اداروں کے ٹکرائو سے جمہوری عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے
پیپلزپارٹی کوعوام کی حمایت حاصل ہےاوروہ بھاری اکثریت سےکامیابی حاصل کرکےچاروںصوبوںمیںحکومتیں بنائے گی، عبدالغنی تالپور
ملک کو بحران سے نکالنے کیلیے پارلیمنٹ کی بالا دستی تسلیم کی جائے،عبدالغنی تالپور
لاہور:
رکن قومی اسمبلی نواب عبدالغنی تالپور نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کر لی جائے تو ملکی بحران کا حل نکل سکتا ہے، اداروں کے ٹکرائو کے باعث جمہوری عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے ذمے دار سیاستدانوں کے ساتھ ادارے بھی ہوں گے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجنے کے فیصلے کے بعد پارٹی کے لیے عوامی ہمدردیوں میں اضافہ ہوا، پیپلز پارٹی اب بھی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور پارلیمنٹ کی5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، ہم کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں گے وہی ہماری اہلیت کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام کی حمایت حاصل ہے اور وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے چاروں صوبوں میں حکومتیں بنائے گی۔ آئین کی بالادستی کے بغیر جمہوریت کا تصور بھی ناممکن ہے، پی پی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
عبدالغنی تالپور نے کہا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، راجہ پرویز اشرف میں سے سابق وزیر اعظم کی خوشبو آتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی خطرے سے دوچار ہے، حزب اختلاف کے سیاستدان اقتدار کی رسہ کشی کے بجائے حکومت کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔
رکن قومی اسمبلی نواب عبدالغنی تالپور نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کر لی جائے تو ملکی بحران کا حل نکل سکتا ہے، اداروں کے ٹکرائو کے باعث جمہوری عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے ذمے دار سیاستدانوں کے ساتھ ادارے بھی ہوں گے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجنے کے فیصلے کے بعد پارٹی کے لیے عوامی ہمدردیوں میں اضافہ ہوا، پیپلز پارٹی اب بھی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور پارلیمنٹ کی5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، ہم کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں گے وہی ہماری اہلیت کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام کی حمایت حاصل ہے اور وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے چاروں صوبوں میں حکومتیں بنائے گی۔ آئین کی بالادستی کے بغیر جمہوریت کا تصور بھی ناممکن ہے، پی پی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
عبدالغنی تالپور نے کہا کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، راجہ پرویز اشرف میں سے سابق وزیر اعظم کی خوشبو آتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی خطرے سے دوچار ہے، حزب اختلاف کے سیاستدان اقتدار کی رسہ کشی کے بجائے حکومت کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔