ہفتے میں دو چھٹیاں کیوں
مبصرین کے مطابق بھی گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنا اور دو چھٹیوں کا اعلان سودمند کم اور نقصان دہ زیادہ رہا
مبصرین کے مطابق بھی گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنا اور دو چھٹیوں کا اعلان سودمند کم اور نقصان دہ زیادہ رہا: فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
دنیا کی اکثر ریاستوں میں اپنے عوام کو ہفتہ وار تعطیل کے طور پر محض ایک دن کی چھٹی مرحمت کی جاتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں زیادہ چھٹیاں نہ صرف معیشت کے لیے سم قاتل ہیں بلکہ کام کے لحاظ سے عوام کے مزاج پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، انسان کے آرام کے لیے ہفتہ وار ایک ہی چھٹی کافی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں انرجی کرائسس کے نام پر نہ صرف گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹے آگے پیچھے کرنے کا لایعنی فیصلہ کیا گیا بلکہ بجلی کی بچت کا بہانہ بنا کرہفتہ میں ایک کے بجائے دو چھٹیاں کردی گئیں۔
ہوسکتا ہے اس وقت کے تناظر میں یہ فیصلہ درست ہو لیکن ایک دن کی اضافی چھٹی سے نہ صرف معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے بلکہ معاشرتی طور پر آرام طلب قوم کو جمعہ سے ہی چھٹی کرنے کا بہانہ مل گیا۔ کیونکہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں عوام جمعہ کے دن سے ہی تساہل پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنے کاموں سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور ہفتہ اتوار ملا کر یہ تین دن کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں۔ جب کہ کاروباری طبقہ اور صنعتی حلقے ابتدا ہی سے ہفتہ کی چھٹی کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ بینک بند ہونے کی وجہ سے لین دین ممکن نہیں ہوپاتا جب کہ یہ چھٹی باقی دنیا سے تجارتی حوالے سے بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ہفتے میں دو چھٹیوں کا فیصلہ کسی بھی طور سودمند ثابت نہیں ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق بھی گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنا اور دو چھٹیوں کا اعلان سودمند کم اور نقصان دہ زیادہ رہا، کیونکہ جتنی مدت سے دو چھٹیاں نافذ ہیں اس مدت میں ہونے والا نقصان ناقابل تلافی ہے۔
اس فیصلے سے ملک کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔ صائب ہوتاکہ یہ غیر دانشمندانہ فیصلہ لینے کے بجائے حکومت بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ سے نجات کے لیے راست لائحہ عمل مرتب کرتی لیکن دو چھٹیوں کے فیصلے سے معیشت جو پہلے ہی زخمی ہے اس پر کاری ضرب لگائی گئی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً حکومت کی جانب سے ہفتہ کی دو چھٹیاں واپس لینے سے متعلق سمری بھی پیش کی جاتی رہی لیکن کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ بہرحال وقت بدل چکا ہے، اب ملک میں انرجی کرائسس کی وہ صورتحال بھی باقی نہیں رہی جس کے تناظر میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا، اس لیے صائب ہوگا کہ ہفتے میں دو دن کی چھٹی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے صرف ایک دن یعنی اتوار کو چھٹی دی جائے۔
دنیا کی اکثر ریاستوں میں اپنے عوام کو ہفتہ وار تعطیل کے طور پر محض ایک دن کی چھٹی مرحمت کی جاتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں زیادہ چھٹیاں نہ صرف معیشت کے لیے سم قاتل ہیں بلکہ کام کے لحاظ سے عوام کے مزاج پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، انسان کے آرام کے لیے ہفتہ وار ایک ہی چھٹی کافی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں انرجی کرائسس کے نام پر نہ صرف گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹے آگے پیچھے کرنے کا لایعنی فیصلہ کیا گیا بلکہ بجلی کی بچت کا بہانہ بنا کرہفتہ میں ایک کے بجائے دو چھٹیاں کردی گئیں۔
ہوسکتا ہے اس وقت کے تناظر میں یہ فیصلہ درست ہو لیکن ایک دن کی اضافی چھٹی سے نہ صرف معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے بلکہ معاشرتی طور پر آرام طلب قوم کو جمعہ سے ہی چھٹی کرنے کا بہانہ مل گیا۔ کیونکہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں عوام جمعہ کے دن سے ہی تساہل پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنے کاموں سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور ہفتہ اتوار ملا کر یہ تین دن کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں۔ جب کہ کاروباری طبقہ اور صنعتی حلقے ابتدا ہی سے ہفتہ کی چھٹی کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ بینک بند ہونے کی وجہ سے لین دین ممکن نہیں ہوپاتا جب کہ یہ چھٹی باقی دنیا سے تجارتی حوالے سے بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ہفتے میں دو چھٹیوں کا فیصلہ کسی بھی طور سودمند ثابت نہیں ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق بھی گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنا اور دو چھٹیوں کا اعلان سودمند کم اور نقصان دہ زیادہ رہا، کیونکہ جتنی مدت سے دو چھٹیاں نافذ ہیں اس مدت میں ہونے والا نقصان ناقابل تلافی ہے۔
اس فیصلے سے ملک کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔ صائب ہوتاکہ یہ غیر دانشمندانہ فیصلہ لینے کے بجائے حکومت بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ سے نجات کے لیے راست لائحہ عمل مرتب کرتی لیکن دو چھٹیوں کے فیصلے سے معیشت جو پہلے ہی زخمی ہے اس پر کاری ضرب لگائی گئی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً حکومت کی جانب سے ہفتہ کی دو چھٹیاں واپس لینے سے متعلق سمری بھی پیش کی جاتی رہی لیکن کبھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ بہرحال وقت بدل چکا ہے، اب ملک میں انرجی کرائسس کی وہ صورتحال بھی باقی نہیں رہی جس کے تناظر میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا، اس لیے صائب ہوگا کہ ہفتے میں دو دن کی چھٹی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے صرف ایک دن یعنی اتوار کو چھٹی دی جائے۔