آبی بحران

حکمران اشرافیہ پانی کے بحران پر تو بیانات دیتی رہی مگر اس نے عملی طور پر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔

حکمران اشرافیہ پانی کے بحران پر تو بیانات دیتی رہی مگر اس نے عملی طور پر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ فوٹو:فائل

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستان میں پانی کی قلت کے پیش نظر کالا باغ سمیت ملک میں ڈیموں کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہو گئی' اس معاملہ میں ایک کمیٹی یا ٹیم تشکیل دینا پڑے گی' ڈیم پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں' اس حوالے سے چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہیے اور انھیں اس کے لیے قربانی دینا ہو گی۔

کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں' ڈیم کا نام پاکستان ڈیم رکھ لیں' انھوں نے استفسار کیا کہ اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورت حال کیا ہو گی؟ ماہرین ایک عرصے سے پاکستان میں آنے والے آبی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ اس مسئلے کو اولین ترجیح میں شامل کرتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی جائے۔

حکمران اشرافیہ پانی کے بحران پر تو بیانات دیتی رہی مگر اس نے عملی طور پر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں متعدد ڈیم بنانے کے بعد پاکستانی دریاؤں میں کمی آنے سے جو خطرات ملکی معاشی اور زرعی نظام پر منڈلا رہے ہیں اس نے آج سپریم کورٹ کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ حکمرانوں اور سیاستدانوں پر تکیہ کرنے کے بجائے آگے بڑھ کر اس مسئلے کے حل کے لیے ازخود کوئی قدم اٹھائے۔


ملک میں زیرزمین پانی کے میٹھے ذخائر میں بھی تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ کیس کے دوران سپریم کورٹ کو سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے بتایا کہ بلوچستان کی خشک سالی کی نشاندہی 10سال قبل کر دی تھی' کالا باغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سالانہ 196ارب روپے کا ملکی نقصان ہو رہا ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ماضی میں ڈیموں کے بجائے 300فیصد زائد قیمت پر تھرمل اسٹیشن بنائے گئے جب کہ ملک کو درجنوں ڈیموں کی ضرورت ہے' دنیا میں 46ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں' چین میں22ہزار جب کہ بھارت ساڑھے چار ہزار ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔

پانی پاکستان کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے اس معاملے کو بہت سنجیدہ لیتے ہوئے ملک کے بہترین مفاد میں اس کا مناسب حل نکالنا چاہیے۔ پاکستان میں آنے والے آبی بحران پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت واٹر پالیسی کو موثر بنائے اور تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر ڈیموں کی تعمیر کا آغاز جلد از جلد کرے۔

ڈیمز کی تعمیر کے لیے آئی ایم ایف پر انحصار کرنے کے بجائے اگر حکومت اندرون ملک فنڈنگ کے لیے عوامی مہم چلائے تو امید ہے کہ اس کے پاس اس کے لیے خطیر سرمایہ اکٹھا ہو جائے گا جس سے ڈیمز کی تعمیر کا فوری آغاز کیا جا سکتا ہے۔
Load Next Story