پاکستان کا زرعی شعبہ
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان زرعی ادویات برآمد کر کے خطیر رقم کماتا مگر یہاں الٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔
بھارت جو زرعی میدان میں پاکستان سے پیچھے تھا آج بہتر منصوبہ بندی کے باعث کہیں آگے نکل چکا ہے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
ملک کی ترقی میں زرعی شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس شعبے کی ترقی کے لیے وہ موزوں اقدامات نہیں کیے گئے جس کا یہ مستحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر حکومتی دعوئوں کے باوجود یہ شعبہ ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر بدقسمتی سے نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ آج عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے زرعی اجناس کا ایک بڑا حصہ درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان زرعی ادویات برآمد کر کے خطیر رقم کماتا مگر یہاں الٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔ جاپان جو ایک زرعی ملک نہیں ، سے زرعی ادویات درآمد کی جا رہی ہیں۔ بھارت جو زرعی میدان میں پاکستان سے پیچھے تھا آج بہتر منصوبہ بندی کے باعث کہیں آگے نکل چکا ہے۔ بھارتی کسان پاکستانی کسان سے زیادہ خوشحال ہے۔
پاکستانی کاشتکار کو مہنگے بیج،بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے دن اضافے اور غیر معیاری ادویات کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک جانب فصلوں کی پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے تو دوسری جانب منڈی کے استحصالی نظام کے باعث اسے اپنی فصل کی وہ قیمت فروخت نہیں ملتی جو اس کا حق ہے۔ محنت کاشتکار کرتا ہے اور خوشحالی کے تمام فوائد آڑھتی سمیٹتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اسے وہ توجہ نہیں مل رہی جس کا وہ مستحق ہے یہی سبب ہے کہ بہت سے کاشتکار بدحالی سے تنگ آ کر زرعی شعبے کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں جس کا نقصان زرعی شعبے کو پہنچ رہا ہے۔
دنیا کا بہترین پھل' چاول' کپاس اور گندم پاکستان میں پیدا ہوتی ہے مگر جدید ٹیکنالوجی سے دوری کے باعث پاکستان کو وہ فوائد حاصل نہیں ہو رہے جو اسے ترقی کے میدان میں آگے لے جا سکتے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان گوشت پیدا کرنے والا دنیا کا 19 واں بڑا ملک ہے جہاں پر 22لاکھ ٹن سالانہ گوشت کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
دنیا میں گوشت کی مارکیٹ کا حجم 600 ارب ڈالر سالانہ ہے جس میں پاکستان کا حصہ صرف 115 ارب ڈالرہے جو ایک افسوسناک امر ہے۔ جب کہ دوسری جانب بھارت سالانہ 23 ارب ڈالر کا حلال گوشت برآمد کرتا ہے۔ پاکستان میں حلال گوشتکا شعبہ حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔ دوسری جانب زندہ جانوروں کی اسمگلنگ پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا جس سے اس شعبے میں ملکی سطح پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ ضرورت خلوص نیت اور عزم کی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر منصوبہ بندی کی بدولت پاکستان آج بھی زرعی اجناس اور حلال گوشت کی برآمد سے سالانہ اربوں ڈالر کما کر خوشحالی کی منازل تیزی سے طے کر سکتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان زرعی ادویات برآمد کر کے خطیر رقم کماتا مگر یہاں الٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔ جاپان جو ایک زرعی ملک نہیں ، سے زرعی ادویات درآمد کی جا رہی ہیں۔ بھارت جو زرعی میدان میں پاکستان سے پیچھے تھا آج بہتر منصوبہ بندی کے باعث کہیں آگے نکل چکا ہے۔ بھارتی کسان پاکستانی کسان سے زیادہ خوشحال ہے۔
پاکستانی کاشتکار کو مہنگے بیج،بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے دن اضافے اور غیر معیاری ادویات کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک جانب فصلوں کی پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے تو دوسری جانب منڈی کے استحصالی نظام کے باعث اسے اپنی فصل کی وہ قیمت فروخت نہیں ملتی جو اس کا حق ہے۔ محنت کاشتکار کرتا ہے اور خوشحالی کے تمام فوائد آڑھتی سمیٹتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اسے وہ توجہ نہیں مل رہی جس کا وہ مستحق ہے یہی سبب ہے کہ بہت سے کاشتکار بدحالی سے تنگ آ کر زرعی شعبے کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں جس کا نقصان زرعی شعبے کو پہنچ رہا ہے۔
دنیا کا بہترین پھل' چاول' کپاس اور گندم پاکستان میں پیدا ہوتی ہے مگر جدید ٹیکنالوجی سے دوری کے باعث پاکستان کو وہ فوائد حاصل نہیں ہو رہے جو اسے ترقی کے میدان میں آگے لے جا سکتے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان گوشت پیدا کرنے والا دنیا کا 19 واں بڑا ملک ہے جہاں پر 22لاکھ ٹن سالانہ گوشت کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
دنیا میں گوشت کی مارکیٹ کا حجم 600 ارب ڈالر سالانہ ہے جس میں پاکستان کا حصہ صرف 115 ارب ڈالرہے جو ایک افسوسناک امر ہے۔ جب کہ دوسری جانب بھارت سالانہ 23 ارب ڈالر کا حلال گوشت برآمد کرتا ہے۔ پاکستان میں حلال گوشتکا شعبہ حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔ دوسری جانب زندہ جانوروں کی اسمگلنگ پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا جس سے اس شعبے میں ملکی سطح پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ ضرورت خلوص نیت اور عزم کی ہے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر منصوبہ بندی کی بدولت پاکستان آج بھی زرعی اجناس اور حلال گوشت کی برآمد سے سالانہ اربوں ڈالر کما کر خوشحالی کی منازل تیزی سے طے کر سکتا ہے۔