تھرکول بلاک 2 سے کوئلے کی پہلی تہہ دریافت

تھر کے کوئلے سے کئی دہائیوں تک ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، ماہرین

تھر کے کوئلے سے کئی دہائیوں تک ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، ماہرین۔ فوٹو: ایکسپریس

پاکستان بے پناہ معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے تھر میں کوئلے کے اتنے بڑے ذخائر موجود ہیں جو برسوں پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں تھر کے علاقے میں کوئلے کے ذخائر پر مختلف پروجیکٹ جاری ہیں۔

25 سال کے انتظار کے بعد پاکستانیوں کے لیے یہ ایک بڑی خوشخبری ہے کہ تھرکول میں 140 میٹر کھدائی کے بعد کوئلے کی پہلی تہہ دریافت ہوگئی ہے۔ جس کے بعد وہاں سے کوئلہ نکالنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔


اسلام کوٹ کے قریب تھرکول کے بلاک 2 میں کوئلے کی کھدائی کرنے والی کمپنی نے 140 کلومیٹر گہرائی میں کوئلے کی پہلی تہہ دریافت کرکے پہلا سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ کمپنی نے جدید مشینری کی مدد سے زیر زمین پانی کو باہر نکالنے کے بعد تھرکول میں موجود کوئلے کے 2 ارب ٹن کے ذخائر کی پہلی تہہ سے کوئلہ نکالنے کا کام شروع کردیا ہے۔

واضح رہے تھر میں کوئلے کی موجودگی کا علم 1992 میں ہوا تھا۔ تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر کی بازیابی توانائی کی قلت کا شکار پاکستانی قوم کا ایک دیرینہ خواب رہا ہے جو بالآخر حقیقت میں ڈھلتا دکھائی دے رہا ہے، پاکستان نے توانائی میں خودانحصاری کی منزل کی جانب ایک تاریخی سنگ میل طے کرلیا ہے۔

اس وقت پاکستان کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ تھر کے کوئلے سے کئی دہائیوں تک ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو وسائل سے نوازنے میں قدرت نے جس فیاضی کا مظاہرہ کیا ہے، پاکستانی حکومت کو ان وسائل کے استعمال میں اسی قدر دانشمندی اور فراست کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
Load Next Story