اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل‘ جوہری تبدیلیوں کی ضرورت

سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان محض تماشائی ہیں اور ان کا کسی عالمی ایشو پرکوئی فعال کردار نہیں ہے۔

سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان محض تماشائی ہیں اور ان کا کسی عالمی ایشو پرکوئی فعال کردار نہیں ہے۔ فوٹو: فائل

بلجیم، ڈومنیک ریپبلک، جرمنی، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ہوئے ہیں، غیر مستقل رکن ملک کے عہدے کی میعاد دو برس ہوتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ پانچوں ملک یکم جنوری 2019ء سے اْس 15 رکنی تنظیم کے دھارے میں شامل ہوں گے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اگلے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے دہی میں شش و پنج کی کیفیت جاری رہی، جس میں ایک علاقائی گروپ پہلی بار کامیاب ہوا۔ایشیا پیسیفک گروپ کی ایک نشست پر مقابلہ ہوا، جہاں انڈونیشیا نے مالدیپ کو 46 کے مقابلے میں 144 سے ہرایا۔منتخب ہونے کے لیے رکن ممالک خفیہ رائے دہی میں حصہ لیتے ہیں اور کامیابی کے لیے امیدوار کو دو تہائی کی اکثریت حاصل کرنی ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعدادبڑھانے میں جلدبازی خطرناک ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان میں اضافے کاخواہش مند ہے، سلامتی کونسل میں اصلاحات سے رکن ممالک کے سٹرٹیجک مفادات وابستہ ہیں۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا برازیل، جرمنی، بھارت اورجاپان کااٹل موقف عالمی ادارے کے لیے مناسب نہیں، عالمی مسائل کے حل کے لیے لچک اور سمجھوتوں سے کام لینا چاہیے۔


اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبر ہیں جن میں امریکا' روس' چین' برطانیہ اور فرانس شامل ہیں' ان ممالک کو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہے' سلامتی کونسل ویسے تو پندرہ ممالک پر مشتمل ہے لیکن اس کی اصل طاقت پانچ مستقل ممالک ہی ہیں' ان کی مرضی کے مطابق ہی اس کونسل میں کوئی قرار داد منظور ہو سکتی ہے' بھارت' جاپان' جرمنی اور برازیل اس کونسل میں مستقل ممالک کی تعداد کو بڑھانا چاہتے ہیں' اس سلسلے میں یہ ملک عرصے سے اپنی کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہ تاحال کامیاب نہیں ہو سکے۔

اس حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل بجا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد کو نہ بڑھایا جائے بلکہ غیر مستقل ارکان کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر ویٹو پاور استعمال کرنے کے حوالے سے بھی کوئی فارمولہ ہونا چاہیے تاکہ وہ صریح ناانصافی نہ کر سکیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان محض تماشائی ہیں اور ان کا کسی عالمی ایشو پرکوئی فعال کردار نہیں ہے' ضرورت اس امر کی ہے کہ سلامتی کونسل کے ڈھانچے اور قوانین میں بنیادی اور جوہری نوعیت کی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ کمزور ممالک کو بھی برابری کا احساس ہو۔

 
Load Next Story