پے در پے دھماکوں سے شہری خوف میں مبتلا
فوڈ اسٹریٹس اور کھانے پینے کی دکانیں و اسٹال پر وہ روایتی رش اور گہماگہمی دکھائی نہیں دیتی۔
گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے رات9بجے کے بعد شہر کی رونقیں ماند پڑگئی ہیں۔فوٹو: ایکسپریس
ISLAMABAD:
شہر میں ہونے والے پے در پے بم دھماکوں کے باعث شہری خوف کا شکار ہوگئے ہیں ۔
رات 9 بجے کے بعد لوگ جلد گھر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، شہر کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرتی ہیں ، شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں اب تک ہونے والے6بم دھماکوں میں سے5 دھماکے9بجے سے10 بجے کے درمیان ہوئے ہیں ، صرف کلاکوٹ میں ہونے والا دھماکا 10 بجے کے بعد ہوا تھا، متعدد شہریوں نے ایکسپریس کے دفتر فون کرکے بتایا کہ رات 9 بجے شہر میں ایک ایس ایم ایس بھی گردش کرتا ہے۔
جس میں کہا جاتا ہے کہ کراچی اور اس کے دیگر مضافاتی علاقوں میں دھماکوں کا وقت ہوگیا ہے، تمام افراد اپنے اپنے گھروں میں دبک کے بیٹھ جائیں، شہریوں نے کہا کہ حالات کے پیش نظر وہ پہلے ہی خوفزدہ ہیں جبکہ رہی سہی کسر اس قسم کے ایس ایم ایس پوری کردیتے ہیں، گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے رات9بجے کے بعد شہر کی رونقیں ماند پڑگئی ہیں۔
شہر کے حالات کے پیش نظر انتظامیہ کو ٹھوس بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنے چاہیئں جس سے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز محض دکھاوا ہی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ اتنی بڑی تعداد میں اگر واقعی دہشت گردوں کو پکڑ رہے ہوتے تو شہر کے حالات یقینی طور پر اب تک پر امن ہوجاتے۔
شہر میں ہونے والے پے در پے بم دھماکوں کے باعث شہری خوف کا شکار ہوگئے ہیں ۔
رات 9 بجے کے بعد لوگ جلد گھر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، شہر کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرتی ہیں ، شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں اب تک ہونے والے6بم دھماکوں میں سے5 دھماکے9بجے سے10 بجے کے درمیان ہوئے ہیں ، صرف کلاکوٹ میں ہونے والا دھماکا 10 بجے کے بعد ہوا تھا، متعدد شہریوں نے ایکسپریس کے دفتر فون کرکے بتایا کہ رات 9 بجے شہر میں ایک ایس ایم ایس بھی گردش کرتا ہے۔
جس میں کہا جاتا ہے کہ کراچی اور اس کے دیگر مضافاتی علاقوں میں دھماکوں کا وقت ہوگیا ہے، تمام افراد اپنے اپنے گھروں میں دبک کے بیٹھ جائیں، شہریوں نے کہا کہ حالات کے پیش نظر وہ پہلے ہی خوفزدہ ہیں جبکہ رہی سہی کسر اس قسم کے ایس ایم ایس پوری کردیتے ہیں، گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے رات9بجے کے بعد شہر کی رونقیں ماند پڑگئی ہیں۔
جبکہ تفریح گاہیں بھی خالی دکھائی دیتی ہیں، رات گئے تک کھلنے والے دکانیں و کاروباری مراکز خصوصاً فوڈ اسٹریٹس اور کھانے پینے کی دکانیں و اسٹال پر وہ روایتی رش اور گہماگہمی دکھائی نہیں دیتی جیسا کہ عام حالات میں نظر آتی تھی، دکانداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات نے ان سے ان کا کاروبار چھین لیا اور وہ قرض تلے دبتے جارہے ہیں ۔
شہر کے حالات کے پیش نظر انتظامیہ کو ٹھوس بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنے چاہیئں جس سے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز محض دکھاوا ہی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ اتنی بڑی تعداد میں اگر واقعی دہشت گردوں کو پکڑ رہے ہوتے تو شہر کے حالات یقینی طور پر اب تک پر امن ہوجاتے۔