حالات جیسے بھی ہوں11 مئی کوالیکشن ہونے چاہئیںمنورحسن
خونریزی کے خطرے کے پیش نظرپولنگ اسٹیشنوں پرفوجی جوان متعین کیے جائیں.
پوری قوم اورقومی ادارے متحدہوکرپاکستان و جمہوریت دشمن عناصرکو ناکام بنا دیں ۔ فوٹو: فائل
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے کہا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، 11 مئی کو ہرصورت انتخابات ہونے چاہئیں، انتخابات میں ایک دن کا التوا بھی قابل قبول نہیں۔
انتخابات میں تاخیرسے حالات بگڑنے اور ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،گوکہ ملک بھرمیں خصوصاً خیبر پختونخوا ، بلوچستان اورکراچی میں امن وامان کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے، حالات کودرست کرنے کا واحد راستہ انتخابات ہی ہیں، ایک جمہوری حکومت ہی قومی و ملکی مسائل حل کر سکتی ہے۔ انھوں نے یہ بات ہفتے کو منصورہ سے جاری کردہ اپنے بیان میں کہی۔
سید منورحسن نے کہاکہ ملک دشمن قوتیں اپنے بیرونی سرپرستوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکرملک میں افراتفری اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے بم دھماکے اور خود کش حملے کررہی ہیں، گزشتہ ہفتے ہونے والے خونی واقعات کی وجہ سے ملک میں غیریقینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے جس سے عوام کے ذہنوں میں انتخابات کے التوا کے بارے میں خدشات جنم لے رہے ہیں، عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن امن وامان کو بحال کرنے کیلیے ٹھوس اقدامات کریں جوعملاً نظر بھی آئیں اور عوام کو ان پر یقین بھی آئے۔منور حسن نے کہاکہ پوری قوم اورقومی ادارے متحد ہوکر پاکستان و جمہوریت دشمن عناصرکو ناکام بنادیں۔انھوں نے کہاکہ موجودہ انتخابات کو فری اینڈ فیئر کرانے اور ووٹرز اور انتخابی عملے کوتحفظ فراہم کرنے کیلیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر پولنگ اسٹیشنوں پر فوجی جوان متعین کیے جائیں ورنہ وسیع پیمانے پر خونریزی کا خطرہ ہے۔
انتخابات میں تاخیرسے حالات بگڑنے اور ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،گوکہ ملک بھرمیں خصوصاً خیبر پختونخوا ، بلوچستان اورکراچی میں امن وامان کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے، حالات کودرست کرنے کا واحد راستہ انتخابات ہی ہیں، ایک جمہوری حکومت ہی قومی و ملکی مسائل حل کر سکتی ہے۔ انھوں نے یہ بات ہفتے کو منصورہ سے جاری کردہ اپنے بیان میں کہی۔
سید منورحسن نے کہاکہ ملک دشمن قوتیں اپنے بیرونی سرپرستوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکرملک میں افراتفری اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے بم دھماکے اور خود کش حملے کررہی ہیں، گزشتہ ہفتے ہونے والے خونی واقعات کی وجہ سے ملک میں غیریقینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے جس سے عوام کے ذہنوں میں انتخابات کے التوا کے بارے میں خدشات جنم لے رہے ہیں، عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن امن وامان کو بحال کرنے کیلیے ٹھوس اقدامات کریں جوعملاً نظر بھی آئیں اور عوام کو ان پر یقین بھی آئے۔منور حسن نے کہاکہ پوری قوم اورقومی ادارے متحد ہوکر پاکستان و جمہوریت دشمن عناصرکو ناکام بنادیں۔انھوں نے کہاکہ موجودہ انتخابات کو فری اینڈ فیئر کرانے اور ووٹرز اور انتخابی عملے کوتحفظ فراہم کرنے کیلیے ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر پولنگ اسٹیشنوں پر فوجی جوان متعین کیے جائیں ورنہ وسیع پیمانے پر خونریزی کا خطرہ ہے۔