احمد شہزاد کیچ احمد شہزاد بولڈ احمد شہزاد
پاکستانی کرکٹرز ویسٹ انڈیز میں نشہ کرتے ہوئے پکڑے گئے
پاکستانی کرکٹرز ویسٹ انڈیز میں نشہ کرتے ہوئے پکڑے گئے فوٹوفائل
''آج کی تازہ خبر آج کی تازہ خبر پاکستانی کرکٹرز ویسٹ انڈیز میں نشہ کرتے ہوئے پکڑے گئے''
1993 کی بات ہے، میں ان دنوں طالبعلم اور کتابیں خریدنے اردو بازار گیا تھا، وہاں اخبار فروش کی آوازیں سن کر متوجہ ہوا،کسی اخبار نے خصوصی ضمیمہ شائع کیا تھا، خبر پڑھ کر پتا چلا کہ گرینیڈا کے ساحل پر کپتان وسیم اکرم، نائب وقار یونس، مشتاق احمد اور عاقب جاوید کو '' ماری جوانا'' استعمال کرنے پر پولیس نے 2 خواتین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کے ساتھ پکڑ لیا تھا، یہ بہت بڑا اسکینڈل بنا، پھر صحافت میں آنے کے بعد میں نے اس وقت کے اسکواڈ میں شامل ایک کھلاڑی سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ '' پانچویں کرکٹر معین خان اس وقت ٹیپ ریکارڈر لینے گئے تھے اس لیے بچ گئے،ان دنوں وہاں کے وزیر اعظم نے ماری جوانا پر پابندی لگائی ہوئی تھی لیکن یہ کیس معمولی تھا کرکٹرز آسانی سے چھوٹ جاتے مگربعض سینئرز نے اپنی بغض نکالنے کیلیے اسے بڑھاوا دیا''۔
اس'' ماری جوانا'' یا ''میروانا'' کا دوبارہ ذکر اب احمد شہزادکے حوالے سے سننے میں آیا ہے، جب میں نے خبر بریک کی تو اس میں یہ نہیں لکھا کہ اوپنر نے کون سی ممنوعہ شے استعمال کی کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ مجھے خود اس کا پتا نہیں تھا، البتہ کئی ذرائع یہ تصدیق کر چکے تھے کہ مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعد احمد شہزاد اب پابندی کا شکار ہونے والے ہیں، بعد میں ٹی وی میزبان زینب عباس نے اس حوالے سے ٹویٹ کی، پھر دیگر میڈیا نے بھی بتایا کہ احمدشہزاد کا ٹیسٹ ''میروانا'' کی وجہ سے مثبت آیا ہے،پی سی بی تاحال اس حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے شاید قوانین اسے اجازت نہیں دیتے کہ فی الوقت کھلاڑی کا نام ظاہر کیا جائے، ایک بات تو طے ہے کہ ڈوپنگ کا شکار احمد شہزاد ہوئے۔
ان کا ٹیسٹ پاکستان کپ کے دوران ہوا تھا جس میں انھوں نے بلوچستان کی قیادت کے فرائض نبھائے تھے، جب تک بورڈ نہیں بتاتا وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ احمد شہزاد کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ کیا تھی، مگر غلطی یقیناً انہی کی ہوگی،آج کل کے دور میں کھلاڑیوں کو ہر وقت معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ کون سی دوا یا چیز استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں، انگریزی کے ساتھ اردو زبان میں بھی فہرست دی جاتی ہے، کرکٹرز کو کوئی بھی دوا بورڈ کے ڈاکٹر کو بتائے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، کچھ عرصے قبل یاسر شاہ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا تو انھوں نے جواز دیا تھا کہ '' غلطی سے اہلیہ کی بلڈ پریشر کی دوا استعمال کر لی تھی'' اس سے دیگر کو سبق لینا چاہیے تھا مگر افسوس ایسا نہیں ہوا، کوئی جونیئر ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ نیا آیا ہے۔اس لیے غلطی کر گیا، مگر سینئر کے معاملے میں کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔
احمد شہزاد ان دنوں ویسے ہی کیریئر کے مشکل دور سے گذر رہے تھے یہ غلطی ان کے کیریئر پر فل اسٹاپ لگا سکتی ہے، وہ انتہائی باصلاحیت بیٹسمین تھے مگر سوشل میڈیا پر سیلفیز پر زیادہ توجہ، آف دی فیلڈ مصروفیات اور دماغی طور پر سپر اسٹار بننے سے کیریئر پر زوال آ گیا، اب اگر ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت نہیں آتا تو بھی خراب پرفارمنس کی وجہ سے وہ شاید ٹیم سے باہر ہو جاتے، نئے کھلاڑی تیزی سے پاکستانی ٹیم میں جگہ مستحکم کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ڈسپلن کے مسائل بھی نہیں پھر کوئی کیوں احمد شہزاد کو منتخب کرے گا، پی ایس ایل میں بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ان کی ''مصروفیات'' سے تنگ آ کرکہا تھا بھائی ہمیں چھوڑ دو، اب وہ پاکستانی ٹیم سے بھی باہر ہو گئے، احمد شہزاد کو خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ان سے کیا غلطیاں ہوئیں۔
جس کی وجہ سے یہ دن دیکھنا پڑا،انھوں نے برطانوی ماہر نفسیات کی بھی خدمات حاصل کی تھیں مگر اس کا بھی کچھ فائدہ نہ ہوا، 2009میں کیریئر کا آغاز کرنے کے باوجود وہ 9 سال میں کرکٹ اسٹار کا روپ نہ دھار سکے،13 ٹیسٹ،81 ون ڈے اور 57 ٹوئنٹی 20میں مجموعی طور پر صرف 10ہی سنچریاں ان کے نام پر درج ہو سکیں جو کسی اوپنر کے لحاظ سے بیحد کم ہیں، ان کے ساتھ کیریئر شروع کرنے والے کھلاڑی آج کہاں سے کہاں نکل گئے مگر احمد تنازعات میں ہی گھرے نظر آتے ہیں، ہاں اس دوران آف دی فیلڈ انھوں نے خوب نام بنایا، سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز بنائے کاش اس کے بجائے ہزاروں رنز بنانے پر ہی توجہ دیتے،انھوں نے سیکڑوں سیلفیز بنائیں ،کاش اس کے بجائے سنچری بنا کر بیٹ لہراتے ہوئے تصاویر بنواتے، میں احمد شہزاد کو بہت پسند کرتا تھا۔
وہ بھی دوسروں کی عزت کرنے والے انسان ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انھیں ایسے لوگ نہ ملے جو درست رہنمائی کر کے کیریئر کو آگے بڑھاتے، اگر آپ خوشامدیوں میں گھرے رہیں تو اپنی اصلاح کا وقت نہیں ملتا، شاید احمد شہزاد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اب نجانے انھیں کتنے عرصے تک پابندی بھگتنا پڑے گی،بورڈ کو فوراً وضاحت کرنا چاہیے ورنہ افواہوں کا سلسلہ مزید بڑھتا جائے گا، ایک انتہائی باصلاحیت کرکٹر کس طرح اپنے کیریئر کو ختم کر رہا ہے یہ دیکھنا ناقابل برداشت ہے،البتہ ایک امید کی کرن اب بھی موجود ہوگی، احمد شہزاد کی عمر 26 سال ہے، وہ خود اپنا محاسبہ کریں، جب اسپاٹ فکسنگ کرنے والے کھلاڑی واپس آ سکتے ہیں تو اوپنر کو بھی موقع ملنا ناممکن نہیں، اس کیس سے سبق سیکھیں، جتنی بھی سزا ملے وہ بھگت کر نیا احمد شہزاد بن کر واپس آئیں، ہم تو جیل جانے والے کھلاڑیوں کو گلے لگا کر دوبارہ ہیرو بنا دیتے ہیں، آپ بھی اپنے ہی ہیں، مگر جب تک کوئی خود سدھرنا نہ چاہے دنیا بھر کے لوگ مل کر بھی اسے نہیں سدھار سکتے، احمد شہزاد بھی پہلے خود سوچیں کہ کیا واقعی انھیں دوسرا چانس چاہیے بھی یا نہیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliqپر فالو کر سکتے ہیں)
1993 کی بات ہے، میں ان دنوں طالبعلم اور کتابیں خریدنے اردو بازار گیا تھا، وہاں اخبار فروش کی آوازیں سن کر متوجہ ہوا،کسی اخبار نے خصوصی ضمیمہ شائع کیا تھا، خبر پڑھ کر پتا چلا کہ گرینیڈا کے ساحل پر کپتان وسیم اکرم، نائب وقار یونس، مشتاق احمد اور عاقب جاوید کو '' ماری جوانا'' استعمال کرنے پر پولیس نے 2 خواتین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کے ساتھ پکڑ لیا تھا، یہ بہت بڑا اسکینڈل بنا، پھر صحافت میں آنے کے بعد میں نے اس وقت کے اسکواڈ میں شامل ایک کھلاڑی سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ '' پانچویں کرکٹر معین خان اس وقت ٹیپ ریکارڈر لینے گئے تھے اس لیے بچ گئے،ان دنوں وہاں کے وزیر اعظم نے ماری جوانا پر پابندی لگائی ہوئی تھی لیکن یہ کیس معمولی تھا کرکٹرز آسانی سے چھوٹ جاتے مگربعض سینئرز نے اپنی بغض نکالنے کیلیے اسے بڑھاوا دیا''۔
اس'' ماری جوانا'' یا ''میروانا'' کا دوبارہ ذکر اب احمد شہزادکے حوالے سے سننے میں آیا ہے، جب میں نے خبر بریک کی تو اس میں یہ نہیں لکھا کہ اوپنر نے کون سی ممنوعہ شے استعمال کی کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ مجھے خود اس کا پتا نہیں تھا، البتہ کئی ذرائع یہ تصدیق کر چکے تھے کہ مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعد احمد شہزاد اب پابندی کا شکار ہونے والے ہیں، بعد میں ٹی وی میزبان زینب عباس نے اس حوالے سے ٹویٹ کی، پھر دیگر میڈیا نے بھی بتایا کہ احمدشہزاد کا ٹیسٹ ''میروانا'' کی وجہ سے مثبت آیا ہے،پی سی بی تاحال اس حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے شاید قوانین اسے اجازت نہیں دیتے کہ فی الوقت کھلاڑی کا نام ظاہر کیا جائے، ایک بات تو طے ہے کہ ڈوپنگ کا شکار احمد شہزاد ہوئے۔
ان کا ٹیسٹ پاکستان کپ کے دوران ہوا تھا جس میں انھوں نے بلوچستان کی قیادت کے فرائض نبھائے تھے، جب تک بورڈ نہیں بتاتا وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ احمد شہزاد کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ کیا تھی، مگر غلطی یقیناً انہی کی ہوگی،آج کل کے دور میں کھلاڑیوں کو ہر وقت معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ کون سی دوا یا چیز استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں، انگریزی کے ساتھ اردو زبان میں بھی فہرست دی جاتی ہے، کرکٹرز کو کوئی بھی دوا بورڈ کے ڈاکٹر کو بتائے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، کچھ عرصے قبل یاسر شاہ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا تو انھوں نے جواز دیا تھا کہ '' غلطی سے اہلیہ کی بلڈ پریشر کی دوا استعمال کر لی تھی'' اس سے دیگر کو سبق لینا چاہیے تھا مگر افسوس ایسا نہیں ہوا، کوئی جونیئر ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ نیا آیا ہے۔اس لیے غلطی کر گیا، مگر سینئر کے معاملے میں کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔
احمد شہزاد ان دنوں ویسے ہی کیریئر کے مشکل دور سے گذر رہے تھے یہ غلطی ان کے کیریئر پر فل اسٹاپ لگا سکتی ہے، وہ انتہائی باصلاحیت بیٹسمین تھے مگر سوشل میڈیا پر سیلفیز پر زیادہ توجہ، آف دی فیلڈ مصروفیات اور دماغی طور پر سپر اسٹار بننے سے کیریئر پر زوال آ گیا، اب اگر ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت نہیں آتا تو بھی خراب پرفارمنس کی وجہ سے وہ شاید ٹیم سے باہر ہو جاتے، نئے کھلاڑی تیزی سے پاکستانی ٹیم میں جگہ مستحکم کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ڈسپلن کے مسائل بھی نہیں پھر کوئی کیوں احمد شہزاد کو منتخب کرے گا، پی ایس ایل میں بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ان کی ''مصروفیات'' سے تنگ آ کرکہا تھا بھائی ہمیں چھوڑ دو، اب وہ پاکستانی ٹیم سے بھی باہر ہو گئے، احمد شہزاد کو خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ان سے کیا غلطیاں ہوئیں۔
جس کی وجہ سے یہ دن دیکھنا پڑا،انھوں نے برطانوی ماہر نفسیات کی بھی خدمات حاصل کی تھیں مگر اس کا بھی کچھ فائدہ نہ ہوا، 2009میں کیریئر کا آغاز کرنے کے باوجود وہ 9 سال میں کرکٹ اسٹار کا روپ نہ دھار سکے،13 ٹیسٹ،81 ون ڈے اور 57 ٹوئنٹی 20میں مجموعی طور پر صرف 10ہی سنچریاں ان کے نام پر درج ہو سکیں جو کسی اوپنر کے لحاظ سے بیحد کم ہیں، ان کے ساتھ کیریئر شروع کرنے والے کھلاڑی آج کہاں سے کہاں نکل گئے مگر احمد تنازعات میں ہی گھرے نظر آتے ہیں، ہاں اس دوران آف دی فیلڈ انھوں نے خوب نام بنایا، سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز بنائے کاش اس کے بجائے ہزاروں رنز بنانے پر ہی توجہ دیتے،انھوں نے سیکڑوں سیلفیز بنائیں ،کاش اس کے بجائے سنچری بنا کر بیٹ لہراتے ہوئے تصاویر بنواتے، میں احمد شہزاد کو بہت پسند کرتا تھا۔
وہ بھی دوسروں کی عزت کرنے والے انسان ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انھیں ایسے لوگ نہ ملے جو درست رہنمائی کر کے کیریئر کو آگے بڑھاتے، اگر آپ خوشامدیوں میں گھرے رہیں تو اپنی اصلاح کا وقت نہیں ملتا، شاید احمد شہزاد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اب نجانے انھیں کتنے عرصے تک پابندی بھگتنا پڑے گی،بورڈ کو فوراً وضاحت کرنا چاہیے ورنہ افواہوں کا سلسلہ مزید بڑھتا جائے گا، ایک انتہائی باصلاحیت کرکٹر کس طرح اپنے کیریئر کو ختم کر رہا ہے یہ دیکھنا ناقابل برداشت ہے،البتہ ایک امید کی کرن اب بھی موجود ہوگی، احمد شہزاد کی عمر 26 سال ہے، وہ خود اپنا محاسبہ کریں، جب اسپاٹ فکسنگ کرنے والے کھلاڑی واپس آ سکتے ہیں تو اوپنر کو بھی موقع ملنا ناممکن نہیں، اس کیس سے سبق سیکھیں، جتنی بھی سزا ملے وہ بھگت کر نیا احمد شہزاد بن کر واپس آئیں، ہم تو جیل جانے والے کھلاڑیوں کو گلے لگا کر دوبارہ ہیرو بنا دیتے ہیں، آپ بھی اپنے ہی ہیں، مگر جب تک کوئی خود سدھرنا نہ چاہے دنیا بھر کے لوگ مل کر بھی اسے نہیں سدھار سکتے، احمد شہزاد بھی پہلے خود سوچیں کہ کیا واقعی انھیں دوسرا چانس چاہیے بھی یا نہیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliqپر فالو کر سکتے ہیں)