نیا فیوچر ٹور پلان کئی مشکل امتحان پاکستان کے منتظر

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ ،سری لنکا و دیگر کے ساتھ ہوم میچز کا موقع، بھارت سے مقابلوں کا ذکرموجود نہیں۔

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے وینیوز طے نہیں کیے گئے،امارات سمیت نیوٹرل وینیوز کا آپشن موجود ہو گا۔ فوٹو : فائل

نئے آئی سی سی فیوچر ٹور پلان میں کئی مشکل امتحان پاکستان کے منتظر ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے نئے فیوچر ٹور پروگرام کا اعلان کردیا گیا، پاکستان ٹیم آئندہ ماہ زمبابوے میں ٹرائنگولر سیریز کے بعد میزبان ٹیم کیخلاف 5ون ڈے میچز کھیلے گی، اکتوبر میں2ٹیسٹ اور 3ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا کی میزبانی کرنا ہے،اکتوبر اور نومبر میں نیوزی لینڈ کی ٹیم مہمان بنے گی، اس دوران تینوں فارمیٹ کے3،3میچز کھیلے جائیں گے۔

دسمبر اور جنوری میں پاکستان کو جنوبی افریقہ کا دورہ کرتے ہوئے 3ٹیسٹ، 5ون ڈے اور 3ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنا ہیں، آسٹریلیا کیخلاف 5ون ڈے میچز مارچ میں شیڈول ہیں، مئی میں انگلینڈ کے ساتھ 5ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ ہوگا، جون جولائی میں ورلڈکپ انگلش سرزمین پر ہی شیڈول ہے، پاکستان اکتوبر میں سری لنکا کی میزبانی کرے گا۔ اس دوران 2 ٹیسٹ کھیلے جائیں گے۔

نومبر میں آسٹریلیا کے دورے میں 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ٹیسٹ مقابلے شیڈول ہیں، 2020 میں پاکستان ٹیم کا شیڈول بہت مصروف ہو گا، کئی ٹیموں کی میزبانی سمیت قومی ٹیم دیگر ملکوںکے دورے بھی کرے گی، جنوری میں پاکستان 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز میں سری لنکا کی میزبانی کرے گا، فروری میں بنگلہ دیشی ٹیم مہمان بنے گی، اس دوران 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔

جون میں پاکستان کو انگلینڈ میں3ٹیسٹ اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنا ہیں، قومی ٹیم اسی ماہ آئرلینڈ کے خلاف بھی 2 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی،گرین شرٹس اکتوبر میں 3 ٹی ٹوئنٹی اوراتنے ہی ون ڈے میچز کے لیے جنوبی افریقہ کا دورہ کرینگے، نومبر میں 3 ٹی ٹوئنٹی اور اتنے ہی ایک روزہ میچز میں زمبابوے کی میزبانی کا موقع ملے گا۔


دسمبر میں نیوزی لینڈ ٹور کے دوران 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ 2021 بھی قومی ٹیم جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کی میزبانی کرے گی،اسی دوران افغانستان، ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور زمبابوے کا مہمان بھی بننا ہے، فروری میں ٹیم 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کرے گی۔

اپریل کے دورئہ زمبابوے میں2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ جولائی میں پاکستان ٹیم 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کیلیے انگلینڈ جائے گی، اگست میں ویسٹ انڈیز کے دورے میں قومی ٹیم 3 ٹی ٹوئنٹی اور اتنے ہی ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کھیلے گی، ستمبر میں پاکستان ٹیم 3 ون ڈے میچز کے لیے افغانستان کی مہمان بنے گی، دسمبر میں گرین شرٹس ویسٹ انڈیز کے ٹور میں 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلیں گے۔

اکتوبر میں پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ کی میزبانی کرے گی،اس دوران 3 ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز ہونگے، دسمبر میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز کی میزبانی کرنا ہے، دونوں ٹیموں کے مابین 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔

2022 میں پاکستان اپنے معرکوں کا آغاز فروری میں آسٹریلیا کی میزبانی سے کرے گا،اس دوران 3 ون ڈے، 3 ٹی ٹوئنٹی اور 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز ہوگی، اگست میں قومی ٹیم 3 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے سری لنکا جائے گی، نومبر 2022 میں پاکستان 5 ون ڈے اور 3 ٹیسٹ میچز کیلیے انگلینڈ کی میزبانی کرے گا، اسی ماہ نیوزی لینڈ کو پاک سرزمین آنا ہوگا، اس دوران 2 ٹیسٹ اور 3 ایک روزہ میچز کھیلے جائیں گے۔

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے وینیوز طے نہیں کیے گئے،سیکیورٹی کی صورتحال دیکھتے ہوئے اس حوالے سے فیصلے کئے جائیں گے،امارات سمیت نیوٹرل وینیوز کا آپشن موجود ہوگا،بھارت کے ساتھ سیریز تو کیا کسی ایک میچ کا ذکر تک ایف ٹی پی میں موجود نہیں۔
Load Next Story