام پرچھاپہ مارکرمال ضبط،متعلقہ درآمدکنندہ کیخلاف ایف آئی آردرج کرلی گئی،ذرائع۔ فوٹو: فائل

ڈائریکٹریٹ جنرل کسٹمزانٹیلی جنس اینڈانوسٹی گیشن ایف بی آرکراچی کے شعبہ اپریزمنٹ نے ایک کامیاب کارروائی میں پیکس کلکٹریٹ سے ''ڈی ٹی آرای ''کے تحت کلیئرکرائے جانے والے پلاسٹک دانے کے کنسائنمنٹس پر23کروڑسے زائد مالیت کی کسٹمزڈیوٹی و ٹیکسز چوری کی کوشش ناکام بنادی۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایاکہ ''ایم کے بی انٹرپرائزز'' نے ایس آر او450 کی سہولت کا ناجائزفائدہ اٹھانے والے 4 کنٹینر UACU-8303490، UACU-8376856، UACU-8376774 اور IKSU-4111946 جن میں ڈی ٹی آرای کے تحت پلاسٹک دانہ (خام مال) درآمد کیا گیا تھا لیکن پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل سے کلیئرہونے والے مذکورہ کنٹینرز جس صنعت کے نام پر منگوائے گئے تھے وہ پشاورمیں قائم ہے تاہم مذکورہ کنسائمنٹس ایم کے بی انٹرپرائزز واقع پشاور لے جانے کے بجائے سائٹ ایریا کراچی میں قائم حمزہ نامی ایک نجی گودام میں اتارے گئے۔

ذرائع نے بتایاکہ کسٹمزانٹیلی جنس کے متعلقہ حکام نے ایک خفیہ اطلاع پرحمزہ گودام پر چھاپہ مارا تو یہ واضح ہوا کہ ''ایم کے بی انٹرپرائزز'' کی جانب سے اکتوبر 2012 تا اپریل 2013کے دوران پلاسٹک دانہ کے 9کنسائنمنٹس درآمدکیے گئے تھے اوراس مدت میں 13کروڑ 41 لاکھ 54ہزار437روپے مالیت کا 885 میٹرک ٹن پلاسٹک دانہ ڈی ٹی آرای کی سہولت کاناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے درآمد کیا گیا اور پلاسٹک دانے کے مذکورہ کنسائمنٹ پرغیرقانونی طور پر ڈی ٹی آرای کی سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے کسٹمز ڈیوٹی ودیگر ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے کو3کروڑ74لاکھ15ہزار672روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔




ذرائع نے بتایاکہ کسٹمز انٹیلی جنس نے گودام سے 885 میٹرک ٹن پلاسٹک دانہ ضبط کرکے متعلقہ درآمدکنندہ کے خلاف ایف آئی آر Appg-533/DCIWEBOC/FIR/2013 درج کرلی جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ''ایم کے بی انٹرپرائزز'' نے جنوری 2010 تا اپریل 2013کے دوران مجموعی طور پر 74 کروڑ 21 لاکھ 12ہزارروپے مالیت کا 5474 میٹرک ٹن پلاسٹک دانہ ڈی ٹی آرای کی سہولت کے ساتھ درآمدکرکے قومی خزانے کو کسٹمز ڈیوٹی ودیگر ٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر 23 کروڑ74لاکھ75ہزار 840روپے کا نقصان پہنچایا۔

ذرائع نے بتایاکہ درآمدکنندہ کی جانب سے درآمدکیے جانے والے کنسائنمنٹس پشاورمیں قائم صنعتی یونٹ کو ترسیل کرنے کے بجائے کراچی میں گودام میں اتار کر فروخت کیے گئے اور جعلی دستاویزات کے ذریعے یہ ظاہر کیا گیاکہ درآمدکیاجانے والا پلاسٹک دانہ (خام مال) صنعتی یونٹ میںتیارکرکے افغانستان برآمدکردیاگیاہے۔
Load Next Story