آبی بحران سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کا منصوبہ

بلاشبہ پانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہورہی ہے۔

بلاشبہ پانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہورہی ہے۔ فوٹو:فائل

پاکستان کو اس وقت جس قدر قلت آب کا سامنا ہے اور ماہرین کی جانب سے آیندہ آنے والے وقتوں میں اس بحران میں جس شدت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اس کے پیش نظر اقوام متحدہ کا ''ڈیکیڈ آف ایکشن 2018-28'' منصوبہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کراچی، گوادر، پسنی، جیوانی، کیٹی بندر اور دیگر ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

بلاشبہ پانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی میٹھے پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہورہی ہے، اس وقت پانی کی کمی کی یہ صورتحال ہے کہ پاکستان کے کئی دریاؤں کا پاٹ کم ہوچکا ہے، بڑے بڑے ڈیموں کو سوکھے کا سامنا ہے، دوسری جانب پڑوسی ملک کی آبی دہشت گردی کے باعث پاکستانی علاقوں کو آبی قلت کا سامنا ہے۔

ایسے میں اقوام متحدہ کا سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کا ہنگامی منصوبہ بہت اہمیت کا حامل اور وقت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) کی جانب سے منظورشدہ پہلی نیشنل واٹر پالیسی کے حوالے سے منعقد اجلاس کا اہتمام پلاننگ کمیشن نے کہا جس میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ پہاڑوں سے آنے والا پانی بھارت، افغانستان اور چین کے زیر استعمال ہے، جس کے باعث پاکستان کو آیندہ برسوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوگا۔


موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل شہر کاری، صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ، کھانے کے اطوار میں تبدیلی کے باعث بھی پانی کے وسائل میں کمی آرہی ہے۔ کوئٹہ اور لاہور میں زیرِزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جب کہ 43 میں سے 37 نہری علاقوں میں پانی بہت کم ہوچکا ہے۔ زیر زمین پانی کا معیار مسلسل کان کنی کے باعث خراب ہو رہا ہے جب کہ زمین پر موجود پانی میں صنعتی فضلہ اور سیوریج کے پانی کے باعث زہریلا ہوچکا ہے۔

خراب پانی کی وجہ سے عام طور پر ملیریا اور ٹائیفائیڈ بھی ہوتے ہیں لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ ضلع گوجرانوالہ اور بہاول نگر میں ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ علاوہ ازیں دریائے راوی اور ستلج، جب کہ ملیر اور لیاری ندی سیوریج سے آلودہ ہے اور اسلام آباد کا تازہ پانی بھی مضر صحت ثابت ہو رہا ہے۔ کانفرنس میں زور دیا گیا کہ کراچی اور گوادر میں پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سمندری پانی کو ٹریٹمنٹ پلانٹ سے قابل استعمال بنایا جائے۔ سولر انرجی کے ذریعے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے کیٹی بندر، ٹھٹھہ، بدین، پسنی، جیوانی میں ٹیکنالوجی کے ذریعے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پیشتر بھی سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبے بنائے گئے تھے جو قابل عمل نہ ہوسکے۔ صائب ہوگا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیقات اور راست منصوبہ بندی کی جائے۔ دنیا کے کئی ممالک اپنے سمندروں کے پانی کو قابل استعمال بنا کر آبی قلت کے مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرچکے ہیں، اب اقوام متحدہ نے پاکستان کے آبی بحران کے تناظر میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کا جو منصوبہ دیا ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اس پر جلد عملدرآمد ہوکر آبی قلت کو دور کیا جاسکے گا۔
Load Next Story