سرکاری کنٹرول سے زرعی شعبہ ترقی نہیںکررہا
مداخل کی قیمتوںکے تعین،سبسڈیز،سپورٹ پرائس ودیگرپالیسیوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے
مداخل کی قیمتوںکے تعین،سبسڈیز،سپورٹ پرائس ودیگرپالیسیوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے، فوٹو فائل
WASHINGTON:
زراعت سے متعلق امور، سبسڈی پرحکومت کے کنٹرول کی وجہ سے زرعی شعبے کاکاروبارمحدودہوگیااورمارکیٹ میںمقابلے کی فضا متاثر ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق حکومت فریم ورک برائے اکنامک گروتھ کی گائیڈلائنزپرعمل نہیںکررہی جس کے تحت بیج،کھاد،زرعی پانی (آبپاشی) کیلیے قیمت کے تعین، بجلی پر سبسڈی، غذا پر سبسڈی، فوڈ پروکیورمنٹ، سپورٹ پرائس، امپورٹ ٹیرف اورایکسپورٹ کنٹرول سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کی جانی ہے۔
حکام نے کہاکہ زراعت میںمقابلے کے رجحان کو فروغ دینے کیلیے مارکیٹوںکوڈی ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے میںپرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت کوممکن بنایاجائے اورسرمایہ کاروں کو ترغیب دی جاسکے کہ وہ سپلائی چین،ماڈرن اسٹوریج اورویئرہائوس قائم کرنے میں سرمایہ کاری کریں۔
انھوںنے کہاکہ زرعی برآمدات میںاضافے کے لیے عالمی معیاراپنانے کی ضرورت ہے،فریم ورک برائے اکنامک گروتھ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹرکی حوصلہ افزائی سے حکومت کاکردارسہولت کار اور ریگولیٹر میں تبدیل ہو جائے گا، اس پالیسی کے تحت عام آدمی کوفائدہ پہنچے گا اور معیشت ترقی کرے گی،نظام میںضروری تبدیلیاںاورقومی زرعی تحقیق کے نظام کی بدولت بہترسروس اسٹرکچرقائم ہوگا،نظام میںنقل گیری ختم کرنے اورہم آہنگی کے فروغ میںمددملے گی۔حکام نے کہاکہ ان اقدامات سے زراعت کے شعبے میںجدت آئے گی اورٹیکنالوجی کے ذریعے آمدنی میں بہتری ہو گی اورپبلک سیکٹرکے ادارے بہترسروس فراہم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
انھوںنے کہاکہ پلاننگ میںتمام اسٹک ہولڈرزشامل کیے جائیں گے، حکومت نے سماجی سرمائے کوفروغ دینے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہتران پٹ کے ذریعے فصلوں اور جانوروں، فشریز اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکے، شرح نمو بہتر ہو، روزگار کے مواقع میسر آئیںاورفوڈ سیکیورٹی کویقینی بناکروسیع پیمانے پرسرپلس ایکسپورٹ کی جاسکیں۔
زراعت سے متعلق امور، سبسڈی پرحکومت کے کنٹرول کی وجہ سے زرعی شعبے کاکاروبارمحدودہوگیااورمارکیٹ میںمقابلے کی فضا متاثر ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق حکومت فریم ورک برائے اکنامک گروتھ کی گائیڈلائنزپرعمل نہیںکررہی جس کے تحت بیج،کھاد،زرعی پانی (آبپاشی) کیلیے قیمت کے تعین، بجلی پر سبسڈی، غذا پر سبسڈی، فوڈ پروکیورمنٹ، سپورٹ پرائس، امپورٹ ٹیرف اورایکسپورٹ کنٹرول سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کی جانی ہے۔
حکام نے کہاکہ زراعت میںمقابلے کے رجحان کو فروغ دینے کیلیے مارکیٹوںکوڈی ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے میںپرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت کوممکن بنایاجائے اورسرمایہ کاروں کو ترغیب دی جاسکے کہ وہ سپلائی چین،ماڈرن اسٹوریج اورویئرہائوس قائم کرنے میں سرمایہ کاری کریں۔
انھوںنے کہاکہ زرعی برآمدات میںاضافے کے لیے عالمی معیاراپنانے کی ضرورت ہے،فریم ورک برائے اکنامک گروتھ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹرکی حوصلہ افزائی سے حکومت کاکردارسہولت کار اور ریگولیٹر میں تبدیل ہو جائے گا، اس پالیسی کے تحت عام آدمی کوفائدہ پہنچے گا اور معیشت ترقی کرے گی،نظام میںضروری تبدیلیاںاورقومی زرعی تحقیق کے نظام کی بدولت بہترسروس اسٹرکچرقائم ہوگا،نظام میںنقل گیری ختم کرنے اورہم آہنگی کے فروغ میںمددملے گی۔حکام نے کہاکہ ان اقدامات سے زراعت کے شعبے میںجدت آئے گی اورٹیکنالوجی کے ذریعے آمدنی میں بہتری ہو گی اورپبلک سیکٹرکے ادارے بہترسروس فراہم کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
انھوںنے کہاکہ پلاننگ میںتمام اسٹک ہولڈرزشامل کیے جائیں گے، حکومت نے سماجی سرمائے کوفروغ دینے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہتران پٹ کے ذریعے فصلوں اور جانوروں، فشریز اور ڈیری مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکے، شرح نمو بہتر ہو، روزگار کے مواقع میسر آئیںاورفوڈ سیکیورٹی کویقینی بناکروسیع پیمانے پرسرپلس ایکسپورٹ کی جاسکیں۔