اوپننگ میں 17واں تجربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا
انگلینڈ میں سب سے بڑی شراکت20رنز کی رہی،امام الحق کی18.66اوسط
چیف سلیکٹر کو بھتیجے اور ٹیم سلیکشن کے حوالے سے وضاحتیں دینا پڑ گئیں۔ فوٹو : فائل
گزشتہ 6 سال میں پاکستان کااوپننگ میں17واں تجربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔
ٹیسٹ کرکٹ میں اوپننگ پاکستان کا دیرینہ مسئلہ بن چکا،گذشتہ 6سال میں مختلف 16 جوڑیاں آزمائی جا چکی ہیں، حالیہ دورئہ انگلینڈ میں 17واں تجربہ کیا گیا، آخری 18ٹیسٹ میں ہی 8اوپننگ پیئرز کی آزمائش ہوئی۔
محمد حفیظ اور شان مسعود، محمد حفیظ اور سمیع اسلم، اظہر علی اور سمیع اسلم، اظہر علی اور شرجیل خان، اظہر علی اور احمد شہزاد، اظہر علی اور شان مسعود بطور اوپننگ جوڑی میدان میں اتارے جا چکے ہیں، سری لنکا کیخلاف یواے ای میں منعقدہ گذشتہ سیریز میں سمیع اسلم اور شان مسعود بطور اوپنر کھیلے تھے۔
آئرلینڈ اور انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ میچز میں پاکستان نے اظہر علی اور امام الحق پر انحصار کیا مگر دونوں ناکام رہے، سینئر بیٹسمین کی کارکردگی کسی طور شایان شان نہیں کہی جا سکتی،آئرلینڈ کیخلاف ایک ففٹی کے بعد امام الحق نے بھی مایوس کیا اور صرف 18.66کی اوسط سے رنز بناسکے،دونوں اوپنرز کے مابین انگلینڈ میں کھیلی گئی 4اننگز میں سب سے بڑی شراکت 20کی رہی۔
ٹاپ آرڈر کی ناکامی پر دباؤ کا شکار ہونے والی بیٹنگ کو شاداب و دیگر ٹیل اینڈرز سہارا دیتے رہے، پاکستان کی آئندہ ٹیسٹ سیریز رواں سال کے آخر میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کیخلاف ہونگی۔ یواے ای یا ملائیشیا جہاں بھی سیریز ہو پاکستان کی جانب سے ایک اور تجربہ خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوسری جانب اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہاکہ نوجوان ٹیم بھجوانے کی وجہ سے بڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اختتام پر یہی کہوں گا کہ سیریز سے میں بہت مطمئن ہوں۔
ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں میں صلاحیتیں نظر آئیں، اگر ان پر اعتماد کیا جائے تو 1،2 برس میں یہی ورلڈ کلاس کرکٹرز بنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ امام الحق میرے لیے ایک کھلاڑی کی حیثیت رکھتا ہے، توجہ بھتیجے پر نہیں پوری ٹیم کی کارکردگی پر ہوتی ہے، اتنا ضرور کہوں گا کہ اوپنر نے اپنی صلاحیتیں دکھائیں جس کی وجہ سے وہ آگے جا سکتا ہے۔
چیف سلیکٹر نے کہا کہ مصباح اور یونس کے بعد اظہر علی اور اسد شفیق پر دباؤ بڑھا جسکی وجہ سے وہ توقعات پر پورا نہ اترے۔ انھوں نے کہا کہ کپتان سرفراز احمد تینوں فارمیٹ کی ٹیموںکو اچھا لے کر چل رہے ہیں، کپتان ہونے کی وجہ سے دباؤ بڑھنا فطری بات ہے، جہاں تک ان کی اپنی کارکردگی کی بات ہے تو اس کو مزید بہتر ہونا چاہیے،وہ اس سے اچھا پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں اوپننگ پاکستان کا دیرینہ مسئلہ بن چکا،گذشتہ 6سال میں مختلف 16 جوڑیاں آزمائی جا چکی ہیں، حالیہ دورئہ انگلینڈ میں 17واں تجربہ کیا گیا، آخری 18ٹیسٹ میں ہی 8اوپننگ پیئرز کی آزمائش ہوئی۔
محمد حفیظ اور شان مسعود، محمد حفیظ اور سمیع اسلم، اظہر علی اور سمیع اسلم، اظہر علی اور شرجیل خان، اظہر علی اور احمد شہزاد، اظہر علی اور شان مسعود بطور اوپننگ جوڑی میدان میں اتارے جا چکے ہیں، سری لنکا کیخلاف یواے ای میں منعقدہ گذشتہ سیریز میں سمیع اسلم اور شان مسعود بطور اوپنر کھیلے تھے۔
آئرلینڈ اور انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ میچز میں پاکستان نے اظہر علی اور امام الحق پر انحصار کیا مگر دونوں ناکام رہے، سینئر بیٹسمین کی کارکردگی کسی طور شایان شان نہیں کہی جا سکتی،آئرلینڈ کیخلاف ایک ففٹی کے بعد امام الحق نے بھی مایوس کیا اور صرف 18.66کی اوسط سے رنز بناسکے،دونوں اوپنرز کے مابین انگلینڈ میں کھیلی گئی 4اننگز میں سب سے بڑی شراکت 20کی رہی۔
ٹاپ آرڈر کی ناکامی پر دباؤ کا شکار ہونے والی بیٹنگ کو شاداب و دیگر ٹیل اینڈرز سہارا دیتے رہے، پاکستان کی آئندہ ٹیسٹ سیریز رواں سال کے آخر میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کیخلاف ہونگی۔ یواے ای یا ملائیشیا جہاں بھی سیریز ہو پاکستان کی جانب سے ایک اور تجربہ خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوسری جانب اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہاکہ نوجوان ٹیم بھجوانے کی وجہ سے بڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اختتام پر یہی کہوں گا کہ سیریز سے میں بہت مطمئن ہوں۔
ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں میں صلاحیتیں نظر آئیں، اگر ان پر اعتماد کیا جائے تو 1،2 برس میں یہی ورلڈ کلاس کرکٹرز بنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ امام الحق میرے لیے ایک کھلاڑی کی حیثیت رکھتا ہے، توجہ بھتیجے پر نہیں پوری ٹیم کی کارکردگی پر ہوتی ہے، اتنا ضرور کہوں گا کہ اوپنر نے اپنی صلاحیتیں دکھائیں جس کی وجہ سے وہ آگے جا سکتا ہے۔
چیف سلیکٹر نے کہا کہ مصباح اور یونس کے بعد اظہر علی اور اسد شفیق پر دباؤ بڑھا جسکی وجہ سے وہ توقعات پر پورا نہ اترے۔ انھوں نے کہا کہ کپتان سرفراز احمد تینوں فارمیٹ کی ٹیموںکو اچھا لے کر چل رہے ہیں، کپتان ہونے کی وجہ سے دباؤ بڑھنا فطری بات ہے، جہاں تک ان کی اپنی کارکردگی کی بات ہے تو اس کو مزید بہتر ہونا چاہیے،وہ اس سے اچھا پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔