شاہ زیب قتل کیس میں تمام ملزمان کے بیان قلمبند
عدالت نے ملزم شاہ رخ جتوئی کے گواہوں کو 2مئی کو طلب کرلیا.
عدالت نے ملزم شاہ رخ جتوئی کے گواہوں کو 2مئی کو طلب کرلیا. فوٹو: فائل
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن نے شاہ زیب قتل کیس میں ملوث شاہ رخ جتوئی،سراج تالپور،سجاد تالپور اور غلام مصطفی لاشاری کا بیان قلمبند کرلیا۔
ملزمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے شاہ زیب کو قتل نہیں کیا وہ بے قصور ہیں ،اس موقع پر ملزم شاہ رخ جتوئی نے عدالت میں اپنی بے گناہ ثابت کرنے کیلیے محمد اشتیاق ،محمد اقبال ، بریگیڈیر ( ر) ایثار ، اشرف علی،دانش اور اعجاز سمیت دس گواہوں کی فہرست عدالت کو فراہم کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ گواہ حلفیہ طور پر عدالت کو انکی بے گناہی ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔
فاضل عدالت نے ملزم کے گواہوں کو 2مئی کو طلب کرلیا ہے، دوسری جانب وکیل صفائی نے اسلحے کو دوبارہ ایکسپررٹ کو پاس بھیجنے اور اسکی رپورٹ ار سر نو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی تھی جس پر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف نے اعتراض کیا اور اپنے دلائل میں کہا کہ آلہ قتل کی ایکسپرٹ رپورٹ عدالت میں موجود ہے دوبارہ بھیجنا عدالت کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے، فاضل عدالت نے طرفین وکلا کے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ جمعرات 2مئی تک محفوظ کرلیا ہے۔
ملزمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے شاہ زیب کو قتل نہیں کیا وہ بے قصور ہیں ،اس موقع پر ملزم شاہ رخ جتوئی نے عدالت میں اپنی بے گناہ ثابت کرنے کیلیے محمد اشتیاق ،محمد اقبال ، بریگیڈیر ( ر) ایثار ، اشرف علی،دانش اور اعجاز سمیت دس گواہوں کی فہرست عدالت کو فراہم کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ گواہ حلفیہ طور پر عدالت کو انکی بے گناہی ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔
فاضل عدالت نے ملزم کے گواہوں کو 2مئی کو طلب کرلیا ہے، دوسری جانب وکیل صفائی نے اسلحے کو دوبارہ ایکسپررٹ کو پاس بھیجنے اور اسکی رپورٹ ار سر نو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی تھی جس پر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف نے اعتراض کیا اور اپنے دلائل میں کہا کہ آلہ قتل کی ایکسپرٹ رپورٹ عدالت میں موجود ہے دوبارہ بھیجنا عدالت کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے، فاضل عدالت نے طرفین وکلا کے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ جمعرات 2مئی تک محفوظ کرلیا ہے۔