کسی نے اغوا یا قید نہیں کیا سسرال میں خوش ہوں آمنہ
ایس ایچ او نے عدالت کے حکم پر مغویہ کوبازیاب کرکے اس کے شوہر شبیر کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا تھا۔
عدالت نے آمنہ کا بیان قلمبند کرنے کے بعد حبس بے جا کی درخواست مسترد کردی. فوٹو فائل
HILLA:
بیٹی نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے والد کو فون کرکے اپنے سسرال والوں کے ظلم کا انکشاف کیا تاہم عدالت میں اپنے ہی باپ کو جھوٹا قرار دیکر بے عزت کردیا، عدالت میں مغویہ مسماۃ آمنہ کے مکر جانے پر بہن اور کزن کے ساتھ سخت الفاظ کا تبادلہ، عدالت نے والد کی جانب سے دائر درخواست مغویہ کی بیان قلمبند کرنے کے بعد مسترد کردی۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر محمد یامین کی عدالت میں درخواست گزار محمد صدیق نے ضابطہ فوجداری کی ایکٹ491 کے تحت حبس بے جا کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اس کی بیٹی مسماۃ آمنہ نے چار ماہ قبل شبیر نامی شخص سے پسند کی شادی کی، دو روز قبل اس کی بیٹی نے فون کرکے اسے اطلاع دی کہ سسرال والوں نے اسے کمرے میں قید کردیا ہے اور شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور قتل کا خدشہ ظاہر کیا ہے، بیٹی نے اسے سسرال والوں کے چنگل سے جھڑانے کی استدعا کی، درخواست میں بیٹی کو بازیاب کرنے کی استدعا کی تھی، فاضل عدالت نے فوری طور پر ایس ایچ او تھانہ ملیر کو مغویہ کی بازیابی کا حکم دیا تھا، ایس ایچ او نے عدالت کے حکم پر مغویہ کوبازیاب کرکے اس کے شوہر شبیر کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا تھا۔
بیٹی نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے والد کو فون کرکے اپنے سسرال والوں کے ظلم کا انکشاف کیا تاہم عدالت میں اپنے ہی باپ کو جھوٹا قرار دیکر بے عزت کردیا، عدالت میں مغویہ مسماۃ آمنہ کے مکر جانے پر بہن اور کزن کے ساتھ سخت الفاظ کا تبادلہ، عدالت نے والد کی جانب سے دائر درخواست مغویہ کی بیان قلمبند کرنے کے بعد مسترد کردی۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر محمد یامین کی عدالت میں درخواست گزار محمد صدیق نے ضابطہ فوجداری کی ایکٹ491 کے تحت حبس بے جا کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اس کی بیٹی مسماۃ آمنہ نے چار ماہ قبل شبیر نامی شخص سے پسند کی شادی کی، دو روز قبل اس کی بیٹی نے فون کرکے اسے اطلاع دی کہ سسرال والوں نے اسے کمرے میں قید کردیا ہے اور شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور قتل کا خدشہ ظاہر کیا ہے، بیٹی نے اسے سسرال والوں کے چنگل سے جھڑانے کی استدعا کی، درخواست میں بیٹی کو بازیاب کرنے کی استدعا کی تھی، فاضل عدالت نے فوری طور پر ایس ایچ او تھانہ ملیر کو مغویہ کی بازیابی کا حکم دیا تھا، ایس ایچ او نے عدالت کے حکم پر مغویہ کوبازیاب کرکے اس کے شوہر شبیر کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا تھا۔