جمشید مارکر کرکٹ کمنٹری اور سفارتکاری کے شہسوار تھے
سفارت کاری کے میدان کے وہ شہسوار تھے، وسیع المطالعہ، مدبر شخصیت کے مالک تھے۔
سفارت کاری کے میدان کے وہ شہسوار تھے، وسیع المطالعہ، مدبر شخصیت کے مالک تھے۔ فوٹو: فائل
اقوام عالم میں طویل عرصے تک پاکستان کی نمایندگی کرنے والے نامور سفارتکار جمشید مارکر دارفانی سے کوچ کرگئے۔ ایک قابل ترین اور انتہائی ذہین دماغ جس نے ہمیشہ ملک کے نام کو نہ صرف سربلندکیا بلکہ پاکستان کے موقف اور وژن کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا۔
سفارت کاری کے میدان کے وہ شہسوار تھے، وسیع المطالعہ، مدبر شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستانی پارسی برادری نے ملکی ترقی اور استحکام میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دنیا میں طویل ترین مدت تک سفیر رہنے کی وجہ سے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ 2003ء میں انھیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
انھیں فرانسیسی، جرمن اور روسی زبانوں پر عبورحاصل تھا۔ انھوں نے 1964ء میں افریقی ملک گھانا میں بطور سفیر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، 1986ء تا1988ء امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے اور 1994ء تک وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب بھی رہے۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے خصوصی مشیر بھی رہے، جمشید مارکر نے بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری پر مختلف اداروں میں متعدد لیکچرز دیے جب کہ ان موضوعات پر انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔
ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی، کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا، انھوں نے ایف سی کالج کی جانب سے خود بھی کرکٹ کھیلی، وہ ریڈیو پاکستان کے اولین کمنٹیٹرز میں سے تھے، عمر قریشی اور ان کی جوڑی نے کرکٹ کو پاکستانی عوام میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
1954ء میں انھوں نے پہلی کمنٹری بھارتی کرکٹ ٹیم کے پہلے دورہ پاکستان کے موقعے پر باغ جناح (لارنس گارڈن) سے کی ۔ آواز کے زیر وبم پر عبور اور اپنی آواز کے سحر میں شائقین کرکٹ کو جکڑنے کا ہنر وہ بخوبی جانتے تھے۔ ان کی خدمات سفارتکاری کے شعبے میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، ان جیسی نابغہ روزگار شخصیت کا چلے جانا، ایک خلاء پیدا کرے گا جو شاید ہی پر ہو سکے۔
سفارت کاری کے میدان کے وہ شہسوار تھے، وسیع المطالعہ، مدبر شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستانی پارسی برادری نے ملکی ترقی اور استحکام میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دنیا میں طویل ترین مدت تک سفیر رہنے کی وجہ سے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ 2003ء میں انھیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
انھیں فرانسیسی، جرمن اور روسی زبانوں پر عبورحاصل تھا۔ انھوں نے 1964ء میں افریقی ملک گھانا میں بطور سفیر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، 1986ء تا1988ء امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے اور 1994ء تک وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب بھی رہے۔
اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے خصوصی مشیر بھی رہے، جمشید مارکر نے بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری پر مختلف اداروں میں متعدد لیکچرز دیے جب کہ ان موضوعات پر انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔
ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی، کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا، انھوں نے ایف سی کالج کی جانب سے خود بھی کرکٹ کھیلی، وہ ریڈیو پاکستان کے اولین کمنٹیٹرز میں سے تھے، عمر قریشی اور ان کی جوڑی نے کرکٹ کو پاکستانی عوام میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
1954ء میں انھوں نے پہلی کمنٹری بھارتی کرکٹ ٹیم کے پہلے دورہ پاکستان کے موقعے پر باغ جناح (لارنس گارڈن) سے کی ۔ آواز کے زیر وبم پر عبور اور اپنی آواز کے سحر میں شائقین کرکٹ کو جکڑنے کا ہنر وہ بخوبی جانتے تھے۔ ان کی خدمات سفارتکاری کے شعبے میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، ان جیسی نابغہ روزگار شخصیت کا چلے جانا، ایک خلاء پیدا کرے گا جو شاید ہی پر ہو سکے۔