انتخابات فوج کی نگرانی میں
الیکشن سبوتاژ کرنے کی ملکی و غیر ملکی سازشوں کے خدشات کا سدباب کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی صائب ترین فیصلہ ہوگا۔
الیکشن سبوتاژ کرنے کی ملکی و غیر ملکی سازشوں کے خدشات کا سدباب کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی صائب ترین فیصلہ ہوگا۔ فوٹو:فائل
شفاف الیکشن کے تجدید عہد کے تحت پولنگ بوتھس پر فوج کی تعیناتی کا معاملہ بھی طے پانے کی اطلاع ہے، یوں ملک بھر میں ووٹرز، امیدواروں اور سیاسی قائدین کی سیکیورٹی کے مطالبہ کے پیش نظر موثر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ایک اطلاع کے مطابق وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر عام انتخابات کے لیے پاک فوج کے ساڑھے 3 لاکھ اہلکار دینے پر رضامندی ظاہر کردی، ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبوں اور اضلاع کے تناسب سے ووٹرز کے اعداد و شمار جاری کر دیے جس کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار409 ہے۔
ووٹرز کی اتنی بڑی فعال تعداد ایک فیصلہ کن انتخابی عمل کے شاندار اختتامیہ کی متقاضی ہے، ملک گیر پیمانہ پر جو الیکشن فیور ہے اس میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی ہونے کی توقع ہے اور ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی ہونے کے ساتھ ساتھ شکست وجیت کے اس اعصاب شکن معرکے میں سب سے بنیادی سوال پر امن ، شفاف، جعلسازی اور بوگس ووٹنگ کے خدشات و امکانات سے پاک پولنگ ہے، اور یہ نتائج سیکیورٹی کے فالٹ فری ، موثر اور امن و امان اور سموتھ پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی طور پر الرٹ رہنے کی صورت ہی مل سکتے ہیں۔
بلاشبہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد اس ضمن میں کسی اندیشہ اور خدشہ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔نگراں ارباب اختیار اور الیکشن کمیشن دیگر انتخابی لوازمات پر مکمل توجہ مرکوز رکھیں۔
ذرائع کے مطابق الیکشن میں سیکیورٹی کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع کو خط لکھ کر پاک فوج کے ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کی خدمات طلب کی تھیں جس کا وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کی درخواست کا غیر رسمی جواب دے دیا ہے جس میں عام انتخابات کے لیے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکار دینے کی حامی بھرلی ہے اور اس کے لیے 2 برسوں کے دوران ریٹائرڈ ہونے والے اہلکاروں کو بھی بلایا گیا ہے۔ان ریٹائرڈ جوانوں کے پاس بھی مکمل اختیارات ہوں گے۔
ادھر نگراں وزیراعظم نے جمعرات کو الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ کا دورہ کیا ، نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے عام انتخابات 2018ء کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک کی انتظامیہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انھوں نے یہ بات جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا سے الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں ملاقات کے دوران کہی۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن میں نگراں وزیراعظم کی سربراہی میں بند کمرہ اجلاس ہوا جس میں انھیں انتخابات کی تیاریوں، سیکیورٹی امور اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن الیکشن کمیشن شفاف، غیرجانبدار انتخابات کرانے کے لیے مکمل تیار ہے جب کہ قیام امن یقینی بنانے کے لیے انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جارہے ہیں۔ اس موقع پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ بروقت شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔
اس امر میں دو رائے نہیں کہ الیکشن انتہائی جارحانہ صورتحال میں ہونے جارہے ہیں، جب کہ اشتعال و اضطراب کے بجائے امیدواروں کے لیے دانشمندانہ انتخابی لائحہ عمل مناسب آپشن ہونا چاہیے، تاکہ پولنگ کے دن ووٹرز اپنے جائز آئینی حق کا آزادانہ استعمال کریں۔ سیاسی جماعتوں کے خدشات اور مطالبات کا سلسلہ ابھی جاری ہے، سکروٹنی کے بعد ناکام امیدواروں کی شکایات اور کاغذات نامزدگی کے مسترد کیے جانے پر ریٹرننگ آفیسرز کے خلاف اپیلوں کی سماعت بھی ہو رہی ہے، بعض سیاسی قائدین کا کہنا ہے کہ شکایات کے ازالہ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے انتخابات 2018 میں حصہ لینے والے تقریباً 2700 سے زائد امیدوار مختلف مقدمات، انکوائریوں اور تحقیقات کی زد میں ہیں۔ مقدمات کی زد میں آنیوالے 1270 امیدواروں کا تعلق پنجاب، 235 کا خیبرپختونخوا 775کا سندھ اور 115 امیدواروں کا تعلق بلوچستان سے ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 5 امیدوار بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان امیدواروں کو بینک ڈیفالٹ، کرپشن، ریپ، قتل، بھتہ خوری، منی لانڈرنگ، دہری شہریت اور انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا ہے۔ متنوع سیاسی محرکات ، مسابقانہ کشمکش اور محاذآرائی کے وسیع تر تناظر میں انتخابی عمل کو ہر قسم کی تخریب کاری سے بچانا ہوگا جب کہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت الیکشن سبوتاژ کرنے کی ملکی و غیر ملکی سازشوں کے خدشات کا سدباب کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی صائب ترین فیصلہ ہوگا جس کی سیاسی جماعتوں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مکمل حمایت کرنی چاہیے، لہذا جب سیکیورٹی فورسز الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہونگی تو ووٹنگ کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوئی بھی لابی یا گروہ غیر جمہوری کوشش اور مہم جوئی کی جرات نہیں کر سکے گا۔
ایک اطلاع کے مطابق وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر عام انتخابات کے لیے پاک فوج کے ساڑھے 3 لاکھ اہلکار دینے پر رضامندی ظاہر کردی، ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبوں اور اضلاع کے تناسب سے ووٹرز کے اعداد و شمار جاری کر دیے جس کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار409 ہے۔
ووٹرز کی اتنی بڑی فعال تعداد ایک فیصلہ کن انتخابی عمل کے شاندار اختتامیہ کی متقاضی ہے، ملک گیر پیمانہ پر جو الیکشن فیور ہے اس میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی ہونے کی توقع ہے اور ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی ہونے کے ساتھ ساتھ شکست وجیت کے اس اعصاب شکن معرکے میں سب سے بنیادی سوال پر امن ، شفاف، جعلسازی اور بوگس ووٹنگ کے خدشات و امکانات سے پاک پولنگ ہے، اور یہ نتائج سیکیورٹی کے فالٹ فری ، موثر اور امن و امان اور سموتھ پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی طور پر الرٹ رہنے کی صورت ہی مل سکتے ہیں۔
بلاشبہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد اس ضمن میں کسی اندیشہ اور خدشہ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔نگراں ارباب اختیار اور الیکشن کمیشن دیگر انتخابی لوازمات پر مکمل توجہ مرکوز رکھیں۔
ذرائع کے مطابق الیکشن میں سیکیورٹی کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع کو خط لکھ کر پاک فوج کے ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کی خدمات طلب کی تھیں جس کا وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کی درخواست کا غیر رسمی جواب دے دیا ہے جس میں عام انتخابات کے لیے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکار دینے کی حامی بھرلی ہے اور اس کے لیے 2 برسوں کے دوران ریٹائرڈ ہونے والے اہلکاروں کو بھی بلایا گیا ہے۔ان ریٹائرڈ جوانوں کے پاس بھی مکمل اختیارات ہوں گے۔
ادھر نگراں وزیراعظم نے جمعرات کو الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ کا دورہ کیا ، نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے عام انتخابات 2018ء کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک کی انتظامیہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انھوں نے یہ بات جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا سے الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں ملاقات کے دوران کہی۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن میں نگراں وزیراعظم کی سربراہی میں بند کمرہ اجلاس ہوا جس میں انھیں انتخابات کی تیاریوں، سیکیورٹی امور اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن الیکشن کمیشن شفاف، غیرجانبدار انتخابات کرانے کے لیے مکمل تیار ہے جب کہ قیام امن یقینی بنانے کے لیے انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جارہے ہیں۔ اس موقع پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ بروقت شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔
اس امر میں دو رائے نہیں کہ الیکشن انتہائی جارحانہ صورتحال میں ہونے جارہے ہیں، جب کہ اشتعال و اضطراب کے بجائے امیدواروں کے لیے دانشمندانہ انتخابی لائحہ عمل مناسب آپشن ہونا چاہیے، تاکہ پولنگ کے دن ووٹرز اپنے جائز آئینی حق کا آزادانہ استعمال کریں۔ سیاسی جماعتوں کے خدشات اور مطالبات کا سلسلہ ابھی جاری ہے، سکروٹنی کے بعد ناکام امیدواروں کی شکایات اور کاغذات نامزدگی کے مسترد کیے جانے پر ریٹرننگ آفیسرز کے خلاف اپیلوں کی سماعت بھی ہو رہی ہے، بعض سیاسی قائدین کا کہنا ہے کہ شکایات کے ازالہ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے انتخابات 2018 میں حصہ لینے والے تقریباً 2700 سے زائد امیدوار مختلف مقدمات، انکوائریوں اور تحقیقات کی زد میں ہیں۔ مقدمات کی زد میں آنیوالے 1270 امیدواروں کا تعلق پنجاب، 235 کا خیبرپختونخوا 775کا سندھ اور 115 امیدواروں کا تعلق بلوچستان سے ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 5 امیدوار بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان امیدواروں کو بینک ڈیفالٹ، کرپشن، ریپ، قتل، بھتہ خوری، منی لانڈرنگ، دہری شہریت اور انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کا سامنا ہے۔ متنوع سیاسی محرکات ، مسابقانہ کشمکش اور محاذآرائی کے وسیع تر تناظر میں انتخابی عمل کو ہر قسم کی تخریب کاری سے بچانا ہوگا جب کہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت الیکشن سبوتاژ کرنے کی ملکی و غیر ملکی سازشوں کے خدشات کا سدباب کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی صائب ترین فیصلہ ہوگا جس کی سیاسی جماعتوں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مکمل حمایت کرنی چاہیے، لہذا جب سیکیورٹی فورسز الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہونگی تو ووٹنگ کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوئی بھی لابی یا گروہ غیر جمہوری کوشش اور مہم جوئی کی جرات نہیں کر سکے گا۔