انتخابی عملہ فراہم نہ کرنے پر جاری توہین عدالت پر حکم امتناع
جواب سنے بغیر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا،خارج کیا جائے،سوئی گیس کمپنی کی استدعا
جواب سنے بغیر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا،خارج کیا جائے،سوئی گیس کمپنی کی استدعا. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے پولنگ ڈیوٹی کے لیے عملہ فراہم نہ کرنے کے الزام میں ریٹرننگ افسر کے نوٹس پر عملدرآمد کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
ریٹرننگ افسر نے عام انتخابات کے سلسلے میں پولنگ اسٹاف کی فہرست فراہم نہ کرنے پرسوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے،چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے منگل کوایس ایس جی سی ایل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی،کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ ایس ایس جی سی ایل پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتی،الیکشن کمیشن ٹھٹھہ کی جانب سے پولنگ میں تعیناتی کے لیے کمپنی کے ملازمین کی فہرست طلب کی گئی تھی۔
این اے249 اور 206 کے ریٹرننگ افسران نے کمپنی کو نوٹسز جاری کیے اور جواب کا موقع دیے بغیر 17اپریل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن صرف وفاقی،صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ملازمین کی خدمات حاصل کرسکتا ہے،کمپنی کو جاری کردہ توہین عدالت کا نوٹس خارج کیا جائے،عدالت عالیہ نے ابتدائی سماعت کے بعد توہین عدالت کے نوٹسز کو معطل کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کو جواب کے لیے 3 مئی کے نوٹس جاری کردیے۔
ریٹرننگ افسر نے عام انتخابات کے سلسلے میں پولنگ اسٹاف کی فہرست فراہم نہ کرنے پرسوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے،چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے منگل کوایس ایس جی سی ایل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی،کمپنی نے موقف اختیار کیا کہ ایس ایس جی سی ایل پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتی،الیکشن کمیشن ٹھٹھہ کی جانب سے پولنگ میں تعیناتی کے لیے کمپنی کے ملازمین کی فہرست طلب کی گئی تھی۔
این اے249 اور 206 کے ریٹرننگ افسران نے کمپنی کو نوٹسز جاری کیے اور جواب کا موقع دیے بغیر 17اپریل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن صرف وفاقی،صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ملازمین کی خدمات حاصل کرسکتا ہے،کمپنی کو جاری کردہ توہین عدالت کا نوٹس خارج کیا جائے،عدالت عالیہ نے ابتدائی سماعت کے بعد توہین عدالت کے نوٹسز کو معطل کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کو جواب کے لیے 3 مئی کے نوٹس جاری کردیے۔