الیکشن کو ہائی جیک کرنے اور طالبان حامی وزیراعظم لانے کی سازش ہو رہی ہے ایم کیو ایم پی پی پی اے این پی

صدر زرداری، الطاف حسین اور اسفندیار نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

صدر زرداری، الطاف حسین اور اسفندیار نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. فوٹو : فائل

پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی نے الزام لگایا ہے کہ انتخابات کیخلاف سازش ہو رہی ہے، اس سازش میں پاکستانی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ ملوث ہے۔

ملک کی بقا کیلیے قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ الیکشن کمیشن جھرلو الیکشن کی اجازت نہ دے، فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہمیں جلسے جلوسوں سے روک کر دائیں بازو کی جماعتوں کو کھلا میدان دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رحمن ملک نے کہا کہ طالبان کا حامی وزیر اعظم لانے کی سازش کی جا رہی ہے، صدر زرداری، الطاف حسین اور اسفندیار نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انھوں نے ایک ہی حکمت عملی بنائی ہے، دہشت گردوں کیخلاف آخری دم تک لڑیں گے، لگتا ہے پروطالبان جماعتوں کا طالبان سے غیر تحریری معاہدہ ہے، شاہی سید نے کہا ہے کہ تحریک طالبان3 جماعتوں کو نام لیکر نشانہ بنا رہی ہے، پی ٹی آئی اور ن لیگ کوکھل کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے، ہم دہشت گردوں سے ڈر کر بیٹھنے والے نہیں ، ہماری آپس کی لڑائی کوکمزوری نہ سمجھا جائے، کراچی میں رات گئے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پرملاقات کے بعد ایم کیو ایم کے فاروق ستار،اے این پی کے شاہی سید اور پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ہنگامی پریس کانفرنس کا مقصد عوام کومبینہ سازش سے آگاہ کرنا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ انتخابات2013کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں یقین کی حد تک گمان ہے کہ اس میں پاکستانی اور بین الاقوامی اسٹیبلمشنٹ ملوث ہیں، پاکستان کو غیر منصفانہ انتخابات کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم انتخابات کا بائیکاٹ کریں یا کرنے پر مجبور ہوں، ہمارے کارکنوں کو نشانہ بناکر انتخابات منعقد کروانا ناانصافی کے مترادف ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا یکساں موقع فراہم نہیں کیا جا رہا، دائیں بازو کی جماعتوں کو الیکشن لڑنے کیلیے کھلا میدان دیا گیا ہے۔

دائیں بازو، رجعت و قدامت پسند جماعتوں کو آگے لانے کی سازش کی جارہی ہے، ملک کو غیر منصفانہ الیکشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے ، کوشش کی جارہی ہے کہ انتخابی مہم اور جلسے جلوس نہ کر سکیں ، انھوں نے مطالبہ کیا الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کرے ، لکیر کھینچ کر روشن خیال اور لبرل جماعتوں کو پیغام دیاگیا ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن جھرلو الیکشن کی اجازت نہ دے۔ پاکستان کو جانبدارانہ انتخابات کی جانب لے جایا جا رہا ہے،تمام سیاسی جماعتوں کوانتخاب لڑنے کایکساں موقع ملنا چاہیے،دائیں بازوکی جماعتوں کو کھلامیدان دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، قانون نافذکرنے والے ادارے اورنگراں حکومت انتخابات کاانعقادشفاف بنائیں۔ اس موقع پر اے این پی کے رہنما شاہی سید نے کہا کہ سب سے پہلے اسلام پھر ملک اور تیسرے نمبر پر ہمارے قائد ہیں۔




 

دہشت گرد کرایے کے ٹٹو ہیں جوکسی اورکا ایجنڈا ہمارے اوپر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ سامنے اندھیرا دیکھ رہے ہیں جو پاکستان کیلیے بھی خطرناک ہے۔ قوم پر حملے کرنے والوں کو پارلیمنٹ میں فیصلوں کا اختیار نہیں دے سکتے، ہم اسکی اجازت نہیں دے سکتے کہ دہشت گرد پارلیمنٹ کا فیصلہ کریں۔ اسلام کی بقا اور ملک کے تحفظ کیلیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، ہم پہلے بھی قربانی کیلیے تیار تھے، ن لیگ اور پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی مکمل آزادی دے دی گئی ہے، ہماری بہنوں اور جوانوں کو مارا جائے ، ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی، ہم دہشت گردوں کے ڈر سے بیٹھنے والے نہیں، تحریک طالبان ہم تین سیاسی جماعتوں کو نام لیکرنشانہ بنا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی نے پیغام دیا کہ متحدہ اور اے این پی، پیپلز پارٹی الیکشن نہ لڑیں ، ہماری آپس کی لڑائی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ایسی قوتوں کیخلاف کام کرنا ہر پاکستانی اور مسلمان کا فرض ہے۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے، کراچی کا امن تباہ کرنیکے لییکیا کچھ نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم نے دہشت گردوں کیخلاف جنگ لڑنے کا مشترکہ عزم کیا ہے۔ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروائے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ طالبان کا حامی وزیر اعظم لایا جائے۔ پاکستان توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے،دشمن دہشت گردی کرتے تو اور نام اے این پی اور متحدہ کا لگتا تھا ، ایک بلا لیکر گھوم رہا ہے اور دوسرا کھلونا شیر گلے میں لٹکائے پھر رہا ہے، طالبان حامی جماعتوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ غلط ہے، پروطالبان والے پانچ سال وزیر اعلیٰ رہتے ہیں مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا ، دہشت گردوں کو پناہ دینے والے نواز شریف اور شہباز شریف کوکیا نام دوں۔ لاہور میں عوامی عدالت میں جا کر ن لیگ کے خلاف ثبوت پیش کروں گا۔ طالبان کی دھمکیوں اور بموں سے نہیں ڈریں گے ، دہشت گردوں کی سازش ملک توڑنے کی ہے ۔اگر ہم آج بیٹھ گئے تو کبھی کھڑے نہیں ہو سکیں گے ۔

لشکر جھنگوی کے دہشتگ ردوں کو پنجاب میں پکڑا جاتا تو آج کراچی جل نہ رہا ہوتا ۔ میں نے ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ملک توڑنے کی سازشوں کی پہلے ہی پیشگوئی کردی تھی، یہ الیکشن طالبان کے حمایت یافتگان اور طالبان مخالفین کے درمیان ہو رہے ہیں۔ ایک طرف بڑے بڑے جلسے اور دوسری طرف دھماکے ہو رہے ہیں، پرو طالبان پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا ایجنڈا ایک ہے، قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا سوداکر دیا گیا ہے۔ کراچی کو غیر مستحکم کرنے کا مطلب پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، موجودہ حالات قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہیں، دہشت گردوں کیخلاف کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ دہشت گرد ملک کو توڑنا چاہتے ہیں، الطاف حسین نے ایک سال پہلے طالبانائزیشن سے آگاہ کر دیا تھا۔

صدر زرداری،الطاف حسین، اسفندیارنے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیاہے،پیپلزپارٹی، اے این پی اورایم کیو ایم کومشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا اسنفدیار، الطاف حسین اورآصف زرداری نے ایک ہی حکمت عملی بنائی ہے ، دہشت گرد ملک کو توڑناچاہتے ہیں، طالبان حامی وزیر اعظم لانے کی سازش کی جارہی ہے ۔باقی صوبوں میں بم پھٹ رہے ہیں لیکن پنجاب میں کچھ نہیں ہوتا۔ اے این پی ، متحدہ اور پیپلز پارٹی کی بات ہو تو فوری فیصلے کیے جاتے ہیں اور پروطالبان جماعتوں کو کوئی پوچھتا نہیں ۔ رحمان ملک نے دعویٰ کیا کہ لشکر جھنگوی اورطالبان کیخلاف پنجاب میں کارروائی ہوتی توکراچی نہ جلتا، میں نے ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی پہلے ہی نشان دہی کردی تھی۔
Load Next Story