موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کا آؤٹ لک منفی کر دیا
ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 2سے 3ارب ڈالر کے انفلوز حاصل ہونے کاامکان ظاہر
ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 2سے 3ارب ڈالر کے انفلوز حاصل ہونے کاامکان ظاہر۔ فوٹو: فائل
بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے معیشت کو درپیش بیرونی چیلنجز کے پیش نظر پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت محدود ہونے پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کا آؤٹ لک کم کرکے مستحکم سے منفی قرار دے دیا ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی لوکل اور غیرملکی کرنسی میں جاری کردہ طویل مدتی بلارہن(ان سیکیورڈ) قرضوں کے لیے بی تھری ریٹنگ جاری کی ہے۔ موڈیز کی جانب سے پاکستان کے معاشی منظر نامے کے بارے میں ریٹنگ میں کمی معیشت پر منڈلاتے ہوئے خدشات، زرمبادلہ ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب مستقبل قریب میں حکومت کے پاس سرمائے کی کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات کے پیش نظر پاکستان کے معاشی منظر نامے پر اعتماد میں کمی کا اشارہ ہے۔
موڈیز کے جائزے کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر نچلی سطح پر آچکے ہیں اور آئندہ 12سے 18ماہ تک بڑی مالیت کے سرمائے کی آمد کے امکانات نہیں جس کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر دوبارہ اطمینان بخش سطح تک بڑھنے کی بھی امید نہیں، زرمبادلہ کے پست ذخائر کی وجہ سے پاکستان کا معتدل لاگت پر بیرونی ذرائع سے سرمایہ حاصل کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے اور ممکنہ طور پر حکومتی سرمائے کی دستیابی کوخدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔
موڈیز نے امید ظاہر کی ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 2سے 3ارب ڈالر کے انفلوز حاصل ہوں گے تاہم پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹ کو بدستور شدید دباؤ کا سامنا ہوگا، درآمدی بل کی ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی ہوگی۔
موڈیز کے مطابق آئندہ 5سال تک پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 4فیصد سے 4.3فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ مالی سال 2017-18میں مالیاتی خسارہ 4.6فیصد تک پہنچ سکتا ہے، پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے، تجارتی خسارے کی بنا پر سرمائے کے انخلا کے مقابلے میں براہ راست سرمایہ کاری انفلوز میں استحکام نہیں آسکا۔
موڈیز نے مالی سال 2018میں 5.8فیصد کی متوقع معاشی نمو کے مقابلے میں آئندہ 2 مالی سال تک جی ڈی پی کی شرح نمو 6فیصد سے کم اور 5.2فیصد تک رہنے کاامکان ظاہر کیا ہے جبکہ مالی سال 2018میں افراط زر کی شرح 4 فیصد کے آس پاس رہنے کے بعد مالی سال 2019میں افراط زر 7فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی، پالیسی ریٹ میں اضافہ، فسکل پالیسی کو سخت کرنے یا بلند ریگولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ سے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو متاثر ہوگی اور افراط زر بھی موڈیز کی پیش گوئیوں سے زائد ہوسکتا ہے۔
موڈیز نے پاکستان کی لوکل اور غیرملکی کرنسی میں جاری کردہ طویل مدتی بلارہن(ان سیکیورڈ) قرضوں کے لیے بی تھری ریٹنگ جاری کی ہے۔ موڈیز کی جانب سے پاکستان کے معاشی منظر نامے کے بارے میں ریٹنگ میں کمی معیشت پر منڈلاتے ہوئے خدشات، زرمبادلہ ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب مستقبل قریب میں حکومت کے پاس سرمائے کی کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات کے پیش نظر پاکستان کے معاشی منظر نامے پر اعتماد میں کمی کا اشارہ ہے۔
موڈیز کے جائزے کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر نچلی سطح پر آچکے ہیں اور آئندہ 12سے 18ماہ تک بڑی مالیت کے سرمائے کی آمد کے امکانات نہیں جس کی وجہ سے زرمبادلہ ذخائر دوبارہ اطمینان بخش سطح تک بڑھنے کی بھی امید نہیں، زرمبادلہ کے پست ذخائر کی وجہ سے پاکستان کا معتدل لاگت پر بیرونی ذرائع سے سرمایہ حاصل کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے اور ممکنہ طور پر حکومتی سرمائے کی دستیابی کوخدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔
موڈیز نے امید ظاہر کی ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 2سے 3ارب ڈالر کے انفلوز حاصل ہوں گے تاہم پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹ کو بدستور شدید دباؤ کا سامنا ہوگا، درآمدی بل کی ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی ہوگی۔
موڈیز کے مطابق آئندہ 5سال تک پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 4فیصد سے 4.3فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ مالی سال 2017-18میں مالیاتی خسارہ 4.6فیصد تک پہنچ سکتا ہے، پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے، تجارتی خسارے کی بنا پر سرمائے کے انخلا کے مقابلے میں براہ راست سرمایہ کاری انفلوز میں استحکام نہیں آسکا۔
موڈیز نے مالی سال 2018میں 5.8فیصد کی متوقع معاشی نمو کے مقابلے میں آئندہ 2 مالی سال تک جی ڈی پی کی شرح نمو 6فیصد سے کم اور 5.2فیصد تک رہنے کاامکان ظاہر کیا ہے جبکہ مالی سال 2018میں افراط زر کی شرح 4 فیصد کے آس پاس رہنے کے بعد مالی سال 2019میں افراط زر 7فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی، پالیسی ریٹ میں اضافہ، فسکل پالیسی کو سخت کرنے یا بلند ریگولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ سے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو متاثر ہوگی اور افراط زر بھی موڈیز کی پیش گوئیوں سے زائد ہوسکتا ہے۔