امریکا کا مشرق وسطیٰ میں نیا امن منصوبہ پیش کرنے کا اعلان

اسرائیلی فوج نے متعدد بار ٹینکوں اور طیاروں سے حملہ کر کے فلسطین کو شدید نقصان پہنچایا

فلسطینیوں پر اپنی مرضی کا کوئی نیا منصوبہ مسلط کرنا چاہتا ہے۔فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لازمی نہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اس کا حصہ بنیں۔ امریکا کی طرف سے مشرق وسطیٰ کا نیا منصوبہ پیش کرنے اور فلسطینیوں کو مذاکرات میں شریک کرنے کا طریقہ کار واضح کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر اپنی مرضی کا کوئی نیا منصوبہ مسلط کرنا چاہتا ہے خواہ فلسطینی حکومت اس منصوبے کو پسند کرے یا نا پسند یہ منصوبہ بہرصورت نافذ کر دیا جائے گا۔

جیرڈ کشنر نے فلسطینیوں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ مذاکرات کی دعوت بھی نہیں دی بلکہ صرف اتنا کہا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے آمادہ ہیں تو ان کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے اگر وہ نہیں بھی آتے تو بھی نیا منصوبہ پیش کیا جائے گا۔ امریکا فلسطین میں قیام امن کا جو نیا منصوبہ مسلط کرنے جا رہا ہے وہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے ذریعے اسرائیلی حکومت کے مفادات کا مزید تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور اس منصوبے میں فلسطینیوں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی بلکہ ان کے مشورے اور رائے کے بغیر ہی یہ منصوبہ مسلط کرنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ فلسطینی گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ' معمولی سی بات پر اسرائیلی فوجی فلسطینیوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے درجنوں افراد کو شہید و زخمی کر دیتے ہیں۔


اسرائیلی فوج نے متعدد بار ٹینکوں اور طیاروں سے حملہ کر کے فلسطین کو شدید نقصان پہنچایا۔ نہتے فلسطینی بیت المقدس کی آزادی کے لیے فلسطینی فوج کے سامنے احتجاج کرتے اور جواباً لاشیں اٹھاتے ہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک کی حمایت ہونے کے سبب اسرائیلی مظالم کا کوئی حساب بھی نہیں لیا جاتا۔ لاکھوں فلسطینی اس وقت پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے بیت المقدس(یروشلم) منتقل کرنے کا اعلان کیا تو فلسطینیوں نے اس پر بھرپور احتجاج کیا مگر امریکا اس احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے موقف پر ڈٹا رہا' اب اسرائیلی حکومت بتدریج اپنا عملہ یروشلم میں منتقل کر رہی ہے۔

اب امریکا مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا جو نیا منصوبہ لا رہا ہے اس کے خدوخال کیا ہیں اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ خدشہ ہے کہ اگر اس منصوبے سے فلسطینی مفادات کو نقصان پہنچا تو فلسطینی اسے قطعاً قبول نہیں کریں گے جس سے علاقے میںحالات مزید بگڑیں گے۔ بہتر ہے کہ خطے میں حقیقی معنوں میں قیام امن کے لیے امریکا فلسطینیوں کو بھی مذاکرات میں شریک کرے اور ان کی رائے کو اہمیت دے۔
Load Next Story