برطانوی دارالعوام میں یورپی یونین سے علیحدگی کا بل منظور
یورپ سے علیحدگی مشکل قدم ہے، عوامی خواہش کا احترام کیا جائے گا، تھریسامے
ووٹنگ کیلیے بیمار رکن پارلیمنٹ ناز شاہ کو وہیل چیئر پر اسپتال سے لایا گیا ، ایک اور حاملہ رکن بیماری کی حالت میں آئیں۔ فوٹو:فائل
برطانوی دارالعوام میں حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کا بل منظور کرلیا گیا۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی پر قانون سازی کیلیے دارالعوام میں طویل بحث کے بعد بل منظوری کیلیے پیش کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل پر ووٹنگ کے دوران 319 ارکان نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں جبکہ 303 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
بل پر ووٹنگ کیلیے بیمار رکن پارلیمنٹ ناز شاہ کو وہیل چیئر پر اسپتال سے لایا گیا جنہیں 10 منٹ کا کہہ کر 3 گھنٹے تک ایوان میں رکھا گیا۔ اسی طرح ایک اور حاملہ رکن پارلیمنٹ کو ووٹ دینے کیلیے مجبور کیا گیا جو بیماری کی حالت میں ایوان میں آئیں۔
بل کی منظوری کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدگی مشکل قدم ہے تاہم آج کے ووٹ نے برطانیہ کے عوام کی اکثریت ظاہر کردی ہے۔
تھریسامے نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندوں نے عوام کی خواہش کے مطابق آج فیصلہ کیا، آئندہ چند روز میں وائٹ پیپر جاری کیا جائیگا جس میں یورپی یونین سے مستقبل میں تعلقات کا احاطہ کیا جائے گا۔
برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بریگزٹ نے برطانوی شہریوں کو سنہرے مستقبل کے علاوہ اپنے پیسے، قانون اور سرحد پر کنٹرول کی راہ دی ہے۔ یورپی یونین چھوڑنے سے برطانوی شہریوں کیلیے یورپی یونین میں نوکری کا آسرا ہاتھ سے نکلے گا اور مجموعی طور پر برطانیہ کے ہاتھ سے 30 لاکھ نوکریاں نکل جائیں گی۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی پر قانون سازی کیلیے دارالعوام میں طویل بحث کے بعد بل منظوری کیلیے پیش کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل پر ووٹنگ کے دوران 319 ارکان نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں جبکہ 303 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
بل پر ووٹنگ کیلیے بیمار رکن پارلیمنٹ ناز شاہ کو وہیل چیئر پر اسپتال سے لایا گیا جنہیں 10 منٹ کا کہہ کر 3 گھنٹے تک ایوان میں رکھا گیا۔ اسی طرح ایک اور حاملہ رکن پارلیمنٹ کو ووٹ دینے کیلیے مجبور کیا گیا جو بیماری کی حالت میں ایوان میں آئیں۔
بل کی منظوری کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدگی مشکل قدم ہے تاہم آج کے ووٹ نے برطانیہ کے عوام کی اکثریت ظاہر کردی ہے۔
تھریسامے نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندوں نے عوام کی خواہش کے مطابق آج فیصلہ کیا، آئندہ چند روز میں وائٹ پیپر جاری کیا جائیگا جس میں یورپی یونین سے مستقبل میں تعلقات کا احاطہ کیا جائے گا۔
برطانوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بریگزٹ نے برطانوی شہریوں کو سنہرے مستقبل کے علاوہ اپنے پیسے، قانون اور سرحد پر کنٹرول کی راہ دی ہے۔ یورپی یونین چھوڑنے سے برطانوی شہریوں کیلیے یورپی یونین میں نوکری کا آسرا ہاتھ سے نکلے گا اور مجموعی طور پر برطانیہ کے ہاتھ سے 30 لاکھ نوکریاں نکل جائیں گی۔