دہشت گردی میں اضافے سے الیکشن کے بارے میں بے یقینی بڑھ گئی

الیکشن کا انعقاد روکنے کیلیے دہشت گرد عناصر سرگرم، ملک بھر میں قیاس آرائیاں.

الیکشن کا انعقاد روکنے کیلیے دہشت گرد عناصر سرگرم، ملک بھر میں قیاس آرائیاں. فوٹو: فائل

عام انتخابات کے انعقاد کے قریب آتے ہی ملک کے تین صوبوں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ نے ایک بار پھر بے یقینی اور شدید تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ عام انتخابات روکنے کیلیے بعض طاقتیں منظم انداز میں ملک میں عدم استحکام، انتشار، انارکی اور بدامنی پھیلانے کیلیے سرگرم ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے واقعات کے باعث غیر اعلانیہ طور پرانتخابی مہم بند کردی ہے، عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک بار پھر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ ان حالات میں انتخابات کا انعقاد ایک مشکل مرحلہ ہے۔ نگراں حکومت کو شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں انتخابات کروانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔




امن و امان کا قیام نگراں حکومت کی اولین ذمے داری ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نگراں حکومت سیاسی جماعتوں کے قائدین اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے سلسلے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، پورا ملک قیاس آرائیوں کی زد میں ہے اور ہر شخص بے یقینی کے عالم میں یہ سوال پوچھتا نظر آتا ہے کہ عام انتخابات ہوں گے یا نہیں۔

غیر جانبدار سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں بعض قوتیں پاکستان میں سیاسی استحکام ہرگز نہیں چاہتیں، امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے میں غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔ جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لب و لہجے میں بھی تلخی کا عنصر غالب آ رہا ہے سیاسی جماعتوں کے قائدین لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر ذاتیات پر اتر آئے
Load Next Story