دہشت گردی کے واقعات انتخابی مہم محدود آرڈر کے منتظر پکوان سینٹرز اور تاجر مایوس

الیکشن میں ورکرزکیلیےکھانےکااہتمام انتخابی مہم کاحصہ ہیں،دہشتگردی کےسبب انتخابی سرگرمیاں بری طرح متاثرہورہی ہیں.

سال رواں الیکشن پر کاروباری سرگرمیاں ایک فیصد بھی نہیں بڑھ سکیں، جوڑیا بازار3 روز سے بند ہے،معمول کا کاروباربھی دشوار ہوگیا،تاجر رہنما. فوٹو اے ایف پی

شہر میں جاری بدامنی اور سیاسی جماعتوں کے خدشات کے سبب الیکشن کیلیے کھانے پینے کی اشیا کی خریداری کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے اور الیکشن کے موقع پر آرڈرزکے منتظر پکوان سینٹر مالکان اور خوردنی اشیا کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو سخت مایوسی کا سامنا ہے۔

الیکشن کے موقع پر سیاسی ورکرز اورووٹرز کیلیے کھانے پینے کا اہتمام انتخابی مہم کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، امیدواروں کے عوامی رابطہ دفاتر میں کام کرنے والے سیاسی ورکرز کے ساتھ سپورٹرز کے لیے بھی کھانے پینے کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس وجہ سے چائے کی پتی، چینی، دودھ، چاول، گوشت، گھی تیل اور مصالحہ جات کی کھپت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے تاہم اس سال شہر میں بدامنی اور دہشت گردی کے سبب انتخابی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔

جوڑیا بازار میں تھوک تاجروں کی انجمن کے سینئر رکن اور تاجر رہنما عبدالقادر نورانی (بھولو بھائی) کے مطابق اس سال الیکشن کے موقع پر کاروباری سرگرمیاں ایک فیصد بھی نہیں بڑھ سکیں، ملک کی سب سے بڑی تھوک منڈی جوڑیا بازار گزشتہ3 روز سے بند پڑا ہے اور معمول کا کاروبار کرنا بھی دشوار ہوگیا ہے، انھوں نے بتایا کہ2008 کے موقع پر امن و امان کی حالت کافی بہتر تھی اورانتخابی سرگرمیاں آزادانہ جاری تھیں، اس موقع پر نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ سمیت پنجاب کے بڑے شہروں کے لیے کراچی کی منڈی سے مصالحہ جات اور دیگر اشیا سپلائی کی گئی تھیں ۔




تاہم اس سال الیکشن کے بارے میں خدشات، دہشت گردی اور بم دھماکوں کے سبب الیکشن کے حوالے سے خوردنی اشیا کا کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے، انھوں نے کہا کہ جوڑیا بازار بند ہونے سے شہر بھر میں روز مرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل متاثر ہورہی ہے بالخصوص روز مرہ بنیادوں پر خریداری کرنے والے پکوان ہائوسز چھوٹے ہوٹل اور خوانچوں پر کھانا فروخت کرنے والوں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے، کراچی ریٹیل گراسرز گروپ کے جنرل سیکریٹری محمد فرید قریشی کے مطابق تھوک مارکیٹ کی طرح خوردہ سطح کے دکاندار بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

الیکشن کے موقع پر روایتی گہما گہمی کا فقدان کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہورہا ہے، اس سال ملکی تاریخ کے بد ترین انتخابی حالات کا سامنا ہے، انھوں نے بتایا کہ حالات کے سبب گھریلو خریداری بھی متاثر ہورہی ہے اور ابھی تک الیکشن کے لیے خوردنی اشیا کی خریداری نہیں ہوسکی ہے، ادھر لیاقت آباد میں قائم متعدد پکوان سینٹرز کے مالکان نے بھی موجودہ صورتحال کو مایوس کن قرار دیا،انھوں نے کہا کہ لگتا ہی نہیں کہ الیکشن ہونے والے ہیں ورنہ گزشتہ الیکشن میں اس وقت تک پکوان سینٹرز کے پاس یومیہ درجنوں آرڈرز بک کرائے جارہے تھے، الیکشن کے موقع پر کھانے پینے کے آئٹمز کی کھپت نہ بڑھنے سے پکوان سینٹرز کے ساتھ ساتھ گوشت، سبزیاں، مصالحہ جات، دودھ دہی، نان بائیوں اور پکوان کے آرڈرز کی ترسیل پر مامور کمرشل گاڑیوں کا کام بھی ٹھپ پڑا ہے۔
Load Next Story