تبت پر چین کے اقتدار کیخلاف ایک اور شخص کی خودسوزی

خود کو آگ لگانے والا شخص تبتی خانہ بدوش تھا، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ

خود کو آگ لگانے والا شخص تبتی خانہ بدوش تھا، انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ

KARACHI:
تبتی باشندوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ تبت پر چین کے اقتدار کے خلاف بطورِ احتجاج ایک اور شخص نے خودسوزی کرلی ہے۔لندن میں قائم تنظیم 'فری تبت کے ڈائریکٹراسٹیفنی برگٹن نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ خود کو آگ لگانے والا شخص تبتی خانہ بدوش تھا جس نے چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان کے قصبے مروما میں خود سوزی کی۔مقتول کی شناخت 24 سالہ جوپا کے نام سے ہوئی ہے۔


تنظیم کی سربراہ کے مطابق واقعہ کے فوری بعد حکام نے چینی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار وں کی بڑی تعداد قصبے میں تعینات کردی تھی۔اس سے قبل فری تبت نے رواں ہفتے کے آغاز میں اطلاع دی تھی کہ چین کے صوبے گانسو میں ایک خانقاہ کے باہر ایک خاتون نے خود کو آگ لگا کر ہلاک کرلیا ہے۔

تنظیم کے مطابق متوفیہ دو بچوں کی ماں تھی۔بعد ازاں صوبہ سیچوان ہی کی ایک خانقاہ سے منسلک 21 سالہ بھکشو نے بھی بطورِ احتجاج خودسوزی کی کوشش کی تھی تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بروقت مداخلت سے اس کی جان بچالی گئی ہے۔فری تبت تنظیم کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ خودسوزیوں پر مشتمل اس احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبتی باشندے خود کو درپیش مشکلات سے بیرونی دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے یہ انتہائی قدم تک اٹھانے پر مجبور ہورہے ہیں۔
Load Next Story