ایمنسٹی اسکیم کھربوں کے اثاثے ٹیکس نیٹ میں شامل
بلاشبہ ملک میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے اور ٹیکس وصولی سے ملکی زری اثاثوں میں اضافہ اور معیشت میں بہتری آئے گی۔
بلاشبہ ملک میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے اور ٹیکس وصولی سے ملکی زری اثاثوں میں اضافہ اور معیشت میں بہتری آئے گی۔ فوٹو:فائل
سابق حکومت نے ٹیکس کی شرح کم کرنے اور بیرون ملک اثاثے رکھنے والے افراد کے لیے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا، اس تناظر میں علم ہوا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے 1100پاکستانیوں نے 135 ارب روپے کے اثاثے ٹیکس نیٹ میں شامل کیے ہیں، جن سے حکومت کو 4 ارب روپے کی ٹیکس آمدنی ہوئی۔ بیرون ملک اور ملکی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے ایک ہزار ارب روپے یعنی 8ارب 20کروڑ ڈالر ٹیکس نیٹ میں آنے کا اندازہ ہے۔
ذرایع کے مطابق اثاثے ظاہر ہونے کی اسکیم سے حکومت کو مجموعی طور پر35 ارب روپے ٹیکس ملنے کا امکان ہے۔ واضح رہے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی آخری تاریخ 30 جون 2018 ہے لیکن ملکی ٹیکس بار ایسوسی ایشنز نے اسکیم میں 15 روز توسیع کی تجویز دی ہے۔ بلاشبہ ملک میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے اور ٹیکس وصولی سے ملکی زری اثاثوں میں اضافہ اور معیشت میں بہتری آئے گی، لیکن مناسب ہوگا کہ بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کا سسٹم آسان بنایا جائے، اس سے بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کی رفتار میں تیزی ہوگی۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کی ٹیکس وصولی کا بڑا ہدف حاصل کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں۔ ایف بی آر ذرایع کے مطابق رواں مالی سال کے لیے 3935 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کے لیے فیلڈ دفاتر اور دیگر متعلقہ شعبوں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں.
رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران 3274ارب روپے سے زائد کے محصولات جمع ہوئے ہیں اور 661 ارب روپے 30 جون تک مزید وصول کیے جانے ہیں، کارپوریٹ شعبے اور ایسوسی ایشن آف پرسن کی طرف سے چوتھی سہ ماہی کے لیے ایڈوانس ٹیکس جمع کرانے کے نتیجے میں ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی جب کہ ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں بھی ٹیکس وصولی بڑھنے کا امکان ہے۔
ذرایع کے مطابق اثاثے ظاہر ہونے کی اسکیم سے حکومت کو مجموعی طور پر35 ارب روپے ٹیکس ملنے کا امکان ہے۔ واضح رہے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی آخری تاریخ 30 جون 2018 ہے لیکن ملکی ٹیکس بار ایسوسی ایشنز نے اسکیم میں 15 روز توسیع کی تجویز دی ہے۔ بلاشبہ ملک میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے اور ٹیکس وصولی سے ملکی زری اثاثوں میں اضافہ اور معیشت میں بہتری آئے گی، لیکن مناسب ہوگا کہ بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کا سسٹم آسان بنایا جائے، اس سے بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کی رفتار میں تیزی ہوگی۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کی ٹیکس وصولی کا بڑا ہدف حاصل کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں۔ ایف بی آر ذرایع کے مطابق رواں مالی سال کے لیے 3935 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کے لیے فیلڈ دفاتر اور دیگر متعلقہ شعبوں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں.
رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران 3274ارب روپے سے زائد کے محصولات جمع ہوئے ہیں اور 661 ارب روپے 30 جون تک مزید وصول کیے جانے ہیں، کارپوریٹ شعبے اور ایسوسی ایشن آف پرسن کی طرف سے چوتھی سہ ماہی کے لیے ایڈوانس ٹیکس جمع کرانے کے نتیجے میں ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی جب کہ ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں بھی ٹیکس وصولی بڑھنے کا امکان ہے۔