حکومت پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کی نجکاری کرے پری بجٹ سیمینار

ٹیکس اداروں کاخسارہ پوراکرنے کیلیے نہیں دیا جاتا، نئے بجٹ میں اقتصادی ترجیحات کاتعین، 10 سالہ معاشی منصوبہ پیش

سبسڈیزاہدافی، توانائی وتعلیم کیلیے معقول فنڈز مختص، سرکاری نجی شراکت کو فروغ، ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے،عشرت حسین، ہارون اگر، ابراہیم،عارف مسعودو دیگر کا خطاب۔ فوٹو: فائل

ملک میں جاری ہونے والے تمام ایس آراوز کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ختم کرتے ہوئے ایف بی آرکو مزید ایس آراو کا اجرا بند کرنے جبکہ نئے ایس آراوز کے اجرا کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو دیا جائے، نئی منتخب حکومت مالی سال2013-14 کے وفاقی بجٹ میں معاشی ترجیحات کا باقاعدہ اعلان کرے تاکہ مستقبل میں غیریقینی فضا پر قابو پایا جاسکے۔

یہ بات سابق گورنراسٹیٹ بینک اورانسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈین و ڈائریکٹر ڈاکٹرعشرت حسین نے پیر کو کراچی چیمبر آف کامرس اور اے سی سی اے پاکستان کے مشترکہ پری بجٹ سیمینار سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اہداف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس افسران کے تمام صوابدیدی اختیارات بشمول ٹیکس قوانین کی تشریح کے اختیارات کو ختم کیا جائے کیونکہ انکی من پسند انداز میں تشریح کسی کو نوازتی ہے اور کسی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے وفاقی بجٹ میں اگر ٹیکس شرح کم کی گئی تو ضمانت دیتا ہوں کہ اس اقدام سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگا، تاجروصنعتکار ودیگر ٹیکس دہندگان خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے نقصان کو پورا کرنے اور انکے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں کے لیے نہیں بلکہ انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹیکسوں کی ادائیگیاں کرتے ہیں لہٰذا حکومت کو خسارے میں چلنے والے ادارے بشمول پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کی فوری نجکاری کرنی چاہیے۔ ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا کہ نئی حکومت کو توانائی اور تعلیم کے شعبوں کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔

نئے بجٹ میں ان شعبوں کے لیے اگر معقول رقم مختص نہ کی گئی تو ملک کو سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، 18 ویں ترمیم پر اسکی روح کے مطابق عمل نہیں ہورہا، قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 60 فیصد اور وفاق کا حصہ 40 فیصد ہو گیا ہے لیکن وفاق قرضوں کی سود کے دلدل میں بری طرح جکڑا ہوا ہے جو 1000 ارب روپے صرف قرضوں کے سود، 600 ارب روپے دفاع، 400 ارب روپے سبسڈیز اور400 ارب روپے سالانہ ڈیولپمنٹ پر خرچ کررہا ہے۔




ان حالات میں صوبوں کو اپنی ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ انہیں وصول ہونے والے محصولات کا سرپلس وفاقی حکومت کو جاری کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی فنڈز کواراکین اسمبلی کو نوازنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے جسے اب ختم ہونا چاہیے ، مختلف شعبوں حکومتی سبسڈیز سے امرا بھی مستفید ہو رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے وفاقی بجٹ میں سبسڈیز کو ٹارگٹڈ کیا جائے تاکہ ان سے صرف غریب آدمی مستفید ہوسکے، صنعت وتجارت کا ماحول خوشگوار بنانے کے لیے حکومت سرکلرڈیٹ کا فوری طور پر خاتمہ کرے اور اس کے موثر حل کے لیے سرکلرڈیٹ مینجمنٹ کمپنی قائم کرے۔

ڈاکٹرعشرت حسین نے کہا کہ ملک میں صحت مند کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے اور نجی شعبے کی شراکت سے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں ودیگر عوامی منصوبے شروع کیے جائیں۔قبل ازیں کراچی چیمبر کے صدر ہارون اگر نے کہا کہ بدعنوانیوں، استثنیٰ اور ٹیکس چوری کی وجہ سے وصولیاں نہیں بڑھ رہیں لہٰذا ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

کراچی چیمبر کی جی ایس ٹی وریفنڈ کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم کسمبی نے کہا کہ حکومت 5 تا 10 سالہ طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کا اعلان کرے اور اس سلسلے میں منصوبہ بندی کمیشن کو بااختیار ادارہ بناکر منصوبے ترتیب دیے جائیں تاکہ صنعتکاروسرمایہ کار انہی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر کاروباری حکمت عملی بنائیں۔ سیمینار سے اے سی سی اے کے سربراہ عارف مسعود مرزا ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
Load Next Story