سیاسی گہما گہمی میں کمی انتخابی مہم کے پوسٹرز اور اسٹیکرز کی تیاری کا کام متاثر

عدم تحفظ اوربجلی بحران نےتشہیری موادکی تیاری محدود کردی،پرنٹنگ پریسوں پرگزشتہ انتخاب کےمقابلےمیں کام 75 فیصد کم ہوگیا.

انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان چوک پر مختلف سیاسی جماعتوں کے پرچم اور بینر آویزاں ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

MOHMAND:
انتخاب کے انعقاد میں 11 روز باقی رہنے کے باوجود شہر کی بڑی پرنٹنگ مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

شہر میں سیاسی گہماگہمی کے فقدان سے پرنٹنگ مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیاں ماند پڑی ہیں،گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں اس سال انتخابی مہم کے لیے پوسٹرز اور اسٹیکرز سمیت تشہیری مواد کی تیاری میں 75فیصد تک کمی ہوگئی ہے، امیدواروں کی حتمی فہرست کے اجرا کے بعد تشہیری مواد کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔




تاہم عدم تحفظ، بے یقینی اور بجلی کے بحران نے تشہیری مواد کی تیاری محدود کردی ہے،سیاسی جماعتوں کے ساتھ آزاد امیدوار بھی اپنی تشہیر کیلیے مواد تیار کروارہے ہیں تاہم پرنٹرز کا کہنا ہے کہ کاروبار کم اور مایوسی کا سامنا ہے،پاکستان چوک پر واقع ایک پرنٹنگ پریس کے مالک نے بتایا کہ ان کے پاس شہر کے آرڈرز کم ہیں جبکہ زیادہ کام اندرون سندھ کے امیدواروں کا ہورہا ہے،گزشتہ انتخاب میں پرنٹنگ کے آرڈرز پورے کرنے کیلیے اوور ٹائم پر کام کرایا تھا،ایک پرنٹنگ پریس کے مالک نے کہا کہ کراچی میں پرنٹنگ پریسوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور اندرون سندھ بھی پرنٹنگ مشینیں لگ گئی ہیں۔

جس سے کام تقسیم ہوگیا ہے،ایک درمیانے پرنٹنگ پریس میں ایک دن میں پانچ ہزار پوسٹرز چھاپے جاتے ہیں،سیاسی جماعتیں پوسٹرز، اسٹیکرز، بینرز کے علاوہ سی ڈی کورز اور پینا فلیکس بھی تیار کروارہی ہیں،ایک پوسٹر کی قیمت کم سے کم 3.50 روپے سے لے کر 5 روپے تک ہوتی ہے اور ایک اسٹیکر کی قیمت 3.50 روپے سے 4.50 روپے تک جبکہ پینا فلیکس 14 روپے اسکوائر فٹ کے حساب سے بنائے جارہے ہیں۔
Load Next Story