چیمپئنز ٹرافی پاکستان نے ہتھیاروں کی آزمائش شروع کردی

13کرکٹرز بلیپ ٹیسٹ سمیت مختلف سخت مراحل سے گذرتے ہوئے فٹنس ثابت کرنے کے لیے کوشاں دکھائی دیے.

کپتان مصباح الحق،محمد حفیظ، سعید اجمل اور یاسر عرفات کے ٹیسٹ کل ہوں گے،میڈیکل کمیشن نے کسی پلیئر کو غیر معمولی فٹنس کا حامل قرار نہیں دیا. فوٹو: آئی سی سی

چیمپئنز ٹرافی میں برتری کی جنگ لڑنے کیلیے پاکستان نے ہتھیاروں کی آزمائش شروع کردی،8ملکی ٹورنامنٹ میں شرکت کے امیدواروں سمیت 13کرکٹرز گذشتہ روز بلیپ ٹیسٹ سمیت مختلف سخت مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی فٹنس ثابت کرنے کیلیے کوشاں رہے۔

صبح8سے ساڑھے4 بجے تک ہونے والے3 سے زیادہ سیشنز کے دوران مختلف ٹرائلز میں کسی کھلاڑی کا کوئی بہت بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا، نوٹ کی جانے والی خامیاں دور کرنے کیلیے مشورے دیدیے گئے، ذرائع کے مطابق میڈیکل کمیشن نے کسی پلیئر کو غیر معمولی فٹنس کا حامل قرار نہیں دیا،کپتان مصباح الحق اور محمد حفیظ سرگودھا سے واپسی کے بعدگزشتہ روز شام5بجے نیشنل کرکٹ اکیڈمی واپس آئے، ان سمیت سعید اجمل اور یاسر عرفات کے ٹیسٹ پیر کو ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق دورئہ جنوبی افریقہ میں پاکستان ٹیم کو کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، فاسٹ بولرز عمر گل اور محمد عرفان سمیت5اہم پلیئرز کی انجریز نے شکستوں کی زد میں آئی مہمان سائیڈ کی مشکلات میں اضافہ کیا۔

کپتان مصباح الحق کے کہنے پر چیمپئنز ٹرافی کیلیے اسکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے جونیئر سینئر کو خاطر میں لائے بغیر فٹنس کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا، فاسٹ بولنگ کیمپ میں شریک پیسرز اور چند کھلاڑیوں کی جسمانی استعداد کے ٹیسٹ کراچی میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا، دوسری طرف گزشتہ روز ناصر جمشید، شعیب ملک،کامران اکمل، عمر امین، عمر اکمل، عمران فرحت، احمد شہزاد، حارث سہیل، عبدالرحمان، ذوالفقار بابر،اعزاز چیمہ، عدنان اکمل اور توفیق عمر کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں بلایاگیا تھا، کپتان مصباح الحق اور محمد حفیظ سرگودھا اسٹیڈیم میں جمعے کو تقریب میں شرکت کے بعد گذشتہ روز شام 5بجے نیشنل کرکٹ اکیڈمی واپس آئے،ان سمیت سعید اجمل اور یاسر عرفات کی فٹنس پیر کو جانچی جائے گی۔

 




دیگر13کھلاڑیوں نے صبح 8 سے شام ساڑھے 4بجے تک تین مختلف سیشنز میں بلیپ ٹیسٹ دینے کے ساتھ جمپ، پش اپ، اسپرنٹ ، باڈی ویٹ اور بنچ پریس سمیت مختلف ڈرلز میں شرکت کرکے پی سی بی کے میڈیکل کمیشن کو فٹنس جانچنے کا موقع فراہم کیا، اس موقع پر فیلڈنگ کوچ جولین فائونٹین بھی کچھ دیر کیلیے موجود رہے لیکن انھوں نے ڈاکٹر اور ٹرینرز کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کی، ذرائع کے مطابق دورئہ جنوبی افریقہ میں فٹنس مسائل کا نزلہ جس ڈاکٹر پرگرانے کی کوشش کی گئی ،انھیں ملازمت کے لالے پڑ گئے تھے، گذشتہ روز ٹیسٹ کے دوران ان کی خدمات حاصل کرنے سے گریز کیا گیا۔

میڈیکل کمیشن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کسی کرکٹر کا فٹنس کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا، دوپہر کو کھانے کے وقفے کو چھوڑ کر مسلسل مشقت میں مصروف رہنے والے کھلاڑی خاصی تھکاوٹ کا شکار نظر آئے،ٹیسٹ کے دوران پلیئرز کو نوٹ کی جانے والی معمولی خامیوں سے بھی آگاہ کیا گیا،ذرائع کے مطابق اگرچہ ابتدائی طور کسی کرکٹر کو ان فٹ قرار نہیں دیا گیا، تاہم ابھی تک کسی ایک کی بھی ایسی غیر معمولی فٹنس سامنے نہیں آئی جسے انٹرنیشنل معیار کے تحت مثالی قرار دیا جا سکے۔

دوسری طرف ماضی کے تجربات کے سبب زیادہ محتاط نظر آنے والے میڈیکل کمیشن نے بھی سارا دن کھلاڑیوں کو مصروف رکھنے کے بعد الگ رپورٹس ترتیب دیدیں ہیں، جنھیں باقی پلیئرز کے ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد سلیکٹرز کو دیا جائیگا۔ معلوم ہوا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے تاحال 19 کھلاڑیوں کی فہرست تیار کر رکھی ہے، حتمی اسکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے جس پوزیشنز پر ایک سے زیادہ کرکٹرز میں ٹائی ہوگی، وہاں فیصلہ اس کے حق میں ہوگا جس کا فٹنس لیول دوسرے سے بہتر ہوگا، اسی طرح کے فیصلے سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملے میں بھی متوقع ہیں، گزشتہ روز عدنان اکمل اور توفیق عمر کو بھی بلایا جانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
Load Next Story