ایف پی سی سی آئی کی رابطہ مہم شروع سیاسی جماعتوں سے معاشی ایجنڈا سامنے لانے کا مطالبہ
بجٹ ایڈوائزری کونسل کی جانب سے تمام پارٹیوں کے قائدین کو انفرادی طور پر فیڈریشن ہائوس کراچی دورے کی دعوت
بجٹ ایڈوائزری کونسل کی جانب سے تمام پارٹیوں کے قائدین کو انفرادی طور پر فیڈریشن ہائوس کراچی دورے کی دعوت، خطوط ارسال کردیے فوٹو: فائل
ایف پی سی سی آئی نے سیاسی جماعتوں سے معاشی رابطہ مہم شروع کردی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خطوط روانہ کردیے ہیں جن میں عام انتخابات سے قبل ملک کی معیشت کو درپیش بحران کا حل فراہم کرنے کے لیے تجاویز اور معاشی ایجنڈا سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سنیئر نائب صدر و چیئرمین بجٹ ایڈوائزری کونسل سید مظہر علی ناصر نے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے نام خطوط لکھے ہیں جس میں ان سیاسی جماعتوں کے سربراھان سے درخواست کی ہے کہ وہ انفرادی طور پر فیڈریشن ہائوس کراچی کادورہ کریں اور کسی بھی ممکنہ تاریخ میں ایف پی سی سی آئی کے ممبران کو معاشی ایجنڈا اور ملک کی تر قی کیلیے اپنی اپنی ترجیحات پیش کریں اور ملک کو جو در پیش معاشی چیلنج کا سامنا ہے جس میں توازن ادائیگی، معاشی کمزوری، حکومتی قرضہ جات میں سرکاری سیکٹروں میں مینجمنٹ کا فقدان، شفافیت کا حصول، کرپشن کا خاتمہ ، کاروباری لاگت میں کمی ہونا وغیرہ مسائل کا شکار ہے سے متعلق ان مسائل کو حل کرنے کے لیے جو تجاویز میں انہیں ایف پی سی سی آئی میں پیش کریں کے سیاسی جماعتوں کے پاس اس کا کیا حال ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ کے ان دوروں سے ایف پی سی سی آئی کے ممبران کو باہمی کاروباری مفاد بالخصوص ٹریڈ اور انڈسٹری کو سہو لت دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، برآمدت میں اضافہ اور امپورٹ کو کم کرنے جیسے مسائل کے متعلق تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملے گا۔
مظہر علی ناصر نے کہاکہ حالانکہ 2018کے انتخابات میں چند دن رہ گئے ہیں مگر ابھی تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے اپنے معاشی ایجنڈا کے متعلق معلومات قوم کو صحیح معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اگلی منتخب ہونے والی حکومت کوسخت معاشی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا بہ نسبت پچھلی جانیوالی حکومت سے ہیں ۔ لہذا ایف پی سی سی آئی جو ایپکس ٹریڈ باڈی ہے جو کہ 210ٹریڈ با ڈیز بشمول پو رے پاکستان میں پھیلے ہوئے مقامی چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری، ٹریڈ ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہیں' نے یہ پروگرام شروع کیا ہے کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو مدعوکرے اور ان سے ملک کی معیشت اور مسائل کے حل سے متعلق رائے لی جائے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سنیئر نائب صدر و چیئرمین بجٹ ایڈوائزری کونسل سید مظہر علی ناصر نے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے نام خطوط لکھے ہیں جس میں ان سیاسی جماعتوں کے سربراھان سے درخواست کی ہے کہ وہ انفرادی طور پر فیڈریشن ہائوس کراچی کادورہ کریں اور کسی بھی ممکنہ تاریخ میں ایف پی سی سی آئی کے ممبران کو معاشی ایجنڈا اور ملک کی تر قی کیلیے اپنی اپنی ترجیحات پیش کریں اور ملک کو جو در پیش معاشی چیلنج کا سامنا ہے جس میں توازن ادائیگی، معاشی کمزوری، حکومتی قرضہ جات میں سرکاری سیکٹروں میں مینجمنٹ کا فقدان، شفافیت کا حصول، کرپشن کا خاتمہ ، کاروباری لاگت میں کمی ہونا وغیرہ مسائل کا شکار ہے سے متعلق ان مسائل کو حل کرنے کے لیے جو تجاویز میں انہیں ایف پی سی سی آئی میں پیش کریں کے سیاسی جماعتوں کے پاس اس کا کیا حال ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ کے ان دوروں سے ایف پی سی سی آئی کے ممبران کو باہمی کاروباری مفاد بالخصوص ٹریڈ اور انڈسٹری کو سہو لت دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، برآمدت میں اضافہ اور امپورٹ کو کم کرنے جیسے مسائل کے متعلق تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملے گا۔
مظہر علی ناصر نے کہاکہ حالانکہ 2018کے انتخابات میں چند دن رہ گئے ہیں مگر ابھی تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے اپنے معاشی ایجنڈا کے متعلق معلومات قوم کو صحیح معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اگلی منتخب ہونے والی حکومت کوسخت معاشی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا بہ نسبت پچھلی جانیوالی حکومت سے ہیں ۔ لہذا ایف پی سی سی آئی جو ایپکس ٹریڈ باڈی ہے جو کہ 210ٹریڈ با ڈیز بشمول پو رے پاکستان میں پھیلے ہوئے مقامی چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری، ٹریڈ ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہیں' نے یہ پروگرام شروع کیا ہے کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو مدعوکرے اور ان سے ملک کی معیشت اور مسائل کے حل سے متعلق رائے لی جائے۔