شام کا بحران پاکستان نے پرامن حل کیلیے کردار ادا کرنیکی پیشکش کردی

صدر سے شامی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، پاکستانی موقف عدم مداخلت پر مبنی ہے، زرداری.

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے بھی تعلیمی پروجیکٹ پر صدر مملکت کو بریفنگ. فوٹو: رائٹرز

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شام کی صورت حال کے بارے میں پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے عدم مداخلت کے اصول پر مبنی ہے۔

ہم بیرونی قوتوں کی جانب سے کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتے ۔ پیر کو بلاول ہائوس میں شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد کے ساتھ ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ شام کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے کیونکہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورت حال پیچیدہ ہوگی اور پڑوسی ممالک پر اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے ۔

انھوں نے شام کی حکومت اور اپوزیشن گروپوں سمیت تمام لوگوں کو شامل کرتے ہوئے ایک جامع سیاسی مذاکراتی عمل کے ذریعے شام کے عوام کی جمہوری امنگوں کے مطابق تنازع کے پرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں پر پاکستان کی بھرور حمایت کا اعادہ کیا ۔ انھوں نے شام کے بحران کے پرامن حل تلاش کرنے کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ۔ ملاقات میں شام کے نائب وزیر خارجہ کے ڈائریکٹر، اسلام آباد میں شام کے ناظم الامور ڈاکٹر علی مرہا ، صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر ، خارجہ سیکریٹری جلیل عباس جیلانی بھی موجود تھے ۔




صدر نے کہا کہ شام میں امن کے لیے کوششیں شام کے عوام کے اپنے ہاتھوں میں ہونی چاہئیں ۔ صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ صدر نے شام میں سیکیورٹی اورخراب انسانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے مشترکہ نمائندہ لخدار ابراہمی کی کوششوں کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ شام کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ شام پاکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کی قدر کرتا ہے۔

انھوں نےصدر بشارالاسد کی جانب سے صدرمملکت آصف علی زرداری کو ایک خط بھی پہنچایا ۔ صدرمملکت نے شام کے نائب وزیر خارجہ اوران کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا ۔ دریں اثنا بلاول ہائوس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد سانگی کی جانب سے اوپن اسکولنگ سسٹم سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا حالیہ تعلیمی پروجیکٹ اوپن اسکولنگ سسٹم عوام خاص کر ملک کی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بڑا کامیاب ثابت ہوگا، اس کا مقصد اسکول چھوڑ جانے والے بچوں بالخصوص بچیوں کو متوازی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کراچی سے خیبر اور گلگت سے گوادر تک عوام کو تعلیم فراہم کرکے قومی تعمیر نو کے عمل میں عظیم کردار ادا کر رہی ہے۔

صدر نے، جو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، کہا کہ یہ یونیورسٹی شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے قائم کی جسے شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور اس کے بعد حکومتوں نے پروان چڑھایا۔ قبل ازیں وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد سانگی نے بتایا کہ علامہ اقبال یونیورسٹی کی ناخواندہ ، نیم خواندہ اور اسکول چھوڑنے والے افراد کی تعلیمی ضروریات پوری کرنیکی ایک طویل تاریخ ہے۔

اوپن اسکولنگ سسٹم کے ذریعے ملک کے چاروں صوبوں کے منتخب اضلاع میں بنیادی ، مڈل اور ثانوی سطح کی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ گرلز پاور پروگرام پاکستان اور بلڈنگ اسکلز فار لائف پروجکیٹ کے ذریعے وہاڑی اور چکوال میں 8400 لڑکیوں اور ٹھٹھہ میں 600 لڑکیوں کو مڈل سطح کی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے اوپن اسکولنگ سسٹم کے مختلف پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ نظام بھارت ، بنگلہ دیش ، نائیجریا ، کیمرون اور دیگر ممالک میں کامیابی سے جاری ہے ۔ صدر مملکت نے پاکستان اوپن اسکول سسٹم شروع کیے جانے پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر، مینجمنٹ ، فیکلٹی اور بیورو کو مبارکباد دی۔
Load Next Story