انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں سیاسی رہنما
بھتہ اور ٹھپہ مافیا عوامی مینڈیٹ یرغمال بنانا چاہتی ہیں،سیاسی گورنر برطرف کیا جائے
پولنگ بوتھ میں فوج تعینات کی جائے،ادارہ نور حق میں 4جماعتوں کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس. فوٹو: فائل
سندھ سے انتخابات میں حصہ لینے والے سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں پرامن، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلیے ضروری ہے کہ انتخابات مکمل طور پرفوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔
شہر کے ہر پولنگ بوتھ میں فوجی جوان تعینات کیے جائیں،چیف الیکشن کمشنر سندھ آرمی چیف کو خط لکھ کر فوج بلانے کی درخواست کریں،ادارہ نور حق میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد حسین محنتی، سلیم ضیا، اویس نورانی اور قاری عثمان نے مطالبہ کیا کہ شہر میں تمام نوگوایریاز ختم کرائے جائیں،ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی سیاسی جماعتو ںکو آزادانہ انتخابی مہم چلانے سے روکنے سے باز رہے۔
صوبے میں موجود سیاسی گورنر برطرف کیا جائے،محمد حسین محنتی نے کہاکہ بم دھماکے الیکشن ملتوی کرانیکی سازش اور عوام کو خوف زدہ کرنیکی کوشش ہے شہر میں بھتہ اور ٹھپہ مافیا عوامی مینڈیٹ یرغمال بنانا چاہتے ہیں، کارکنوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
متحدہ، اے این پی اور پیپلزپارٹی نے پھر گٹھ جوڑ کرکے شہر کو لیفٹ اور رائٹ میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے،سلیم ضیا نے کہاکہ ڈی ایچ اے میں امیدواروں کو میٹنگ کرنے،پوسٹر لگانے کی اجازت نہیں ہے،الیکشن والے دن صرف نمائشی فوج نہیں حقیقی معنوں میں فوج کا کردار ہونا چاہیے،قاری عثمان نے کہاکہ شہر میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے،کراچی میں فوج کو نہ بلایا گیا تو بھتہ و ٹھپہ مافیا عوامی مینڈیٹ کو یرغمال بنا کر پھر مسلط ہوجائیں گے،اویس نورانی نے کہاکہ پورا کراچی ریڈ زون بن چکا ہے،تینوں بڑی جماعتیں ایک بار پھر مل گئی ہیں اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو یرغمال بنانا چاہتی ہیں۔
شہر کے ہر پولنگ بوتھ میں فوجی جوان تعینات کیے جائیں،چیف الیکشن کمشنر سندھ آرمی چیف کو خط لکھ کر فوج بلانے کی درخواست کریں،ادارہ نور حق میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد حسین محنتی، سلیم ضیا، اویس نورانی اور قاری عثمان نے مطالبہ کیا کہ شہر میں تمام نوگوایریاز ختم کرائے جائیں،ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی سیاسی جماعتو ںکو آزادانہ انتخابی مہم چلانے سے روکنے سے باز رہے۔
صوبے میں موجود سیاسی گورنر برطرف کیا جائے،محمد حسین محنتی نے کہاکہ بم دھماکے الیکشن ملتوی کرانیکی سازش اور عوام کو خوف زدہ کرنیکی کوشش ہے شہر میں بھتہ اور ٹھپہ مافیا عوامی مینڈیٹ یرغمال بنانا چاہتے ہیں، کارکنوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
متحدہ، اے این پی اور پیپلزپارٹی نے پھر گٹھ جوڑ کرکے شہر کو لیفٹ اور رائٹ میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے،سلیم ضیا نے کہاکہ ڈی ایچ اے میں امیدواروں کو میٹنگ کرنے،پوسٹر لگانے کی اجازت نہیں ہے،الیکشن والے دن صرف نمائشی فوج نہیں حقیقی معنوں میں فوج کا کردار ہونا چاہیے،قاری عثمان نے کہاکہ شہر میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے،کراچی میں فوج کو نہ بلایا گیا تو بھتہ و ٹھپہ مافیا عوامی مینڈیٹ کو یرغمال بنا کر پھر مسلط ہوجائیں گے،اویس نورانی نے کہاکہ پورا کراچی ریڈ زون بن چکا ہے،تینوں بڑی جماعتیں ایک بار پھر مل گئی ہیں اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو یرغمال بنانا چاہتی ہیں۔