امریکی پابندیوں کا بوجھ برداشت کرنے کا ایرانی عزم
ایرانی عزم قابل ستائش اور دنیا کی آزاد اور خوددار ریاستوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے
ایرانی عزم قابل ستائش اور دنیا کی آزاد اور خوددار ریاستوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔ فوٹو:فائل
KARACHI:
ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران پر معاشی پابندیوں کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں خبر ہے کہ واشنگٹن اسی ماہ سے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کرنے والا ہے۔
ایسے میں ایرانی صدر حسن روحانی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت نئی امریکی پابندیوں کے بعد پڑنے والے اقتصادی دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امریکا کے حالیہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مستقل ایسے بیانات اور پالیسیوں کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جس سے دنیا کے دیگر ممالک سخت مضطرب ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ جلد بازی اور احمقانہ پالیسیاں خود امریکا کے لیے سم قاتل ثابت ہوں گی جب کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کو بھی ٹرمپ کی بڑی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر روحانی نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی جانے والی اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ''یہاں تک کہ بدترین حالات میں بھی، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایرانیوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی جاری رہے گی، ہمارے پاس چینی، گندم اور پکانے کے لیے استعمال ہونے والا تیل وافر مقدار میں موجود ہے، کاروبار کی منڈی کو سہارا دینے کے لیے ہمارے پاس غیر ملکی کرنسی بھی مناسب تعداد میں ہے''۔ روحانی کے بقول نئی امریکی پابندیاں نفسیاتی، اقتصادی اور سیاسی جنگ کا حصہ ہیں اور واشنگٹن کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس معاہدے سے الگ ہونا ایسی بڑی غلطی تھی، جو ٹرمپ کرسکتے تھے، یہ ہولناک غلطی تھی، اس وجہ سے عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ متاثر ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکا نے مئی میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک جن میں جرمنی، فرانس، روس، برطانیہ اور چین شامل ہیں، اسے بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی مفادات کے منافی قوانین کا مقابلہ کرنے سے متعلق یورپی یونین کے قانون پر عملدرآمد کی طرف اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون یورپی یونین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے مقابلے میں یورپی کمپنیوں کی حفاظت کرے۔ اپنی ریاست کی خودداری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے اور امریکی پابندی کے دباؤ کو برداشت کرنے کا ایرانی عزم قابل ستائش اور دنیا کی آزاد اور خوددار ریاستوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران پر معاشی پابندیوں کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں خبر ہے کہ واشنگٹن اسی ماہ سے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کرنے والا ہے۔
ایسے میں ایرانی صدر حسن روحانی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت نئی امریکی پابندیوں کے بعد پڑنے والے اقتصادی دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امریکا کے حالیہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مستقل ایسے بیانات اور پالیسیوں کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جس سے دنیا کے دیگر ممالک سخت مضطرب ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ جلد بازی اور احمقانہ پالیسیاں خود امریکا کے لیے سم قاتل ثابت ہوں گی جب کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کو بھی ٹرمپ کی بڑی غلطی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر روحانی نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی جانے والی اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ''یہاں تک کہ بدترین حالات میں بھی، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ایرانیوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی جاری رہے گی، ہمارے پاس چینی، گندم اور پکانے کے لیے استعمال ہونے والا تیل وافر مقدار میں موجود ہے، کاروبار کی منڈی کو سہارا دینے کے لیے ہمارے پاس غیر ملکی کرنسی بھی مناسب تعداد میں ہے''۔ روحانی کے بقول نئی امریکی پابندیاں نفسیاتی، اقتصادی اور سیاسی جنگ کا حصہ ہیں اور واشنگٹن کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس معاہدے سے الگ ہونا ایسی بڑی غلطی تھی، جو ٹرمپ کرسکتے تھے، یہ ہولناک غلطی تھی، اس وجہ سے عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ متاثر ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکا نے مئی میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک جن میں جرمنی، فرانس، روس، برطانیہ اور چین شامل ہیں، اسے بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ نے بھی مفادات کے منافی قوانین کا مقابلہ کرنے سے متعلق یورپی یونین کے قانون پر عملدرآمد کی طرف اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون یورپی یونین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے مقابلے میں یورپی کمپنیوں کی حفاظت کرے۔ اپنی ریاست کی خودداری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے اور امریکی پابندی کے دباؤ کو برداشت کرنے کا ایرانی عزم قابل ستائش اور دنیا کی آزاد اور خوددار ریاستوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔