چیمپئنز ٹرافی میں فتح کی یادیں

’’سلیم ٹیم سے کہنا بس اب ٹرافی کے ساتھ ہی واپس آنا ہے‘‘

’’سلیم ٹیم سے کہنا بس اب ٹرافی کے ساتھ ہی واپس آنا ہے‘‘

سچ پوچھیے تو مجھے اب بھی سب کچھ خواب سا لگتا ہے،پاکستان کی بظاہر کمزور نظر آنے والی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کیسے جیت گئی بہت سے لوگ اتنا وقت گذرنے کے باوجود بھی اس پر حیران ہوں گے، جو کارنامہ بڑے بڑے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں انجام نہ دے سکیں، نوجوانوں پر مشتمل ٹیم نے ایسا کر دکھایا،چیمپئنز ٹرافی سے پاکستان کرکٹ کو ترقی کی جانب ایک ساتھ کئی قدم آگے بڑھانے کا موقع ملا، فخر زمان اور حسن علی اسٹارز بن کر ابھرے، سرفراز احمد نے خود کو بہترین کپتانوں کی صف میں شامل کرایا،اس فتح کو ایک سال گذر گیا اور مجھے کل ہی کی بات لگتی ہے جب ایونٹ کا آغاز بھارت کیخلاف بدترین شکست سے ہوا تھا، یوں ٹیم سے جو تھوڑی بہت توقعات وابستہ تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں۔

شائقین کو ایسا لگنے لگا کہ کھلاڑیوں میں دم خم نہیں اور جلد وطن واپس آ جائیںگے، مگر روایتی حریف سے ہار کے بعد ٹیم زخمی شیر بن کر جنوبی افریقہ پر ٹوٹ پڑی اور ایک آسان فتح سے خود کو ایونٹ میں برقرار رکھا، اسی میچ سے حسن علی نے ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا اہم ہتھیار ثابت ہوںگے،پھر سری لنکا سے ہارا ہوا میچ سرفراز احمد نے تن تنہا جتوا دیا، قسمت بھی ہمارے ساتھ تھی کئی آسان ڈراپ کیچز نے کام آسان بنا دیا، میں اس سے قبل ہی وطن واپس آ چکا تھا، دیگر افراد کی طرح میں نے بھی یہی سوچا کہ یہ ٹیم کہاں چیمپئنز ٹرافی جیتے گی مگر میں غلط تھا، انگلینڈ کوسیمی فائنل میں آؤٹ کلاس کر کے گرین شرٹس نے ثابت کر دیا کہ فائنل میں اگر پھر بھارت سے مقابلہ ہوا تو اس بار نہیں چھوڑیں گے۔

بعد میں ایسا ہی ہوا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان یکطرفہ مقابلے میں 180 رنز کے بھاری مارجن سے فتح حاصل کرے گا مگر ایسا ہوا، خوش قسمتی سے میں اس تاریخی لمحے کو دیکھنے کیلیے دوبارہ پاکستان سے انگلینڈ آ چکا تھا،روانگی کے وقت کراچی ایئرپورٹ پر سابق ہاکی کپتان و کسٹمز آفیسر منصور احمد مرحوم کا وہ جملہ مجھے اب بھی یاد ہے کہ ''سلیم ٹیم سے کہنا بس اب ٹرافی کے ساتھ ہی واپس آنا ہے'' اور پھر ایسا ہی ہوا،فائنل سے ایک دن قبل آئی سی سی نے میڈیا کیلیے ایک چھوٹی سی تقریب سجائی جہاں ٹرافی بھی موجود تھی، میں نے اسے ہاتھوں میں تھام کر تصویر بنوائی اور یہی دعا کی کہ کل سرفراز بھی ایسا ہی کریں، میچ والے دن لندن میں 50 پاؤنڈ والا ٹکٹ 600 کا فروخت ہو رہا تھا، صبح سے ہی اسٹیڈیم کے باہر شائقین کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں، پاکستان اور بھارت میں میڈیا پر بھی خوب ہائپ بنی ہوئی تھی۔


اس سے کھلاڑیوں کا دباؤ میں آنا فطری تھا، خوش قسمتی سے ہمارے پلیئرز نے عمدہ سے اس پریشر کو جھیل لیا، فخر زمان کی دلیرانہ اننگز اس کی واضح مثال ہے انھوں نے دل کھول کر بھارتی بولرز کی پٹائی کی اور سنچری بنائی،بلو شرٹس حواس باختہ دکھائی دیے، کوئی سوچ سکتا تھا کہ ویرات کوہلی جیسا بہترین بیٹسمین مسلسل 2 گیندوں پر کیچز دے گا مگر ان کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے، بلاشبہ اس میچ میں عامر نے کیریئر کا یادگار اسپیل کیا تھا، حسن علی کی بولنگ بھی بہترین تھی، پاکستان کے 338 رنز بننے پر بھی لوگ سمجھ رہے تھے کہ مضبوط بھارتی بیٹنگ لائن شاید ہدف عبور کر لے گی مگر بولرز نے ایسا نہ ہونے دیا اور 158 رنز پر ڈھیر کر کے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا، پاکستان نے یادگار فتح سے قوم کو خوشی سے سرشار کر دیا، میچ کے بعد مجھے گراؤنڈ کے اندر جا کر کھلاڑیوں اور اسٹینڈز میں بیٹھے شائقین کا جشن دیکھنے کا موقع بھی ملا، قومی پرچم لپیٹے شعیب ملک، خوشی سے سرشار سرفراز و دیگر پلیئرز کے مسکراتے چہرے یہ سب انمٹ یادیں ہیں۔

اس وقت ایسا محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ میں انگلینڈ میں ہوں بالکل پاکستان جیسا ماحول تھا، گراؤنڈسے باہر بھی گاڑیوں میں سوار پاکستانی نژاد برطانوی فتح پر خوشیاں منا رہے تھے، مجھے یقین ہے ملک میں بھی ایسا ہی سماں ہوگا، اس وقت کرکٹ نے پوری قوم کو یکجا کر دیا تھا، ''موقع موقع '' گا کر ہمارا مذاق اڑانے والے منہ چھپائے پھر رہے تھے، بھارتی میڈیا کا شور شرابہ بھی سوگ میں بدل چکا تھا، بھارت کو اتنے بڑے ایونٹ میں اتنی آسانی سے ہرانے کا لطف بار بار نہیں حاصل ہوتا، میچ کے بعد میں ٹیم ہوٹل بھی گیا اس کے باہر بھی شائقین کا جم غفیر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا،میں نے سرفراز ، حسن علی و دیگر کرکٹرز سے انٹرویوز بھی کیے، اتنی بڑی فتح کے باوجود کپتان نے خود کو تکبر سے بچائے رکھا، وہ ہر کسی سے انکساری سے مل رہے تھے، سرفراز کی کامیابیوں میں ان کے منکسر المزاج ہونے کا بھی بڑا کردار ہے۔

اس فتح سے پاکستان نے دنیا پر ثابت کیا کہ چاہے ہمارے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ ہو یا نہیں، بھارت ہم سے سیریز کھیلے یا نہیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمارے یہاں ٹیلنٹ ویسے ہی آتا رہے گا اور ہم دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم بلند کرتے رہیں گے،خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک برس گذرنے کے باوجود ٹیم بدستور فتوحات کی راہ پر ہی گامزن ہے، تقریباً وہی اسکواڈ برقرار اوراس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں نے محنت کا سلسلہ جاری رکھا، سرفراز اب بھی ٹیم کی بہترین انداز سے قیادت کر رہے ہیں، حال ہی میں انگلینڈ کو لارڈز میں ہرا کر پاکستان نے اس کا اہم ثبوت پیش کیا، اب انگلینڈ میں ہی اگلے برس ورلڈکپ ہونا ہے، ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہم اگر دوسری بار چیمپئن بننے کا خواب دیکھیں تووہ غلط نہ ہوگا، حسن،شاداب،فخر، بابر جیسے نوجوان اور شعیب ملک و سرفراز جیسے سینئرز کی موجودگی میں ہمارے لیے ورلڈکپ میں فتح کا اچھا موقع ہوگا، گوکہ اس دوران کئی مشکل امتحان آئیں گے لیکن بورڈ اور سلیکٹرز کو نوجوانوں پر اعتماد برقرار رکھنا پڑے گا،اسی صورت ایک اور ٹرافی شو کیس میں سجائی جا سکے گی۔
Load Next Story