لاپتا افراد کے لیے خصوصی سیل قائم

حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے میں ملوث پایا جائے تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی

حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے میں ملوث پایا جائے تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کے حوالے سے خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے لاپتہ افراد کی حالت زار پر بہت افسوس ہوتا ہے، لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ ان کے پیاروںکے ساتھ کیا حادثہ ہوگیا تو شاید صبر آجائے۔ انھوں نے قرار دیا کہ مجھے یقین ہے میری ایجنسیوں نے انھیں نہیں اٹھایا ہوگا۔

گمشدہ افراد کیسزسے پیداشدہ صورتحال کی دردانگیزی پر جہاں چیف جسٹس نے اظہار افسوس کیا وہاں ان کے ان ریمارکس میں معنی کا ایک جہاں پوشیدہ ہے کہ اللہ کرے یہ تمام افراد زندہ ہوں۔ اس ایک فقرے میں ریاستی اور حکومتی نظام میں قانون کی حکمرانی کے اضمحلال اور جمہوری نظام کو گڈ گورننس سے متصف کرنے کے انتظامی اقدامات میں تساہل اور لاپروائی کی غیر مبہم تصویر نظر آتی ہے، اس لیے ماہرین قانون اس سوال کو لاپتا افراد کیسز کے تناظر میں بنیادی اہمیت دیتے ہیں کہ آئین جمہوری حکومت کو سیاسی یا نظریاتی اختلاف کے الزام میں کسی شخص کو جبری گمشدگی کا لائسنس نہیں دیتی، کوئی نقص امن، کسی تخریب کاری، اقدام قتل یا حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے میں ملوث پایا جائے تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

کسی فرد یا سیاسی رہنما و کارکن یا شہری نے قانون ہاتھ میں لیا ہو اور اظہار رائے کی آزادی کے مسلمہ اقدار اور پیرامیٹرز سے ماورا مہم جوئی کا مرتکب ہوا ہو، تو بھی اسے قانون ہی کے مروجہ پروسس کے تحت عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، جہاں وہ اپنے خلاف الزام، مبینہ جرم یا حکومت مخالف بیانیہ کے دفاع میں اپنی صفائی پیش کرسکے۔ تاہم ملکی سیاسی اور سماجی صورتحال گزشتہ چند برسوں میں خاصی صبر آزما رہی، ملک میں قانون شکن عناصر اور انتہاپسندی کی لہر کی آڑ میں شدت پسندوں نے ریاستی رٹ چیلنج کی، لہٰذا بلوچستان، کراچی، فاٹا اور پنجاب میں شدت پسند عناصر کی روک تھام کے لیے اقدامات ناگزیر ہوگئے۔ لاپتا افراد کا المیہ اسی صورتحال کا شاخسانہ تھا جس کا ادراک کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور سپریم کورٹ کے سابق جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اپنی رپورٹ بھی حکومت کو پیش کی۔


ذرایع کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اور اس کی سفارشات بھی مسئلہ کے انسانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے، واضح رہے جبری گمشدگی کے اعصاب شکن مضمرات واثرات کے پیش نظر اقوام متحدہ نے 1980 میں مسئلہ کے قانونی مینڈیٹ کے حوالہ سے ورکنگ گروپ تشکیل دیا جب کہ 2014 کی اپنی رپورٹ میں اس گروپ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 88 ممالک میں 43 ہزار 250 افراد بوجوہ غائب کیے گئے۔ مسئلہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کے لیے اتوار کو بھی عدالت لگالی، جب کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر خفیہ اداروں کے نمایندے چیمبر میں جب کہ آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز عدالت میں پیش ہوئے۔

ایک آزاد اور فعال عدلیہ کا منظرنامہ قوم نے دیکھا، جوڈیشل ایکٹیوازم کے صائب تجربات کے سیاق وسباق میں لاپتا افراد کیس کی سماعت کے اس موقع پر کمرہ عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، لاپتہ افراد کے مضطرب اور غمزدہ اہل خانہ نے شدت غم سے شکایات کے انبار لگادیے، لاپتہ افرادکے اہل خانہ (خواتین) کی جانب سے کمرہ عدالت میں شور شرابہ اور چیخ وپکارکرنے پرچیف جسٹس نے اگرچہ برہمی کا اظہار کیا تاہم ڈائس پر مکا مارنے والی خاتون کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے کہا کہ میں رات 2 بجے آپ لوگوں کے لیے نکلا مگر آپ لوگوں نے توہین عدالت کی، چیف جسٹس دلگرفتہ تھے کہ مجھے قوم کی بیٹیوں سے اس بدتہذیبی کی توقع نہیں تھی، اس خاتون سے مخاطب ہوئے کہ تم میری بیٹی جیسی ہو اس لیے معاف کررہا ہوں ورنہ کوئی مرد ہوتا تو جیل بھیج دیتا۔

حقیقت یہ ہے کہ لاپتا افراد کا مسئلہ لواحقین اور اہل خانہ کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے جس سے عدالت عظمیٰ گہری آگہی رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کے میثاق انسانی حقوق کی روشنی میں جبری گمشدگی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 19 مارچ 2018 کو پاکستانی ارباب اختیار پر زور دیا کہ وہ لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے جلد اقدامات کریں، عالمی ادارہ نے پاکستان کے ان اقدامات کی تعریف بھی کی جو لاپتا افراد کی بازیابی اور غیر معمولی صدمات سے دوچار ان کے اہلخانہ کے اطمینان کے لیے کیے گئے، تاہم اس بات پر ابہام دور ہونا چاہیے کہ لاپتا افراد انتہاپسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث غائب ہوئے یا ان کے اسباب اور محرکات کچھ اور تھے۔

بہرحال یہ انسانی مسئلہ حکومت، انصاف و قانون اور سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک ٹیسٹ کیس سے کم نہیں، لاپتا افراد کے مطابق ان کے پیارے طویل عرصے سے غائب ہیں اور لاشیں بھی نہیں مل رہیں، جب کہ چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ مجھے بے حد افسوس ہورہا ہے کہ یہاں پر جوان ہی نہیں بلکہ 57 سالہ شخص بھی لاپتہ ہورہا ہے، اگر کسی ادارے نے حراست میں لے رکھا ہے تو فوری پتہ کرکے بتایا جائے۔ امید کی جانی چاہیے کہ نگراں حکومت اپنی انتخابی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ لاپتا افراد کی فوری بازیابی کے لیے عدلیہ سے بھی تعاون کرے گی۔
Load Next Story