شمالی وزیرستان سرحد پار سے دہشتگردوں کے حملے

پاکستان متعدد بار افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کرنے کی پیش کش کر چکا ہے۔

پاکستان متعدد بار افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کرنے کی پیش کش کر چکا ہے۔ فوٹو:فائل

آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں اتوار کو پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے دوران فوجی دستے پر سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں ایک فوجی جوان شہید ہو گیا۔

آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ہفتے کو لدھا میں بھی دو فوجی جوان شہید اور چھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے، ان دہشت گردوں سے جدید مواصلاتی آلات بھی برآمد ہوئے جن کے ذریعے وہ افغانستان کے صوبے پکتیا میں منصوبہ سازوں کے ساتھ رابطے میں تھے، دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

شمالی وزیرستان میں دو روز کے اندر پاک فوج کے تین جوانوں کی شہادت اس امر کی مظہر ہے کہ اس علاقے میں ابھی معاملات مکمل طور پر درست نہیں ہوئے اور دہشت گردوں کی باقیات یہاں اپنا اثر جمائے ہوئے ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہاں ان دہشت گردوں نے مقامی طور پر اپنا کوئی نیٹ ورک بھی بنا رکھا ہو۔

لدھا میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران اس حقیقت کا ایک بار پھر انکشاف ہوا کہ دہشت گردی کے معاملات افغانستان سے کنٹرول کیے جا رہے ہیں جہاں موجود دہشت گرد پاکستان کی سلامتی اور امن وامان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی ایسے عناصر کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد قبائلی علاقوں میں کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

پاکستان متعدد بار افغان حکومت اور امریکا کو اس حوالے سے ٹھوس ثبوت پیش کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے مراکز اور محفوظ ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے دہشت گرد سرحد پار اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں جب تک ان ٹھکانوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ گزشتہ دنوں کالعدم تحریک طالبان کا امیر مولوی فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں مارا بھی گیا تھا، اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوگئی کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے لوگ موجود ہیں اور وہ آزادانہ نقل وحرکت بھی کررہے ہیں۔

پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے تحت شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی جس کا اعتراف امریکا سمیت پوری دنیا نے کیا اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ شمالی وزیرستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے اور پناہ گاہیں کھونے کے بعد دہشت گردوں کی بڑی تعداد نے افغانستان کی طرف راہ فرار اختیار کی اور بہت سوں نے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کا رخ کیا۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی ہونے والی کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ دہشت گردوں کو وہاں باآسانی سہولت کار میسر آ گئے جنہوں نے ان کی پشت پناہی کی اور علاقے میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوئے۔ اگرچہ پاک فوج نے آپریشن ردالفساد کے تحت بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی اور دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا لیکن دہشت گردوں کی وقتاً فوقتاً کارروائیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ ان کا نیٹ ورک بہت مضبوط اور وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے جسے ختم کرنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔


یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب ایک بار پھر دہشت گرد شمالی وزیرستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک جانب داخلی سطح پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب سرحد پار سے کارروائیاں کر کے سیکیورٹی اداروں کے عزم کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں افغانستان میں امریکا نے ڈرون حملے کے ذریعے پاکستان کو مطلوب ایک بڑے دہشت گرد فضل اللہ کو ہلاک کر دیا تھا مگر یہ ایک معمولی سی کارروائی ہے جب کہ دہشت گردوں کی بڑی تعداد افغانستان میں ابھی تک مصروف عمل ہے، فضل اللہ کی ہلاکت سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑا اور تحریک طالبان پاکستان نے مفتی نور ولی محسود کو اپنا نیا سربراہ مقرر کر لیا جو اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

افغانستان کی حکومت کو بھی اس کا بخوبی علم ہے لیکن وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ۔اس وجہ سے صورت حال زیادہ خراب ہورہی ہے۔ یہ صورت حال پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خوش آیند نہیں۔ جب تک اس خطے میں دہشت گرد موجود ہیں، دونوں ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرات اور چیلنجز موجود رہیں گے۔ افغانستان کی حکومت کو اس کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے۔

پاکستان متعدد بار افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کرنے کی پیش کش کر چکا ہے، ایک جانب افغان حکام پاکستان کی اس پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہیں تو اگلے ہی دن ان کی جانب سے پاکستان کے خلاف کوئی نہ کوئی بیان منظرعام پر آ جاتا ہے۔ سرحد پار سے پاکستان پر حملے اس امر کا اشارہ ہیں کہ افغانستان کی جانب سے سرحد پر سیکیورٹی معاملات درست طور پر نہیں چل رہے۔

اگر افغان حکومت بارڈر مینجمنٹ بہتر بنائے تو پاکستان پر سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے ختم ہو سکتے ہیں۔ اس ساری صورت حال کے تناظر میں دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا رہا جس کی مجموعی طور پر 2611کلومیٹر لمبائی ہے جس پر اب تک 255کلومیٹر تک کام ہو چکا جب کہ 397کلومیٹر بارڈر پر باڑ لگانے کا عمل جاری ہے جو دسمبر 2019ء تک مکمل ہو جائے گا۔

پاکستان کی بقا اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔پاکستان کی حکومتوں نے ماضی میں شمال مغربی سرحدوں پر کبھی توجہ نہیں دی، افغانستان ہی نہیں بلکہ ایران کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے پر بھی توجہ نہیں دی گئی ، اس کا خمیازہ آج قوم دہشت گردی کی شکل میں بھگت رہی ہے۔ خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان تو اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہا ہے مگر سرحد پار دہشت گردوں کے مضبوط نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے اسے افغانستان کے تعاون کی ضرورت ہے جو دونوں کے مفاد میں ہے۔

 
Load Next Story