کراچی کی سیاست کیا کروٹ لے گی

تمام جماعتوں نے اس شہر کراچی کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے تو بارہا استعمال کیا

تمام جماعتوں نے اس شہر کراچی کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے تو بارہا استعمال کیا۔ فوٹو: فائل

2018 کے عام انتخابات کے تناظر میں کراچی کی سیاست پر قوم کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ بڑی سیاسی جماعتیں پہلی بار ''وزیراعظم کراچی سے'' کا نعرہ بلند کررہی ہیں اور پی پی کے علاوہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کلیدی رہنما بھی کراچی کے حلقوں سے پہلی بار انتخابات لڑ رہے ہیں، دوسری جانب عوام اس بات پر بھی متوشش ہیں کہ شہر قائد کی نمایندہ جماعت جو گزشتہ 3 عشروں سے کراچی کی سیاست میں وننگ پوزیشن پر براجمان تھی، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کئی حصوں میں بٹ چکی ہے، آیا ان منتشر دھڑوں کا کراچی کی سیاست میں رنگ پہلے جیسے جم سکے گا، ابھی سے کوئی پیش گوئی تو نہیں کی جاسکتی لیکن یہ حقیقت ہے کہ ماضی کے سیاسی دوست ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی آج ایک دوسرے کے سیاسی مخالف بن گئے ہیں، کراچی کے الیکشن میں ان دونوں جماعتوں کے درمیان سخت اور دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔


کراچی کے انتخابی دنگل پر سب کی نظر ہے اور ہر کوئی معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اب کراچی میں کون سی جماعت اکثریتی نشستیں حاصل کرے گی؟ اس سوال کا جواب تو پولنگ کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ شہر قائد کا مینڈیٹ کس جماعت کے پاس جاتا ہے یا تقسیم ہوتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کراچی میں اپنی الیکشن مہم کا آغاز کرچکی ہیں۔

کراچی کو پاکستان کے معاشی ہب کی حیثیت حاصل ہے اس بنا پر سیاست میں بھی کراچی کی حیثیت دوچند ہوجاتی ہے، قابل افسوس امر تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اس شہر کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے تو بارہا استعمال کیا لیکن کوئی بھی اس شہر کو ''اون'' نہیں کرسکا، جس کے باعث آج کراچی مسائلستان بن چکا ہے، شہری سیاسی جماعتوں سے ناراض اور اپنے حقوق کے متلاشی ہیں۔ اس انتخابات میں وہی پارٹی ابھر کر سامنے آئے گی جو عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکے۔
Load Next Story